ظلم کی بنیاد پرحکومتیں قائم نہیں رہتیں

بلاگ : سفیر رشید

فرمان باری تعالی ہے ، ترجمہ: ’’ اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو۔ اللہ تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے۔ بے شک اللہ سنتا (اور) دیکھتا ہے۔ ‘‘ (سورۃ النساء: آیت 58 پارہ 5 )

اللہ رب العزت کو ہماری عبادات کی ضرورت نہیں ، عبادات تو صرف اس لیے کہ ہم دلی سکون اور خود کو ایک نیک صالح انسان کی صف میں لے آئیں ۔ اگر انسان رب کی عبادت نہ بھی کرے تو اسے اس کے عبادت کی ضرورت نہیں ، دنیا میں انسان کے علاو چرند پرند ، جنات ، جانور ، دنیا میں انسان کے علاوہ تمام مخلوق ہر وقت اپنے رب کی حمدوثناہ بیان کرتے رہتے ہیں۔اسکے علاوہ رب کی عبادت میں ایسے ہزاروں فرشتہ معمور ہیں جو صرف سجدوں میں ہیں تو صرف سجدوں میں ہی ہیں اگر حمد و ثنا بیان کررہے ہیں تو اسی میں لگے ہیں ،حتی کہ ہر فرشتہ چوبیس گھنٹہ عبادت میں مصروف ہے ۔بعض ایسے فرشتے ہیں جن کو ایک بار ایک عبادت کا موقع ملا پھر ان کی باری ہی نہیں آنی .

انسان کا اگر دنیا میں اصل امتحان ہے تو وہ حقوق العباد ہے ،اس کے لیے انسان کو زمین پر اتارا گیا کہ وہ اپنے امتحان میں کتنا کامیاب ہوتا ہے۔ ظلم ایک ایسی بڑائی ہے جو صرف بڑائی سے ہی ختم ہوتی ہے اگر کسی ریاست میں کسی ناحق کے ساتھ ظلم ہوتا ہے اور ریاست اس ظالم کے خلاف ایکشن نہیں لیتی اور مظلوم کو ظالم سے انصاف نہیں دلواتی تو پوری ریاست ظالم ہوئی اور مظلوم کی صدا ظالم اور ریاست کو اللہ کے ہاں ضرور پکڑ دلوائی گی ۔

جب تک امیر اورغریب کی سزا ایک نہیں ہوتی اس وقت تک عدل وانصاف نہیں ہو سکتا ، اللہ پاک دو گرہوں یا دو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے والوں کے لیے فرماتے ہیں کہ: لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو اور ساتھ ہی فرمایا کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ انصاف سے فیصلہ کرنے والوں کو اپنی دوستی اور محبت سے نوازنے کی بشارت سناتا ہے۔

اب فیصلہ کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ آزاد ہو اور اپنے فیصلے کے نفاذ کی قدرت رکھتا ہو اور صاحب علم ہو، تاکہ ظلم و انصاف میں تمیز کرسکے۔ لیکن مقدمات کے صحیح فیصلے کا انحصار سچی شہادت پر ہے۔ اسی لیے اسلام عدل و انصاف کے ساتھ سچی شہادت دینے کی بھی تاکید کرتا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے، ترجمہ: ’’ اے ایمان والو، انصاف پر قائم ہو جاؤ، اللہ کے لیے گواہی دیتے جاؤ، اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو، یا ماں باپ کا، یا رشتے داروں کا، جس پر گواہی دو، وہ غنی ہو یا فقیر۔‘‘ (سورۃ النسا ) عدالتی نظام کی کام یابی کا دار و مدار اگر ایک طرف متقی، پرہیزگار اور پیکر انصاف جج اور قاضی پر ہے تو دوسری طرف پیکر صدق و صفا گواہوں پر بھی ہے، تا کہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

بد قسمتی سے ہمارے ہاں تو جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے رعب و دبدبے کی وجہ سے چشم دید گواہ ان کے خلاف گواہی دینے کی جرأت بھی نہیں کرتا، بل کہ اپنی آنکھیں ہی بند کرلیتا ہے۔ اس کی ایک وجہ گواہان کا عدم تحفظ بھی ہے۔ ریاست کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ گواہان کا تحفظ یقینی بنائے تا کہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں اور انصاف کی بروقت فراہمی کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔

حضرت علیؓ کا قول ہے کہ ’’کفر کی بنیاد پر حکومت قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم کی بنیاد پر حکومت قائم نہیں رہ سکتی ۔‘‘اگر حکومت و ریاست عدل وانصاف کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے تو یہ ایک بہت بڑا ظلم ہے۔ موجودہ وقت میں جو وبائی مرض پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے مظلوموں کی بدعا کا ہی نتیجہ ہے ، ہمیں سوچنے کی ضرورت یہ ہے کہ ہم ایسا کیا ظلم کررہے ہیں ؟؟ جس کی اتنی بڑی سزا مل رہی ہے۔

ہمیں اس وقت کثرت سے استغفار کا ورد کرنا چائیے ، ایسی کیا غلطی ہو گئی جس سے ہمارا رب ہم سے ناراض ہو گیا ہے۔ اللہ پاک ہمیں اس مرض سے بچائے۔

نوٹ : سفیر رشید جامعہ کراچی کےطالب علم ہیں ،سماجی ورکر بھی ہیں ،حال ہی میں کرونا کے متاثرین کے لئے نیشن ڈو نیشن کی کامیاب مہم جوئی کررہے ہیں .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں