عدالتی حکم کے باوجود PMDC کی عمارت نہ کھل سکی

الرٹ نیوز : پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی عمارت کو نہ کھولنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے اس رویے کی وجہ سے ڈاکٹروں کی رجسٹریشن اور طبی تعلیم کو ریگیولیٹ کرنے کیلئے قائم ریگیولیٹری باڈی تا حال غیر فعال ہے ۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر ایس ایم قیصر سجاد نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے درخواست کی کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے پی ایم ڈی سی کو بحال کروائے۔ اس وقت ڈاکٹر کرونا کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہیں ۔ لیکن پی ایم ڈی سی میں ان کی رجسٹریشن کی میعاد ختم ہو چکی ہے ۔ ڈاکٹروں کی رجسٹریشن کے ہزاروں کیس التواء کا شکا رہیں۔ 15000 سے زیادہ نئے گریجوئٹ ڈاکٹر اپنی ہاؤس جاب شروع کرنے کیلئے عارضی رجسٹریشن کا انتظار کر رہے ہیں۔

اگر ان نئے گریجوئٹس کی رجسٹریشن کر دی جائے تو وہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں شامل ہو کر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ اسی طرح بیرون ملک کام کرنے والے ڈاکٹر حضرات بھی پریشانی کا شکار ہیں ، کیونکہ ان کی نہ تو رجسٹریشن کی تجدید ہو رہی ہے اور نہ ہی انہیں گڈ اسٹینڈنگ سرٹیفکیٹ مل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو برخاست کرنے کے بعد ڈاکٹروں کی رجسٹریشن اور میڈیکل ایجوکیشن کی باقاعدگی کیلئے پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) کا قیام عمل میں لائی جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے کے ذریعے پاکستان میڈیکل کمیشن کو برخاست کر دیا ہے اور پی ایم ڈی سی اور اس کے ملازمین کو بحال کردیا۔

انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کر رہی اور اس طرح پی ایم ڈی سی تا حال بحال نہیں ہو سکی۔ پی ایم ڈی سی کا مرکزی دفتر اور تمام علاقائی دفاتر بند پڑے ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے طب کے پیشے سے وابستہ افراد سخت تکلیف اور پریشانی میں مبتلا ہیں۔

پی ایم اے کا کہنا تھا کہ حکوومت کو فوری طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسلام آباد میں قائم پی ایم ڈی سی کا مرکزی دفتر اور صوبوں میں قائم علاقائی دفاتر کھول دینے چاہییں اور رجسٹرار پی ایم ڈی سی کو ایک تہائی ملازمین کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ ڈاکٹروں کے روز مرہ کے مسائل حل ہو سکیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *