ڈیری فارمرز نے خشک دودھ پر پابندی کا مطالبہ کر دیا

الرٹ نیوز : ڈیری فارمرز نے حکومت سے خشک دودھ کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے جب کہ ڈیری فارمرز کے لئے ریلیف پیکیج بھی مانگ لیا ہے تا کہ مقامی ڈیری صنعت کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکے ۔

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کی جانب سے اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان کو ایک خط ارسال کیا گیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات اور کھپت کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی قوم تازہ دودھ کے استعمال کی عادی ہے ، جو اس پاؤڈر دودھ کے مقابلے میں تازہ اور صحت سے بھرپور ہوتا ہے ۔

مذید پڑھیں : دودھ اور گوشت کے کاروباریوں کو پابندی سے مستثنی قرار دیں ، ڈیری فارمز

سپریم کورٹ کے قائم کردہ تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش کی تھی کہ دودھ کے زیادہ تر برانڈز ذائقہ تیار کرنے اور اس کی شیلف زندگی کو طول دینے کے لئے فارملین ، کین شوگر اور تیل میں ملاوٹ کی وجہ سے انسانی استعمال کے لئے غیر محفوظ ہیں ۔ میڈیا رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ برانڈز کسانوں سے تھوڑی مقدار میں دودھ خریدتے ہیں اور بغیر کسی ٹریک ایبلٹی کے اعلی مقدار میں فروخت کرتے ہیں۔

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر شاکر عمر گجر کے مطابق پاکستان کو دنیا کا چوتھا بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک قرار دیا گیا ہے جس کو دودھ کے پاؤڈر کی درآمد کی ضرورت نہیں ہے ، ایک جانب مویشیوں اور دودھ کا شعبہ زرعی جی ڈی پی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور دیہی علاقوں میں روزگار کا زیادہ تر دار و مدار اسی شعبے پر ہے ۔

مذید پڑھیں :‌ گجر ڈیری فارم نے 3 دن تک دودھ کی قیمت 90 روپے مقرر کردی

حالیہ صورتحال میں ڈیری سیکٹر کو منافع کی صورتحال کا سامنا نہیں ہے لیکن وہ خدمات کی فراہمی ، ان کے کاروبار اور روزگار کو برقرار رکھنے کے لئے پرعزم ہیں ، یہ ایک اچھی علامت ہے ، تاہم ہم مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مندرجہ ذیل معاملات پر حکومتی مدد اور ریلیف پیکیج کی مانگ کرتے ہیں ۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ خشک دودھ کی در آمد پر مکمل پابندی عائد کی جائے ، ڈیری فارمرز کو یوٹیلیٹی بلز پر سبسڈی فراہم کی جائے ، تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ مویشی منڈیوں / جانوروں کے بازاروں کو کھولنے کی اجازت دی جائے اور مقامی ضرورت پوری ہونے تک گندم کے بھوسے اور دیگر ونڈا کوالٹی اجناس دیگر فیڈ کی اشیا کی برآمد پر پابندی عائد کی جائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *