مولانا فضل الرحمن کون ہیں ؟

مفتی محمود رحمہ اللہ کے گھر 21 اگست 1953ء بروز جمعہ المبارک عیدالاضحیٰ کے دن کو پیدا ہوئے ۔
ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گھر سے کیااور گاوں کے اسکول سے پرائمری پاس کرنے کے بعد ملتان کا رخ کیا، وہاں سے 1965 ء میں امتیازی نمبروں کے ساتھ میٹرک کا امتحان پاس کر کے دینی تعلیم کی طرف راغب ہوگئے۔
ابتدا ہی سے نہایت ذہین اور اپنے ہم جماعت ساتھیوں میں نما یاں رہے ۔انہوں نے ایک مکمل دینی گھرانے میں آنکھ کھولی،
انہوں نے 1972 ء میں نو عمری کے دوران پہلا حج کیا ۔
وہ بچپن میں والی بال کے بہترین کھلاڑی تھے،شعر و شاعری سے ان کو حد درجہ لگاو ہے اور خود بھی بعض اوقات اردو شاعری کرتے ہیں۔ان کے والد مفتی محمود صاحب بھی فارسی اور عربی کے اچھے شاعر تھے۔
شاعروں میں علامہ محمد اقبال کی شاعری کے ساتھ ساتھ فیض احمد فیض کی شاعری کو پسند کرتے ہیں ۔
وہ اپنے والد صاحب سے بہت متاثر ہیں ۔ہر ایک کو اپنی دلیل سے متاثر کر نے والی اس شخصیت کا سیاست سے دلچسپی خاندانی ہے۔
وہ زمانہ طالب علمی میں اپنی فکری طلبا جماعت کے ساتھ بہت سرگرم رہے اور نوعمری میں طلباء حقوق کیلئے قید و بند کے تکالیف بھی برداشت کیے۔دوران طالب علمی مئی 1974 ء کو ملتان سے ان کی پہلی گرفتاری ہوئی پھر مارچ 1977 ء میں تحریک نظام مصطفےٰ کے دوران انہوں نے طالب علم ہو نے کے با وجود پشاور میں جلسے کی قیادت کی،اسی دوران پولیس نے ان کے جلسے کو گھیرے میں لے لیا اور سخت مزاہمت کے باوجود گرفتار کرکے لے گئی۔اسی گرفتاری کے دوران انہوں نے مارکس اور لینن کے فلسفے کا مکمل مطالعہ کیا اور قید خانہ میں موجود سوشلیزم و کمیونزم کے حامیوں کے ساتھ بحث میں حصہ لے کر ان کے دانت کھٹے کر دیتے۔
1979 ء میں وہ تعلیم سے فارغ ہو کر درس و تدریس میں مشغول ہوئے اور اگلے سال14 اکتوبر 1980 ء میں وہ اپنے عظیم والد مولانا مفتی محمود کے انتقال کے باعث ناقابل تلافی صدمے سے دو چار ہو ئے۔ان دنوں مولانا فضل الرحمن ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں جنرل ضیا ء الحق کی آمریت کو للکار نے کی سزا کا ٹ رہے تھے اور وہ اس بات سے غافل تھے کہ جمعیت علماء اسلام کی ذمہ داری ان کے ناتواں کندوں پر آن پڑی ہے۔
جب مولانا کے ایک رفیق نے جیل میں ملاقات کر کے بتا دیا کہ آج کے بعد آپ جمعیت علما ء اسلام کے جنرل سیکرٹری ہیں تو مولانا کی آنکھیں نم ہو گئی اور کہنے لگے کہ اس عظیم جماعت کو سہارا دینے کے لئے پہاڑ جیسے حوصلے کی ضرورت ہے جبکہ میرے والد کے دنیا سے رخصتی کے زخم ابھی تازہ ہیں اوپر سے گھریلو ذمہ داری بھی مجھ پر ہے۔ لیکن ساتھیوں نے انہیں ثابت قدم رہنے کی ہدایت کی اور قدم قدم حمایت کی یقین دہانی کرا دی۔جس کی وجہ سے ان کے حو صلے بلند ہو گئے اور بقول شاعر
مشکلیں اتنی پڑی کہ مجھ پر آساں ہو گئی
27 سال کے عمر میں مولانا فضل الرحمن جمعیت علماء اسلام کے مر کزی جنرل سیکرٹری منتخب ہو گئے۔
مولانا فضل ا لرحمن بے شمار خوبیوں کے مالک ہیں انہوں نے جہاں جہاں قدم رکھا وہاں اپنی بساط سے بڑ ھ کر کارنامے سرانجام دئے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر تنقید کا نشانہ بھی بنتے آ رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن جب جمعیت علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری بنے تو ملک جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے زد میں تھا خصوصآ ضیاالحق نے سیاسی جماعتوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا ہوا تھا۔
ایک ایسے ماحول میں چند سیاسی پارٹیوں نے مارشلء لائی نظام کے خلاف MRD کے نام سے تحریک کا آغاز کر دیا اور جے یو آئی بھی ان چند جماعتوں میں سے ایک تھی۔مولانا فضل الرحمن نے اپنے پہلے سیاسی ایننگز میں جنرل ضیاء الحق کی آمریت کو چلنج کردیاجس پرجون 1982 ء میں وہ نظر بند کردیئے گئے اور بعد ازاں انہیں جیل میں قید تنہائی دی گئی۔…

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *