لاک ڈاون میں کٹی پہاڑی کا منظر نامہ

تصویر : عمیر اقبال

کٹی پہاڑی کراچی کا ایک دہشت ناک نام تھا ، دن کی روشنی میں لوگ جاتے ہوئے گھبراتے تھے ، ناظم آباد اورنگی لنک روڈ پر واقع کٹی پہاڑی کو اسلی لئے کٹی پہاڑی کہا جاتا ہے یہ پہاڑی کو کاٹ کر ایک سڑک بنائی گئی ہے جس سے یہ علاقہ کٹی پہاڑی کے نام سے جانا جانے لگا ، اس علاقے میں پولیس نے کئی لوگوں کو مقابلے میں کاٹا بھی ہے ،اسی مناسب سے اس کی وحشت میں مذید اضافہ بھی ہوا .

تاہم یہ امن کا سویرا طلوع ہے ،اب یہی راستہ تبلیغی اجتماع کا اہم راستہ بھی یعنی امن کا ضامن علاقہ ہے .

عمیر اقبال نے کراچی کے علاقے کٹی پہاڑی کا یہ منظر اپنے موبائل کیمرے سے سامنے لایا ہے

نظم : سعید الدین

ہمارے شہر کی آبادی کے درمیان
کسی بھی سمجھوتے کے امکان کو مسترد کرتے ہوے
شہر کے شمال مغرب میں
دور تک پھیلی ہوئی پہاڑی میں ایک شگاف ڈال دیا گیا ہے
پہاڑی کو کاٹنے کا یہ اچھوتا خیال
شہر کے کچھ معماروں کے ذہن میں کیا آیا
شہر کے مکانوں کے در و دیوار

اس نئی تفرق کے شور و شر سے
تپ کر سرخ ہو گئے
اور شہر کے اوپر منڈلانے لگے
قسمت آزماؤں کے عزائم
شہر کو اب نئے زاویوں سے دیکھا جانے لگا
اب اس پہاڑی میں
کئی ایک ایسے مقامات دکھائی دینے لگے ہیں

جہاں سے اسے مزید کاٹا
یا کمزور کیا جا سکتا ہے
پہاڑی کے کٹتے ہی
اس پاس کی آبادیوں نے اپنی حدود کو
نئے سرے سے ترتیب دے لیا ہے
کٹاؤ سے شہر میں ہوا کا دباؤ
غیر مستحکم ہو گیا ہے

گاڑیوں کے روٹ بدلنے لگے
جمی جمائی آبادی
متزلزل ہو گئی
بازاروں اور خریداروں کے رنگ روپ
اور چہرے مہرے تبدیل ہو گئے ہیں
لوگ شاہراہوں
مکانوں

پارکوں
اسکولوں اور عبادت گاہوں کو
یوں دیکھنے لگے
جیسے ان کے بیچ بھی انہیں
شگاف دکھائی دینے لگے ہوں
کٹی ہوئی پہاڑی نے
ہم سب کے چہروں کے بیچ

ایک مستقل دراڑ ڈال دی ہے
ان معماروں سے زیادہ
جنہوں نے پہاڑی میں شگاف ڈالا
ہم ہر اس شے سے خوف زدہ ہیں
جس میں بظاہر کوئی شگاف یا دراڑ دکھائی نہیں دیتی
پر جس کے درمیان سے
مستقل جھانک رہی ہے

کٹی ہوئی پہاڑی

مآخذ:
کتاب : aaj (Pg. 343)Author : ajmalمطبع : 316madiina maal ,abdullah haroon road sadar karachi-74400 (2011)اشاعت :
2011

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *