فیصل آباد میں قادیانیوں کی فائرنگ سے 17مسلمان شدیدزخمی

الرٹ : فیصل آباد : تھانہ بلوچنی کے علاقہ 69 ر۔ب گھسیٹ پورہ میں قادیانیوں کی فائرنگ سے 17مسلمان شدیدزخمی ہو گئے ۔جوابی کارروائی میں قادیانیوں کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچا جبکہ پانچ قادیانی بھی زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو الائیڈ، ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو کھرڑیانوالہ میں شفٹ کر کے طبی سہولیات دی جا رہی ہیں جبکہ پولیس نے دونوں اطراف کے سرکردہ افراد سمیت 70 نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ پولیس کے مطابق مقامی امام مسجد کا بھائی مدثر ولد رفیق اپنے بھائی عاصم کے ہمراہ موٹرسائیکل پر جا رہا تھا کہ اچانک قادیانیوں کی مرغی اس کی موٹر سائیکل کے آگے آ گئی ۔ مرغی بچ گئی لیکن اسے بہانہ بنا کر قادیانی گروپ مسلح ہو کر آ گیا اور فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے وقاص ولد نیامت، نبیل ولد برکت، اویس ولد گلزار، امجد علی ولد اشرف، ناصر علی ولد باغ علی، محمد طیب ولد اشرف، شان علی ولد جماعت علی، عبدالرحمن ولد اسماعیل، ساجد سلیم ولد احمد علی، مبین ولد لیاقت، الیاس ولد مبارک علی، محمد مرتضیٰ ولد یعقوب اور شہباز ولد اشرف زخمی ہو گئے جس کے بعد ہجوم نے اکٹھے ہو کر قادیانیوں کی عبادت گاہ پر حملہ کر کے وہاں توڑ پھوڑ کی اور سامان کو آگ لگا دی جس کے نتیجے میں سرفراز ولد راشد، طاہر ولد عالم، عامر ولد داﺅد، وقاص ولد اعجاز اور شوکت ولد یوسف زخمی ہو گئے۔ پولیس نے موقع سے گولیوں کے خول اور جلا ہوا سامان قبضے میں لے کر مسلمانوں کی طرف سے مدثر ولد رفیق، عاصم ولد رفیق، شہباز ولد یعقوب، اصغر ولد جماعت علی، شہزاد ولد یعقوب، ہمایوں ولد مشتاق، غلام نبی ولد غلام علی، محمد وسیم ولد صدیق سمیت 70، 80 نامعلوم افراد جبکہ قادیانیوں کی طرف سے راشد، شکیل ولد انور، شاہین، مین ولد عبدالجبار، طلحہ ولد نعیم، بلال ولد جمیل، بلال ولد اعجاز، زین ولد بشارت سمیت 70، 80 نامعلوم افراد کے خلاف ایک دوسرے پر فائرنگ اور زخمی کرنے کے مقدمات درج کر لیے ہیں جبکہ مسلمانوں پر عبادت گاہ کی توڑ پھوڑ کے الزام میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم دونوں اطراف سے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

واقعہ کا پس منظر

معلوم رہے کہ چک نمبر 69ج۔ب گھسیٹ پورہ تھانہ بلوچنی کی حدود میں معروف انڈسٹریل علاقہ کھرڑیانوالہ کے قریب واقع ہے ۔ یہاں پر قیام پاکستان کے وقت قادیانیوں کی کافی زیادہ تعداد آباد ہوئی تھی جس کے بعد یہاں قادیانیوں کی آبادی 20 سے 25 فیصد تک ہے۔ چند برس قبل اس علاقہ میں قادیانیوں کی طرف سے آئین پاکستان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تبلیغ کرتے ہوئے ایک مسلمان خاندان کو مرتد کرنے کے بعد حالات کشیدہ ہوئے تھے۔ بعد ازاں قادیانیوں نے غیر قانونی طور پر اپنی عبادت گاہ کی تعمیر شروع کر دی جس کے خلاف اہل علاقہ نے قانون نے دروازہ کھٹکھٹایا تاہم معاملہ ابھی تک جوں کا توں تھا کہ گزشتہ روز یہ نیا واقعہ پیش آ گی ہے ۔

 

قادیانیوں کا موقف

قادیانیت نواز میڈیا حسب سابق اس واقعہ کو بھی پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف تعصب کے طور پر پیش کرتا رہا ۔ قادیانی جماعت کے ترجمان سلیم الدین نے کہا کہ احمدیوں کے خلاف اس نوعیت کی کارروائیاں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ گزشتہ روز بھی تین سے چار سو شرپسند عناصر کے ہجوم نے احمدیہ عبادت گاہ پر حملہ کیا اور فائرنگ کی جس سے احمدیوں نے بمشکل جانیں بچائیں۔ فائرنگ سے پانچ احمدی زخمی ہو گئے۔ علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر قادیانیوں کی جانب سے اسے طنزیہ طور پر ”نیا پاکستان کا تحفہ“ کے عنوان سے بھی پیش کیا جاتا رہا۔

پولیس کا موقف

تھانہ بلوچنی کے ایس ایچ او زاہد عباس کے مطابق قادیانیوں نے معمولی تنازعہ پر مسلمانوں کے گھروں پر حملہ کیا۔ جس کے بعد مسلمان اکٹھے ہوئے اور انہوں نے قادیانی عبادت گاہ پر پتھر پھینکے اور نعرے لگائے۔ جس کے بعد عبادت گاہ کے اندر سے فائرنگ شروع ہوئی اور مسلمان زخمی ہوئے۔ ایس ایچ او کے مطابق اگر پولیس موقع پر نہ پہنچتی تو حالات مزید خراب ہو سکتے تھے۔انہوں نے قادیانی پریس کی طرف سے قادیانی گھروں کو آگ لگانے کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہ کے علاقہ قادیانیوں کی کسی بھی املاک کو نقصان نہیں پہنچا۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی ایسی تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔

دینی جماعتوں اور وکلاء نمائدوں کی مذمت

گھسیٹ پورہ میں قادیانیوں کی جانب سے کھلے عام آئین پاکستان کی خلاف ورزی اور مسلمانوں کے خلاف غنڈہ گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے مختلف مذہبی رہنماﺅں نے پولیس کی طرف سے قادیانیوں کی بے جا حمایت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ معروف قانون دان بدیع الزمان بھٹی ایڈووکیٹ، تحریک لبیک کے سٹی صدر میاں اکمل احسان، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقامی رہنما عبدالرشید غازی، مولانا عبدالرحیم چار یاری و دیگر نے کہا کہ قادیانی آئین پاکستان میں اپنی مرضی کی ترمیم نہ ہونے پر بوکھلا کر منفی ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے قادیانیوں کی جرات اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ سرعام آئین کی خلاف ورزی اور اکثریتی مسلمانوں پر تشدد کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی طرف سے بیلنس کرنے کے لیے پرچہ میں مسلمانوں پر زیادہ دفعات لگانا قابل مذمت اور قابل شرم ہے۔بیس سے زائد مسلمان زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 15کی میڈیکل رپورٹ بھی حاصل کر لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی و غیر ملکی خصوصاً انگلش پریس میں صرف جماعت احمدیہ کا موقف دیا جا رہا ہے۔ سرخیوں میں پانچ احمدیوں کے زخمی ہونے کو ہائی لائٹ کر کے انہیں مظلوم بنایا جا رہا ہے جبکہ تفصیل میں سترہ مسلمانوں کا سرسری تذکرہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی جیوڈیشل انکوائری کر کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا موقف

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی امیر مولانا عبدالرزاق اسکندر سمیت دیگر رہنماؤں نے اس واقعہ کو انتظامیہ کی نااہلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قادیانیوں کی جانب سے ہمیشہ ایسی غیر قانونی حرکات کرکے خود کو مظلوم بنانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے ۔لہذاہ ان کے اس غیر قانونی حرکت کے خلاف مقدمہ کے تحت کارروائی کی جائے ۔عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد کے مبلغ مولانا عبدالرشید غازی ۔مرکزی رہنما مولانا اکرم طوفانی ۔ مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کے مبلغ مولانا توصیف احمد ۔عالمی مجلس ضلع جنوبی کے نگران مولانا محمد کلیم اللہ ۔ بنوری ٹاؤن کے استاد مفتی محمد اکمل نے بھی واقعہ کی مذمت اور اس واقعہ میں ملوث قادیانیوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *