وفاق المدارس ہدف کیوں؟

ایک علاقہ/ضلع ہے جس کے علماء کرام اور اہل مدارس کا آپس کا جوڑ بہت مثالی ہے-اتحاد و یکجہتی،باہمی تعاون و تناصر کی فضا اور ایک دوسرے سے روابط ایسے کہ لوگ رشک کرتے ہیں-کوئ دینی اور ملی ایشو ہو اس علاقے کے علماء،اہل مدارس اور ائمہ و خطباء میدان عمل میں دکھائ دیتے ہیں، حق کا ہر آوازہ اس شہر سے بلند ہوتا ہے،ہر تحریک اسی علاقے سے اٹھتی ہے بلکہ اس علاقے کے علماء ملک بھر کی دینی تحریکوں کے میزبان اور پشتی بان ہوتے ہیں-اکابر اور قیادت کی طرف سے کوئ آواز اٹھے اس شہر سے تعمیل ہوتی ہے-یہ صورت حال صرف آج نہیں کئ عشروں سے ہے بڑے بڑے اہل اللہ،اسلاف کے قافلے کے بچھڑے ہوئے مسافر اس شہر میں مقیم رہے تب سے یہی ہے—- تب سے یونہی ہے الحمدللہ-
کوئ بھی بڑے سے بڑا مسئلہ درپیش ہو اس علاقے کے علماء مل بیٹھتے ہیں،مشاورت ہوتی ہے،لائحہ عمل تشکیل پاتا ہے،حکمت عملی مرتب ہوتی ہے اور بسم اللہ چل سو چل
حرکت میں برکت ہے سو اللہ اپنی نصرت کا سایہ عنایت فرما دیتےہیں-حالیہ دنوں میں قربانی کی کھالوں کا مسئلہ آیا حسب معمول اس علاقے کے علماء مل بیٹھے،پالیسی تشکیل دی،انتظامیہ کے تعاون نہ کرنے کی صورت میں احتجاج اور راست اقدام کا فیصلہ ہوا،خفیہ رپورٹیں اوپر تک گئیں،انتظامیہ کو بھی خبر ہے کہ یہاں صرف باتیں اور دعوے نہیں عمل بھی ہوتا ہے اس لیے ان کے کان پہلے ے کھڑے تھے ایسے میں جب کوہا گرم تھا تب اس علاقے کے سرکردہ علماء کرام چیف کمشنر سے ملے،ڈپٹی کمشنر سے ملے،دیگر ذمہ داران سے ملاقات کی انہیں پیار محبت اور حکمت سے اپنی پوری بات سمجھائی اور قصہ ختم—نہ این او سی کا جھنجھٹ— نہ دفاتر کے چکر—- نہ چھوٹے مدارس والوں کے لیے کوئ پریشانی— نہ طلبہ کے لیے کوئ مسائل— نہ پابندی کی تلوار—- نہ محاذ آرائ کا ماحول—- نہ کشمکش کی فضا—سب کچھ معمول کے مطابق گزر گیا لیکن یہ سب صرف ایک ملاقات سے نہیں ہوا اس کے پیچھے ایک ہوری داستان اور پوری تاریخ ہے- ملاقاتیں معمول ہیں، رابطے صرف علماء کے مابین ہی نہیں انتظامیہ سے بھی ہیں،ان رابطوں میں "میں،میرا مدرسہ،میری ذات اور میرا مفاد” نہیں "ہم سب، ہمارے سب مدارس اور ہمارے سارے دینی معاملات” ہیں،اس علاقے کی انتظامیہ،پولیس،اسپیشل برانچ حتی کہ عسکری اداروں کے لوگ بڑے مدارس کے ذمہ داران کے نیاز مند اور مرید ہیں،اس علاقے کے مدارس میں زندگی کے ہر شعبے کے لوگوں کی آمد ورفت ایک دیرینہ روایت ہے-اس علاقے کے علماء نے ہمیشہ ترغیب وترہیب دونوں چیزوں کو ساتھ ساتھ چلایا تب ایسا ماحول بنا-
اس علاقے کے علماء خود کو وفاق المدارس سمجھتے ہیں،اس علاقے کے وفاق المدارس کے مسؤول ہر موقع پر سب سے آگے نظر آئیں گے،قربانی دینے کا موقع ہو یا خرچ کرنے کا،کسی کی غمی خوشی ہو یا کوئ معاملہ نوجوان دیر سے پہنچیں گے،بچ بچا کر گزر جائیں گے لیکن وفاق المدارس کے بزرگ مسؤول کو آپ کسی موقع پر غیر حاضر نہیں پائیں گے اور علاقائ ناظم وفاق ہر تحریک اور ہر محنت کی روح رواں ہوتے ہیں-ناظم اعلی وفاق حتی کہ وفاق المدارس کی پوری قیادت اس علاقے کے علماء کی بھرپور سرپرستی اور پشت پناہی کرتی ہے-
کوئ قضیہ اگر وفاق المدارس کے دائرہ کار میں نہ آتا ہو یا وفاق کی پالیسی سے میل نہ کھاتا ہو تو اس علاقے کے علماء جمعیت اہلسنت کے پلیٹ فارم سے میدان عمل میں نکل کھڑے ہوتے ہیں،اس علاقے میں ایسی کوئ تفریق نہیں کہ یہ شخصیت فلاں جماعت سے وابستہ ہے اور ان مولانا صاحب کا فلاں تنظیم سے تعلق ہے-گاہے چھوٹے موٹے گلے شکوے بھی ہوتے ہیں لیکن وہ مل بیٹھ کر دور کر لیے جاتے ہیں اس لیے اس علاقے کے لوگ کبھی یہ گلہ کرتے ہوئے نہیں ملیں گے کہ وفاق نہ یہ کیوں نہ کیا،اکابر نے ایسا کیوں نہ کیا؟یوں ہوتا تو یوں نہ ہوتا وغیرہ وغیرہ
لیکن بعض علاقے ایسے ہیں جہاں آپس میں جوڑ نام کی کوئ چیز نہیں،تنظیمی تفریق بہت گہری ہے،انتظامیہ سے روابط تو دور کی بات آپس میں رابطے کا اہتمام نہیں،سوچ میں وسعت نہیں،عزائم کی بلندی نہیں،کسی ایشو پر اسٹینڈ نہیں لیا گیا،ایک معمولی افسر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا کوئ موقع نہیں آیا،کبھی چار علماء نے اکٹھے ہو کر انتظامیہ اور افسران سے ملاقات کی ضرورت نہیں محسوس کی ہوتی،جن علاقوں کے علماء کی آواز پر عوام تو عوام چند طلبہ بھی باہر نہ نکلتے ہوں جہاں پر ایک معمولی درجے کا وردی پوش اہلکار "پوری قوم” کے لیے کافی ہو اور جہاں اکابر کی جرات،بہادری،حق گوئ اور حکمت عملی کا گزر ہی نہ ہوا ہو وہاں کے باسی ہر بات حضرت صدر وفاق دامت برکاتہم العالیہ اور دیگر اکابر پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، وہاں مقامی تھانے کے معمولی درجے کے اہلکار کی کسی تلخی ترشی کا دوش بھی حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری کو دیا جاتا ہے-ایسے علاقوں کے نووارد اور نابالغ دانشور فیس بک پر وفاق المدارس کے خلاف فلسفے بھگارتے اور اکابر کے خلاف ہرزہ سرائ کرتے نظر آتے ہیں-
ارے بھائ!وفاق المدارس تو اجتماعیت کا نام ہے مرکز اور صوبوں کی سطح پر وفاق المدارس کے مرکزی قائدین،ناظمین،عاملہ کے اراکین اور دیگر لوگ مصروف عمل ہیں،ملاقاتیں،مذاکرات،اخباری بیانات،رابطے،ترہیب وترغیب اور جو جو صورتیں اختیار کی جا سکتی ہیں وہ اختیار کی جاتی ہیں تیر وتفنگ،اسلحہ وتلوار اور قوت نافذہ تو ظاہر ہے کہ کسی کے پاس نہیں لیکن اپنا تھانہ تو آپ سنبھالیے صاحب!اپنے ضلع کی تو آپ فکر کیجیے! اپنی صف بندی تو آپ کو ہی کرنی ہوگی!آپس کے رابطے تو مستحکم کیجیے! اپنے بچوں کو تو سمجھائیے کہ وفاق المدارس صرف ایک یا دو بندوں کا نام نہیں ہم سب وفاق المدارس ہیں اور اسی اجتماعیت جسے دنیا وفاق المدارس کے نام سے جانتی ہے اس کی برکت سے دنیا بھر میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں دینی مدارس کا ایسا مثالی نظام موجود ہے-
جناب! مدارس ہر جگہ ہیں وفاق المدارس صرف پاکستان میں ہے اور دشمن مدارس کو بھی اپنا حریف سمجھتا ہے لیکن وفاق المدارس کو ہدف بنائے بغیر مدارس کا کچھ نہیں بگاڑا جا سکتا اس لیے وفاق المدارس نشانے پر ہے- آپ کو گلہ ہے تو ضرور کیجیے کہ وفاق آپ کا اپنا ادارہ ہے،آپ اپنا کوئ دکھ درد بیان کرنا چاہیں تو ضرور کریں کہ اپنے بڑوں کے سامنے نہیں کریں گے تو کس کے سامنے کریں گے؟آپ کی کوئ شکایت ہے تو متعلقہ حضرات اور متعلقہ فورمز پر ضرور پہنچائیے! تنقید کیجیے مگر اپنوں والی شریکوں والی نہیں لیکن خدارا اس کے ساتھ ساتھ کچھ تو خود بھی کیجیے! اگر خود کچھ کرنے لگے تو بہت سے گلے شکوے دور ہو جائیں گے- ان شاء اللہ
اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو
تحریر (عبدالقدوس محمدی)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *