ایف آئی اے سندھ میں بے نامی اور جعلی بینک اکاوئنٹس پر درج مقدمے میں اہم شخصیات کے گرد گھیرا تنگ

ایف آئی اے سندھ میں بے نامی اور جعلی بینک اکاوئنٹس پر درج مقدمے میں اہم شخصیات کے گرد گھیرا تنگ ہونے سے ایف آئی اے اور سندھ پولیس میں تعینات اعلیٰ افسران کی بھاگ دوڑ میں ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سب انسپکٹر سطح کے افسران زیر عتاب آگئے،ایف آئی اے کے اعلیٰ افسران کی ہدایت پر اسپتال میں انور مجید سے سابق صدر آصف علی زرداری کی ملاقات اور کاوئنٹر ٹیرارزم ونگ میں زیر تفتیش عبدالغنی مجید سے پولیس کے اعلیٰ افسر کو ملاقات سے روکنے پر ایف آئی اے کے ایک افسر کو گلگت اور دوسرے کو تافتان بارڈر تبادلہ کردیا ،انور مجید کی جانب سے مقدمے کے تفتیشی افسر کو مغلظات بکنے اور جھڑکنے پر تحقیقاتی ٹیم کے اعلیٰ افسران نے خاموش رہنے کا مشورہ دے دیا۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے سندھ زون میں بے نامی اور جعلی بینک اکاوئنٹس پر تحقیقات شروع ہونے اور اہم شخصیات کے گرد گھیرا تنگ ہونے سے ایف آئی اے کے افسران زیر عتاب آگئے ۔ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ مقدمے میں گرفتارانور مجید سے اتوار کی شب قومی ادارہ برائے امراض قلب میں سابق صدر آصف علی زرداری نے دیگر کے ہمراہ ملاقات کی جس کی اجازت ایف آئی اے کے سندھ زون میں تعینات پولیس گروپ کے افسران نے جاری کیں جب کہ سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے ایف آئی اے کاوئنٹر ٹیرارزم ونگ میں زیر تفتیش عبدالغنی مجید سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا تو ایک اعلیٰ پولیس افسر کو کاوئنٹر ٹیرارزم ونگ میں ملاقات سے روک دیا گیا تو اس فسر نے ایف آئی اے ڈی جی بشیر میمن سے شکایت کر دی جس پر ڈی جی ایف آئی اے نے ناراضگی کا اظہار کیا اور اس دوران کاوئنٹر ٹیرارزم میں موجود اسسٹنٹ ڈائریکٹر رحمت اللہ خان ڈومکی اور اسپتال میں تعینات سب انسپکٹرحبیب الرحمان کو گلگت اور تافتان تبادلہ کرنے کے احکامات جاری کردئیے جب کہ ایف آئی اے میں تعینات پولیس گروپ کے افسران کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔ذرائع نے بتایا کہ اسی طرح کراچی ائیر پورٹ پر انور مجید کی جانب سے مقدمے کے تفتیشی افسر اسسٹنٹ ڈائریکٹرعلی ابڑونے ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو ہتھکڑی پہنانے کی کوشش کی تو ان کے ہاتھ پر چھڑی مار کر مغلظات بھی بکیں جس پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی ابڑو نے اعلیٰ افسران سے شکوہ بھی کیا جس پر تحقیقاتی ٹیم میں شامل اعلیٰ افسران نے انہیں خاموش رہنے کی ہدایت کی اور تفتیش پر فوکس کرنے کا مشورہ دیا جب کہ قومی ادارہ برائے امراض قلب میں زیر علاج زنور مجید کی جانب سے ان کی نگرانی پر مامور ڈیوٹی افسران کو ڈانٹ ڈپٹ کی شکایات بھی موجود ہیں تاہم اعلیٰ افسران کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔اس ضمن میں رابطہ کرنے پر ایڈیشنل ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک سرکل علی مردان کھوسو نے کہا کہ جس وقت واقعہ ہوا تھا اس وقت افسر کو مقدمے پر فوکس کرنے کی ہدایت کی تھی کیونکہ ہمارا اصل مقصد اس مقدمے کو عملی انجام تک پہنچانا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *