مفتی منیب الرحمن نے حکومت سندھ کو چیلنج دے دیا

الرٹ نیوز : مفتی منیب الرحمن نے سندھ حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ لیاقت آباد غوثیہ مسجد کے امام کیخلاف بے بنیاد پروپیگنڈا بند کریں بصورت دیگرسوچنے ہر مجبور ہونگے ۔

امام پر دہشت گردی اور لوگوں کو اکسانے کا جھوٹا الزام اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ مولانا رحیم داد ایک خاموش طبع اور شریف الطبع انسان ہیں ۔ جامع مسجد غوثیہ لیاقت آباد کے ناخوشگوار واقعے کے بارے میں مفتی منیب الرحمن نے بیان دیتے ہوئے کہا ”میں نے غیر جانبدار ذرائع سے معلومات حاصل کی ہیں ۔

جامع مسجد غوثیہ لیاقت آباد کے امام و خطیب مولانا رحیم داد ایک خاموش طبع اور شریف النفس انسان ہیں ۔ انہوں نے لاؤڈ اسپیکر کے بغیر نماز جمعہ پڑھائی ہے ۔ انہوں نے لاؤڈ اسپیکر پر لوگوں کو نہیں اکسایا، پولیس نے خود پہل کی ، لوگوں پر تشدُّد شروع کیا اور ردِّ عمل میں عوام نے محاذ آرائی شروع کی۔

مذید پڑھیں : مفتی منیب کی دھمکی کے بعد آئمہ پرقائم مقدمات واپس لے لیئے گئے

اس اثناء میں امام نے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کیا کہ ”میں مسجد کا امام آپ سے مخاطِب ہوں ، آپ لوگ پر امن طریقے سے گھروں کو چلے جائیں”۔ اس کا وڈیو کلپ بھی موجود ہے ، اس کے باوجود کئی ٹی وی چینل جھوٹی خبر نشر کرتے رہے کہ امام نے لوگوں کو اکسایا، یہ ایک خطرناک وبا کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کے غیظ وغضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔

جان بوجھ کر تسلسل کے ساتھ دینی شخصیات اور دینی علامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”میں ایڈیشنل آئی جی سندھ اور ایس ایس پی لیاقت آباد سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے اور امام کے خلاف کوئی شواہد ملیں تو ہمیں بھی دکھائے جائیں ۔

نیز امام صاحب کے خلاف جھوٹے الزامات واپس لے کر انہیں باعزت طور پر رہا کیا جائے ۔ حیرت کی بات ہے کہ صوبائی وزیر ناصر شاہ ایک طرف تو علماء کے تعاون کا شکریہ ادا کر رہے ہیں اور دوسری جانب ان پر جھوٹے مقدمات بنا رہے ہیں، اس سے باہمی اعتماد کی فضا کو نقصان پہنچے گا ۔ اور حکومت سب کے اعتماد سے اس آفت کا مقابلہ کرنے کے جو دعوے کر رہی ہے، وہ غلط ثابت ہوں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *