کورونا وائرس کا طریقہ علاج کیا ہے ؟

بلاگ : شیخ الحدیث مولانا زبیراحمد صدیقی
مدیر جامعہ فاروقیہ شجاع آباد
ناظم وفاق المدارس العربیہ پاکستان جنوبی پنجاب

حمد وثناء رب لم یزل کے واسطے ، جس نے کائناتِ عالم کو بنایا ۔ درود وسلام سید کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور،جنہوں نے کائنات وعالم کو سنوارا۔ اما بعد!

جنوری2020ء سے چائنا کے شہر ”ووہان“ سے پھیلنے والی وبائی مہلک مرض ”کروناوائرس“ آفت بن کردنیا میں پھیل چکی ہے، اس متعدی بیماری کی وجہ سے ہلاکتوں میں دن بہ دن نہ صرف اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ بیماری شہروں اورملکوں کواپنی لپیٹ میں لیتی جارہی ہے۔ بڑھتی ہوئی اس بیماری کے علاج کے لیے دنیا ، بالخصوص پاکستان کے پاس ، اس وبا میں مبتلا لوگوں کے لیے ہسپتال، ادویات اورسازوسامان کی قلت ہے۔ چائنا کے بعد اس وبا سے سب سے زیادہ اٹلی متاثرہوا ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں ہلاکتیں ہو رہی ہیں ، حکمران اس ہلاکت خیز وبا کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار کررہے ہیں ۔ ایران، فرانس، جرمنی، ہانک کانگ سمیت 166 ممالک اس مرض کے حملوں کا شکار ہیں ۔

23 جنوری 2020ء میں اس وبا کی چائنا میں دریافت ہوئی اور7 مارچ 2020ء تک صرف 44 روزمیں ، دنیا میں ایک لاکھ مریض رجسٹرڈ ہوئے ۔ آج بوقت تحریرمؤرخہ 22 مارچ تک تین لاکھ سے زائد مریض دنیا بھر میں رجسٹرڈ ہو چکے ہیں ۔ مضمون قارئین تک پہنچنے کے وقت تک نہ جانے کتنے مریض بن چکے ہوں گے۔ دنیا بھرمیں اس مرض کی وجہ سے اس قلیل عرصہ میں پندرہ ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔ پاکستان میں مؤرخہ 26 فروری کوایران سے آنے والے زائرین میں پہلا کیس رجسٹرڈ ہوا ، ان زائرین اوران سے متاثر دیگر افراد کی وجہ سے تا دم تحریر پانچ ہزارچھ سوپچاس مشتبہ مریض، جبکہ آٹھ سو تین تشخیص شدہ مریض بن چکے ہیں ، اب تک پاکستان میں اس مرض کی وجہ سے تین اموات بھی ہوچکی ہیں۔ جس تیزی کے ساتھ یہ وبا پھیل رہی ہے ، خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ بر وقت اقدامات نہ ہونے کی صورت میں یہ وبا ملک بھر ، بلکہ دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان نے بھی اس مرض سے نبرد آزما ہونے کے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں ، جن میں تعلیمی اداروں کی بندش ، مدارس اورعصری تعلیمی امتحانوں کی منسوخی ، اجتماعات پر پابندی ، دفعہ 144 کا نفاذ ، سندھ بھرمیں لاک ڈاؤن ، دوسرے صوبوں میں کاروباری مراکز ، شادی ہالز، ہوائی جہازوں، بسوں ، موٹروں، ٹرینوں وغیرہ کی بندش، گھرمیں رہنے کے احکامات ، مختلف حفاظتی تدابیر وغیرہ شامل ہیں ، دیگرممالک میں احتیاطی نقطہ نظرسے مساجد ، حتی کہ حرمین شریفین بند کر دیئے گئے ہیں ، جو بلا شبہ اہل ایمان اور درد مند مسلمانوں کے لیے اذیت ناک ہے۔

بعض لوگ کرونا وائرس وبا کا موجد امریکا کو قرار دے کر، اسے چائنا اوراس کے اتحادی ممالک کے خلاف معاشی جنگ قراردے رہے ہیں ، تاہم سبب کوئی بھی ہو، بلاشبہ اب یہ ایک عالمی وبا بن چکی ہے ، جسے اقوام متحدہ نے بھی عالمی وبا قراردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی وجہ سے دنیا بھر میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے ، ممکن ہے اس مرض سے کچھ ممالک اپنے سیاسی ومعاشی فوائد بھی حاصل کر رہے ہوں، تاہم اس وبا کو سنجیدگی کے ساتھ لینے کی ضرورت ہے۔

وبا اور امراض کے متعدد اسباب ہوتے ہیں ، ظاہری اسباب توعلم ظاہر رکھنے والے حضرات یعنی ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ بتاتے ہیں ،جب کہ باطنی ، حقیقی اوراصل اسباب وحی کی تعلیمات بتاتی ہیں ، جو آسمانوں سے نازل ہوتی ہے ، ذیل میں ایسے امراض کے باطنی اسباب کا قرآن و سنت سے جائزہ لیا جا رہا ہے ۔

اعلانیہ فحاشی:
سیدنا عبداللہ بن عمرؓ ارشاد فرماتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت مہاجرین کوخطاب کر کے ارشاد فرمایا :لم تظہرالفاحشۃ فی قوم حتی یعلنوا بہا الا فشا فیہم الطاعون والا وجاع التی لم تکن مضت فی اسلافہم الذین مضوا (ابن ماجہ) جس قوم میں علانیہ فحش کاری کا بازارگرم ہوجائے اس میں طاعون اورایسی بیماریاں عام ہو جائیں گی جو اس سے پہلے ان کے گذشتہ آباء و اجداد میں کبھی نہیں تھیں ۔

یاد رہے کہ طاعون بھی وبائی مرض ہے ، جو تیزی سے پھیلتا ہے ، اورماضی میں عہد خلفائے راشدین سے لے کرانگریز کے دورتک متعدد بار یہ وبائی مرض ظاہرہو کرلاکھوں لوگوں کولقمہ اجل بنا چکا ہے ، حدیث مبارک میں ، طاعون کو امم سابقہ کے لیے عذاب الہی قرار دیا گیا ہے ، بنی اسرائیل میں متعدد باراس وبا سے سترہزار، ایک لاکھ تک لوگ بوجہ فحاشی وعریانی و دیگرمعاصی ہلاک ہوئے (بخاری) البتہ یہ طاعون اوراس جیسے امراض کفارکے لیے عذاب اورمقربین کے لیے باعث درجات ہوتے ہیں، اس لیے طاعون میں فوت ہوجانے والے شخص کوشہید قرار دیا گیا ہے ، ایک حدیث میں ہے : الطاعون شھادۃ لامتی ورحمۃ لمسلم (مسند احمد) طاعون میری امت کے لیے شہادت اوررحمت ہے۔

سنت اللہ یہ ہے کہ جب عذاب خدا وندی اترتا ہے ، تو وہ کفار و فساق کی وجہ سے اترتا ہے ، لیکن اس میں نیک وبد ، مسلم و کافر بھی مبتلا ہوتے ہیں ، البتہ آخرت میں تفریق کر کے مقربین اورنیک و کاروں کو درجات عالیہ نصیب ہوں گے ، معجم طبرانی میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ”طاعون میں صبرکرنے والا ایسے ہے ، جیسے : میدان جہاد میں جمنے والا اورطاعون سے بھاگنے والا ایسے ہے، جیسے: میدان جنگ سے بھاگنے والا ( گناہ گارہوتا ہے )۔

حاصل یہ ہے کہ اعلانیہ فحاشی و عریانی کے سبب سے ایسی وبائیں اورامراض مسلط کیے جاتے ہیں، جو اثر کے لحاظ سے صرف کفار تک محدود نہیں رہتے ، بلکہ ہرانسان ، خواہ مسلم ہو یا کافر، نیک ہو یا بد ، ان پرطبعی لحاظ سے اثراندازہوتے ہیں۔

کثرت زنا:
معاشرے میں جب بدکاری وزناکی کثرت ہوجائے، توکثرت اموات کی شکل میں عذاب بھیجا جاتا ہے ، چنانچہ مؤطا امام مالک کی ایک روایت میں ہے :

”ولافشا الزنا فی قوم قط الا کثرفیھم الموت“ جس قوم میں زنا عام ہو جائے ، اس قوم میں اموات زیادہ ہو جاتی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ میمونہ ؓ کی روایت مسند احمد میں مذکور ہے ، انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں سنا : ”لا تزال امتی بخیرمالم یفشی فیھم ولد الزنا ، فاذا فشا فیھم ولد الزنا فاوشک ان یعمھم اللہ بعذاب“ ( مسند احمد ) میری امت اس وقت تک خیرپررہے گی ، جب تک ان میں اولاد زنا عام نہیں ہو جائے گی ۔جب ان میں نا جائز اولادیں عام ہو جائیں گی ، تواللہ تعالی ان پرعام عذاب بھیج دے گا “۔

اسی طرح کی ایک حدیث معجم طبرانی میں بھی موجود ہے۔ واضح رہے کہ تیزی سے پھیلتی یہ وبا اورکثرت سے ہوتی اموات بھی،اس پیشین گوئی کا مصداق محسوس ہوتی ہیں، بے راہ روی اوربغیر نکاح کے مرد و زن کا برس ہا برس سے اختلاط دنیا میں اتناعام ہے کہ کسی سے مخفی نہیں ، کوئی بعید نہیں کہ موجودہ حالات اس بے راہ روی کا نتیجہ ہوں۔

حق تعالی کی نافرمانی :

قرآن کریم کی تصریحات کے مطابق آنے والی ہرآفت ومصیبت انسانی اعمال بد اوربد اعتقادی کا نتیجہ ہوتی ہے ،انسانوں کی سرکشی اور معاصی کی کثرت، اللہ تعالی کے عذاب کا موجب ہوا کرتی ہے ، چنانچہ سورۃ اعراف میں مذکور ہے :فَلَمَّا عَتَوْا عَن مَّا نُہُوا عَنْہُ قُلْنَا لَہُمْ کُونُوا قِرَدَۃً خَاسِءِینَ ( الاعراف:۶۶۱) چنانچہ ہوا یہ کہ جس کام سے انہیں روکا گیا تھا ، جب انہوں نے اس کے خلاف سرکشی کی تو ہم نے ان سے کہا : جاؤ، ذلیل بندربن جاؤ “۔ سورہ زخرف میں ہے: فَلَمَّا آسَفُونَا انتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَأَغْرَقْنَاہُمْ أَجْمَعِینَ (الزخرف۵۵) چنانچہ جب انہوں نے ہمیں ناراض کر دیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اوران سب کوغرق کردیا “۔

معلوم ہوا کہ عذاب الہی انتقام خدا وندی ہوتا ہے اورانتقام تب لیا جاتا ہے، جب لوگ اللہ تعالی کی نافرمانیاں کرتے ہیں ۔ امم سابقہ میں بندر و خنزیر کی شکل میں تبدیل ہو جانا سر کشی کا نتیجہ قراردیا گیا ہے ۔ اللہ تعالی نے اپنی نافرمانیوں پرعذاب کے اترنے کولوگوں کی جانب سے اپنے آپ پرظلم قراردیا ہے وَمَا ظَلَمْنَاہُمْ وَلَٰکِن کَانُوا أَنفُسَہُمْ یَظْلِمُونَ (النحل:۸۱۱) اورہم نے ان پرکوئی ظلم نہیں کیا ، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے “۔

سورہ شوری میں اس مضمون کو مزید تفصیل سے یوں بیان فرمایا: ”وَمَا أَصَابَکُم مِّن مُّصِیبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَن کَثِیر“(الشوری۰۳)
اورتمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے ، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کیے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے ، اوربہت سے کاموں سے تو وہ درگزرہی کرتا ہے“۔ واضح رہے کہ آیات و احادیث میں مذکورآفات ، بلایا اور وباؤں کے باطنی اسباب بیان کیے گئے ہیں ، یہ اسباب آسمانی علم اوروحی سے ہی معلوم کیے جا سکتے ہیں، جب کہ ظاہری اسباب آنکھوں سے نظرآتے ہیں ، یہ اسباب ڈاکٹراورماہرین بتایا کرتے ہیں ، دونوں اسباب میں کوئی تعارض یا منافات نہیں ، جب باطنی اسباب پیدا ہوتے ہیں تو کسی وجہ سے ظاہری اسباب بھی پیدا ہو جاتے ہیں ، اس لیے کسی قسم کے شک وشبہ میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے ۔

سد باب :

کرونا وائرس اوراس جیسے امراض کے سد باب کے لیے ، ماہرین کی جانب سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر،دائرہ شریعت میں رہ کر اختیار کرنا بلاشبہ جائز ہے ، نہ صرف جائز بلکہ بعض اوقات تدابیر ضروری ہو جاتی ہیں ۔ ایسی تدابیر نہ توکل کے خلاف ہیں اورنہ ہی سنت مطہرہ اورشریعت کے ، بلکہ شریعت کے عین مطابق ہیں ۔ ہم ذیل میں ایسی تدابیراورحفاظتی اسباب کا شریعت مطہرہ کی روشنی میں جائزہ لے رہے ہیں:

ماہرین کے بقول کرونا وائرس متعدی مرض ہے، جو ایک سے دوسرے کو جلد منتقل ہو جاتا ہے اورعموما اس کا تعدیہ ہاتھ ملانے اور ہاتھ سے منہ ، ناک، آنکھ کے راستے سے منتقل ہونے سے ہوتا ہے،اسی طرح کسی مبتلائے وبا کے، دوسرے کے سامنے کھانسنے ، چھینکنے سے بھی یہ وبا مذکورہ اعضاکے منافذ کے ذریعے جسم میں چلی جاتی ہے۔ بعض لوگ بخاری شریف کی روایت ”لاعدوی، ولاطیرۃ، ولاہامۃ ولاصفر“ ( بیماری متعدی ہونے کا نظریہ ، بد شگونی ، ھامہ اورصفرسے متعلق عقیدہ اسلام میں نہیں ہے ) کی بنیاد پریہ کہہ دیتے ہیں کہ بیماری ایک سے دوسرے کومنتقل نہیں ہوتی،اس لیے وبائی امراض سے محتاط رہنے اوردوسروں سے الگ رہنے کوخلاف اسلام سمجھنے کا تاثر پایا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہ تاثر حدیث کے مفہوم و مطلب سے نا واقفیت کی وجہ سے ہے۔

اہل علم نے اس حدیث کے ساتھ دیگر مندرجہ ذیل احادیث کو پیش نظررکھا ہے اوردونوں قسم کی احادیث میں تطبیق پیش کی ہے،جن کی روشنی میں حدیث مذکورہ بالا کا مفہوم بھی واضح ہو جاتا ہے: جناب رسول اللہ صلی االلہ علیہ وسلم نے اسی حدیث کے آخرمیں یہ جملہ بھی ارشاد فرمایا : وفرمن المجذوم کماتفرمن الاسد“ ۔ (بخاری) جذام کے مرض رکھنے والے سے ایسے بھاگو جیسے تم شیرسے بھاگتے ہو۔صحیح مسلم میں عمروبن شریدثقفی کی روایت میں ہے کہ بنوثقیف کا وفد ، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا،اس میں ایک شخص جذام (کوڑھ) کے مرض میں مبتلا تھا ، جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پربیعت کرنا چاہتا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیغام بھیجا ، ہم نے آپ کو(زبانی) بیعت کرلیا ہے آپ واپس چلے جائیں (فتح الباری)

امام طبریؒ نے امام زہریؒ کی سند سے روایت کیا ہے کہ سیدنا عمرؓ نے معیقیب سے فرمایا تھا کہ مجھ سے ایک نیزہ کی مسافت پربیٹھو۔ایک روایت میں ہے کہ سیدناعمر ؓ کا یہی معمول تھا (فتح الباری) سنن ابن ماجہ میں ہے : جذام کے مرض والے کومسلسل نہ دیکھو۔(ابن ماجہ)
سیدنا عبداللہ ابن ابی اوفیؓ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، مجذوم سے دو نیزوں کی مسافت سے گفتگو کیا کرو۔( فتح الباری ) . طاعون زدہ علاقے کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم کسی زمین میں طاعون کے بارے میں سنو تو اس میں نہ جاؤ اور وہاں سے لوگ باہر نہ آئیں (بخاری).

لایوردن ممرض علی مصحح۔ بیماراونٹ کو تندرست اونٹ کے پاس نہ لایاجائے(مسلم) . آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خارشی اونٹ لایاگیا،آپ نے اسے دوسرے اونٹوں سے الگ باندھنے کا حکم فرمایا۔مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص کی بیماری دوسرے تک متعدی ہوسکتی ہے ، اس لیے اہل علم نے ”لاعدوی“ والی حدیث کے متعدد مطالب بیان کیے ہیں ، جن میں سے ایک راجح مطلب ہدیہ قارئین ہے : ابن الصلاح اورامام بیہقی ؒ فرماتے ہیں : جن احادیث میں امراض کے تعدیہ کی نفی ہے ، اس سے مراد یہ ہے کہ امراض میں بالذات یعنی ازخودیہ تاثیرنہیں ہوتی کہ دوسرے شخص کولگ جائیں، البتہ اللہ تعالی کے حکم سے دوسرے کولگ سکتے ہیں۔

دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ جاہلیت میں پائے جانے والے غلط نظریہ کی نفی اورتوحید کا اثبات فرمانا چاہتے ہیں، زمانہ جاہلیت میں بیماری کو مؤثر حقیقی سمجھا جاتا ، نہ کہ اللہ تعالی کو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ بیماری ازخود دوسرے کو نہیں لگتی ، بلکہ اللہ تعالی کے حکم سے لگتی ہے ۔

بعض لوگ ڈاکٹروں کی اس ہدایت کوبھی معیوب سمجھتے ہیں کہ ، مرض کی شدت میں تنہائی اختیارکی جائے یا مصافحہ سے پرہیز کیا جائے ، سو حدیث ذکرکی جا چکی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجذوم سے مصافحہ نہیں فرمایا ، نیز خارشی اونٹ کودوسرے اونٹوں سے الگ باندھنے اوردوسرے سے گفتگو کے وقت دو نیزوں کا فاصلہ رکھنے کی ہدایت فرمائی ۔ کچھ لوگ ان سب ہدایات کو خلاف توکل قرار دیتے ہیں ، یہ نظریہ بھی بے بنیاد ہے ، اس لیے کہ اہل علم کے نزدیک وہ توکل جو حضرات انبیاء علیہم السلام نے اختیار کیا وہ توکل بالاسباب تھا ، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ متوکل کس کی ذات ہو گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جہاد بھی فرمایا اور ساتھ ہجرت اور دعا بھی ۔ آپ نے نہ صرف اسباب کا اہتمام کیا ، بلکہ پوری حکمت عملی اختیارفرمائی ۔اہل علم کے نزدیک اونٹ جنگل میں کھلا چھوڑ دینے کا نام توکل نہیں ، بلکہ توکل یہ ہے کہ اونٹ کا گھٹنا باندھ دیا جائے اورپھرذات خداوندی کے سپرد کر دیا جائے ، لہذا اسباب اوراحتیاطی تدابیراختیارکرکے، اللہ تعالی سے دعا مانگنا اورتوکل کرناہی اصل توکل ہے۔

علاج :

ماہرین کے مطابق تا حال کرونا وائرس کے لیے نہ کوئی حفاظتی ویکسین ایجاد ہوئی ہے ، نہ ہی مستقل دوائی ، البتہ ڈاکٹر حضرات ایسے متأثرین کا علاج اور غیر متأثرین کی حفاظت تنہائی اختیار کرنے اور عدم اختلاط کو قرار دے رہے ہیں، نیز ملیریا وغیرہ کی ادویات استعمال کی جا رہی ہیں ، بعض مبتلائے مرض لوگ جو تندرست ہو گئے ہیں، اپنے اپنے تجربے بھی دوسروں تک پہنچا رہے ہیں ، اگر دوائی میسر بھی ہوئی ، تب بھی ایسی وباء میں روحانی علاج ، رجوع الی اللہ، توبہ واستغفار کی شدید احتیاج تھی، اب تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ، ایسے امراض سے بچاؤ اور علاج کے لیے اسباب، احتیاطی تدابیر، اختیار کرنے کے ساتھ رجوع الی اللہ کیا جائے، اس لیے پوری امت کا فریضہ ہے کہ اس برے وقت میں درج ذیل امور کو شفاء کی نیت سے ضرور سر انجام دیں۔

انفرادی ، اجتماعی صغیرہ کبیرہ گناہوں سے گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ کے حضور معافی طلب کی جائے اور توبہ کی جائے ، توبہ کا اہم عنصر گناہ پر ندامت اور گناہ ترک کرنا ہے، اس لیے پوری فکر و سوچ کے ساتھ ، گناہ ذہن میں رکھ کر انہیں ترک کرنے کے عزم کے ساتھ، گزشتہ گناہوں کی اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کی جائے ۔توبہ کے ساتھ کثرت استغفار بھی کیا جائے، استغفار میں یہ تاثیر ہے کہ کافر بھی استغفار کرے تو عذاب رک جاتا ہے اور مؤمنین کے لیے مشکلات سے نجات اور آسانیوں کا بہترین آزمودہ نسخہ ہے۔

اپنی معاشیات سے حرام کو نکال کر حلال اختیار کیا جائے، سود جیسے مہلک اور خطرناک مرض سے توبہ کی جائے اور لوگوں کو سہولتیں پہچائی جائیں، زنا،فحاشی وعریانی سے بھی مکمل اجتناب کیا جائے، اور اس گناہ کو بالکل ترک کر دیا جائے۔ قرآن کریم شفاء ہے، زیادہ سے زیادہ تلاوت قرآن کریم کا اہتمام کیا جائے۔فرائض، بالخصوص نمازوں کی پابندی کی جائے ۔ حفاظت کے ماثور و منقول اوراد وادعیہ کا بطور خاص اہتمام ہو ، خاص طور پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صبح و شام کی جو دعائیں منقول ہیں، جن سے آدمی جملہ خطرات و آفات سے محفوظ رہتا ہے ، کا التزام کیا جائے۔ممکن ہو تو زمزم مشروبات میں شامل کیا جائے، زمزم کا شفا ہونا بدیہی عمل ہے۔ صدقہ و خیرات کا معمول بنایا جائے، بلاشبہ صدقات سے بلائیں اور آفتیں ٹل جاتی ہیں، اللہ تعالیٰ کا غصہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّد وَّاٰلہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمْ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں