چین کا شکریہ اور قوم کے تمام خدمتگاروں کو سلام

بلاگ : عنایت شمسی

بلاشبہ چین پاکستان کا چاروں موسموں کا دوست اور مفید و بے ضرر پڑوسی ہے ۔ چین کی دوستی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات قائم ہونے سے لے کر آج تک کسی بھی سیاسی غرض و مفاد سے پاک رہی ہے ۔ دونوں ملکوں کی دوستی پائیدار اور خوشی و غم کے ہر موڑ اور امتحان میں کامیاب ثابت ہوئی ہے ۔ دنیا میں دونوں ملکوں کی سفارتی آداب کی حدود سے بالاتر قربت، ایک دوسرے پر اعتماد اور مشکل میں باہمی تعاون دنیا کیلئے ایک مثال ہے۔ یہ تعلق، اعتماد اور دوستانہ مراسم یک طرفہ نہیں۔ چین اگر پاکستان کے ساتھ اقتصادی و تزویراتی تعاون کرتا ہے، تو پاکستان بھی ہر ضرورت، مشکل اور آزمائش کے موقع پر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پورے خلوص سے اپنے تعاون ، حمایت اور مدد کا وزن چین کے پلڑے میں ڈالتا رہا ہے اور دونوں طرف سے یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔

چین اور پاکستان پڑوسی ہیں اور پڑوسی ہونے کی حیثیت سے کسی بھی دوسرے غیر پڑوسی ملک کی نسبت زیادہ ایک دوسرے کے تعاون، باہمی اعتماد اور اعتبار کے محتاج ہیں، جس کا دونوں ملکوں کی قیادت کو پورا احساس اور ادراک ہے ۔ دنیا میں کئی پڑوسی ملکوں کے درمیان شدید تناؤ، کشیدگی اور تلخ سفارتی روابط ہیں، جس کی وجہ سے ایسے ممالک کو ایک دوسرے کیخلاف ہمیشہ چوکنا رہنا اور ایک دوسرے کے شر سے محفوظ رہنے کیلئے اضافی توانائی خرچ کرنا پڑتی ہے ۔ پاکستان کو اس کا بخوبی تجربہ ہے کہ اسے اپنے قیام کے پہلے دن سے مشرقی اور مغربی پڑوسیوں سے شر، آزار ، دکھ ، تنازعات اور مشکلات کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے ۔ ایسے میں چین جیسے ہر مشکل میں ساتھ دینے والے دوست کا پڑوس پاکستان کیلئے یقینا بڑی نعمت اور قابل اطمینان بات ہے۔

آج دنیا کورونا وائرس کے ہاتھوں اجڑ چکی ہے۔ ہر ملک اس خطرناک وبا سے نمٹنے کیلئے اپنے تمام وسائل استعمال کر رہا ہے۔ ہر طرف ایمرجنسی، نفسا نفسی، بے چینی، بے یقینی اور خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں اگلے لمحے یہ وبا کیا شکل اختیار کرتی اور کس کس کو اپنے پنجے میں لیتیہے۔ ہر ملک اس طاقتور وبا کے سامنے بے بس اور اپنے پڑوسیوں تک سے لا پروا ہو کر اپنی ہی فکر میں غلطاں ہے، چنانچہ دنیا کے تقریباً سبھی ملکوں نے اپنی سرحدیں سیل کر دی ہیں اور اس خیال سے کہ مبادا یہ وائرس منتقل ہوجائے، دوسرے ملکوں سے فضائی روابط بھی منقطع کر دیئے ہیں ۔ اس کی ایک مثال اٹلی کی ہے۔ اٹلی یورپی اتحاد کا اہم رکن ہے۔ چین کے بعد کورونا نے اٹلی میں پھیلنا شروع کیا تو خود اٹلی اور دنیا کا بھی خیال تھا کہ یورپی اتحاد اس کی مدد کو آئے گا اور اتحاد کے تمام ممالک مشکل کی اس گھڑی میں اٹلی کا بھرپور ساتھ دیں گے، مگر ایسا نہ ہوا، اس کی بجائے اٹلی کے تمام پڑوسی ملکوں نے اپنی سرحدیں بند کر دیں اور اٹلی کو کورونا کے مقابلے میں تنہا چھوڑ دیا۔

چین میں وبا نے سر اٹھایا اور یہ پھیلنا شروع ہوئی تو چین کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا گیا۔ یہ پاکستان تھا، جس نے چین کو بھرپور مدد کی پیش کش کی، ڈاکٹروں کی ٹیم بھیجنے کا عندیہ دیا، ساتھ ہی سرحد پر جس طرح کا بھی تعاون درکار ہوا، چین کو فراہم کیا۔ اڑھائی تین ماہ بعد چین نے ووہان میں کورونا کو کنٹرول کیا، تو صدر پاکستان اور وزیر خارجہ بڑا وفد لے کر چین کی حوصلہ مندی کی داد دینے اور ہمت افزائی کیلئے بیجنگ پہنچے۔ آج چین نے اس اچھائی کا بدلہ کورونا سے بچاو ¿ کے سلسلے میں ضروری طبی آلات، سامان اور دیگر ضروریات کی مد میں بھاری تعاون کے ساتھ دے دیا ہے۔ بلا شبہ افراد ہوں یا اقوام مشکل اور آزمائش کے لمحات میں ایک دوسرے کی مدد اور دستگیری کے محتاج ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر ہی سرخرو ہو سکتے ہیں۔

چین پاکستان کو اب تک 12 ہزار ٹیسٹ کٹس ، 3 لاکھ ماسک اور 10 ہزارحفاظتی سوٹ دے چکا ہے، اس کے علاوہ چینی حکومت نے 40 لاکھ ڈالرکو الگ اسپتال بنانے کی مد میں بھی دیے ہیں۔ چین کی جانب سے نہ صرف فضائی راستے سے بھاری مدد پاکستان بھیجی گئی، بلکہ بحری راستے سے امدادی اشیاءکی تین کھیپیں بھی پاکستان پہنچ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ زمینی راستے سے بھی امداد کا بڑا حصہ وصول ہو چکا ہے۔ آزمائش کی اس گھڑی میں چین نے اپنے تعاون سے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک اور دوستی کے دعویدار کے مقابلے میں پاکستان کا سچا دوست، خیر خواہ اور ہمدرد ہے۔ پاکستان بے وسائل اور انتظامی سطح پر ایک غیر مستحکم ملک ہے، آج جبکہ دنیا کے طاقتور، امیر اور ترقی یافتہ ممالک کورونا سے یکسر عاجز آچکے ہیں، پاکستان کیلئے اس مشکل صورتحال کا اکیلے مقابلہ کرنا کسی صورت بھی آسان نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہی اس آزمائش سے نکلنے کی امید ہے، ایسے میں مادی اور اسباب کی دنیا میں چین کا یہ تعاون یقینا پاکستان کیلئے بڑی اہمیت رکھتا ہے، پاکستانی قوم اسے کبھی فراموش نہیں کرے گی اور اس تعاون کیلئے ہمیشہ چین کا احسان مند رہے گی۔

اس وقت صحت و انتظام سے متعلق حکومتی ادارے، قانون نافذ کرنے ادارے اور فوج اسباب کے درجے میں کورونا سے قوم کی حفاظت اور اس خطرناک وبا سے متاثرہ افراد کے علاج معالجے کیلئے تمام خطرات کو پس پشت ڈال کر مصروف جد و جہد ہیں۔ یہ سب پوری قوم کی جانب سے شکر و سپاس اور حوصلہ افزائی و تحسین کے حقدار ہیں۔ طب و صحت کے اہلکار اس تمام صورتحال میں صف اول پر ہیں اور قوم کا ہراول دستہ ہیں۔ ہم جانتے ہیں درکار وسائل کی کمی کے باعث بیشتر مقامات پر وہ بے سر و سامانی کے عالم میں اپنی جانیں داو ¿ پر لگا کر قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ کئی ڈاکٹر حضرات متاثرین کا علاج کرتے کرتے خود اس موذی کا شکار ہوچکے ہیں۔

گلگت میں جوانسال ڈاکٹر اسامہ ریاض اس مرض سے لڑتے لڑتے قوم پر اپنی متاع جاں لٹا چکے ہیں۔ ڈاکٹر اسامہ نے جس بہادری سے اپنی جان کی پروا کیے بغیر اپنا مقدس فرض نبھایا اور خدمت انسانیت کی راہ میں کسی مشکل اور خطرے کو رکاوٹ نہیں بننے دیا، وہ رہتی دنیا کیلئے ایثار، قربانی اور فرض سے لگاؤ کی ایک مثال رہے گی۔ ڈاکٹر اسامہ ریاض نے اپنی جان گنوا دی مگر اپنے دست ہنر اور جذبہ ایثار و خدمت سے کئی جانیں بچانے میں اہم کر دار ادا کیا۔ بلا شبہ ڈاکٹر اسامہ ریاض اس بات کے حقدار ہیں کہ انہیں قوم کا ہیرو قرار دےا جائے۔ ڈاکٹر اسامہ ریاض نے اپنے کردار سے تاریخ میں امر ہونے والے اس عظیم پیشے سے وابستہ عظیم کرداروں کی یاد تازہ کر دی ہے۔ انہوں نے جنگ طرابلس میں خلافت عثمانیہ کے زخمی سپاہیوں کی دیکھ بھال کرنے والی فاطمہ بنت عبد اللہ کا کردار دہرایا ہے، جنہیں شاعر مشرق علامہ اقبال نے ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا کہ:

فاطمہ تو آبروئے امت مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تیری مشت خاک کا معصوم ہے

ڈاکٹر اسامہ ریاض بھی بلاشبہ آبروئے ملت پاکستاں ہیں اور اس لائق ہیں کہ نئی نسل کو ان کے جذبہ ایثار و قربانی سے انسانیت کی خدمت کا سبق سکھایا جائے۔ ہماری درسی کتابوں میں جدید نرسنگ کی بانی سمجھی جانے والی انگریز خاتون فلورنس نائٹ انگیل کی قربانی کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈاکٹر اسامہ ریاض کے جذبہ خدمت کو بھی انسپائریشن ٹول کا درجہ دیا جائے۔ ہم ان پیچیدہ حالات میں صف اول پر خدمات انجام دینے والے تمام ڈاکٹروں کو سلام پیش کرتے ہیں۔

ہماری انتظامیہ کے اہلکار و افسران بھی مشکل حالات میں اپنے فرائض نبھا رہے ہیں اور قوم کی طرف سے حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں۔ اس موقع پر قوم کو منظم رکھنا سب سے زیادہ ضروری ہے اور یہ مشکل کام ہمارے پولیس، رینجرز اور فوج کے جوان اور افسران بڑی تندہی سے انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ صحافی حضرات بھی اس موذی وبا کے تئیں مختلف زاویوں سے قوم کو آگاہ رکھنے میں مصروف ہیں۔ یقینا اس مشکل سے قوم اسی وقت نجات حاصل کر سکتی ہے جب تمام ادارے، محکمے اور شعبے اپنے اپنے فرائض قومی جوش و جذبے سے انجام دیں گے۔ ہم لگن، تندہی، فرض شناسی اور جرات و بہادری سے اپنا فرض نبھانے والے تمام اداروں اور محکموں کے اہلکاروں، افسروں اور کارکنوں کے جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سمیت پوری قوم پر رحم فرمائے اور اپنی رحمت سے جلد اس آزمائش سے انسانیت کو نجات عطاءکرے، آمین۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *