نماز میں ماسک پہننا اور صفوں کے درمیان فاصلہ رکھنا کیسا ہے ؟

الرٹ نیوز :

سوال 1 : ماسک پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
سوال 2 : نماز میں صفوں کے درمیان خلا چھوڑنا؟

جواب 1 : موجودہ وبائی صورتِ حال میں ماسک پہن کر نماز ادا کرنے کی اجازت ہوگی، البتہ عام حالات میں منہ چھپا کر نماز ادا کرنا مکروہ ہے۔

جواب 2: با جماعت نماز میں اقتدا کے درست ہونے کے لیے امام اور مقتدی کی جگہ کا متحد ہونا شرط ہے خواہ حقیقتاً متحد ہوں یا حکماً، مسجد ، صحنِ مسجد اور فناءِ مسجد یہ تمام جگہ بابِ اقتدا میں متحد ہیں، لہٰذا مسجد ، صحنِ مسجد اور فناءِ مسجد میں اگر امام اور مقتدی، یا مقتدیوں کی صفوں کے درمیان دو صفوں کی مقدار یا اس سے زیادہ فاصلہ ہو تب بھی صحتِ اقتدا سے مانع نہیں ہوگا، اور نماز ادا ہوجائے گی، مگر بلاضرورت فاصلہ چھوڑنا مکروہِ تحریمی ہے۔

البتہ اگر امام اور مقتدی اور دوسری صفوں کے درمیان شارع عام ہو ( یعنی ایسا کشادہ راستہ ہو جہاں سے گاڑی وغیرہ گزرسکے) یا ایسی وسیع نہر ہو جس سے چھوٹی کشتی گزرسکے، یا حوض شرعی (دہ در دہ) ہو تو یہ اشیاء (شارع عام، وسیع نہر، حوضِ شرعی) مسجد کے اندر بھی اتصال سے مانع ہیں، اس لیے ان رکاوٹوں کے ہوتے ہوئے اقتداصحیح نہیں ہوگی۔

نیز دائیں بائیں جانب سے بھی ایک ہی صف ہوتو مل کر کھڑا ہونا اور کندھے سے کندھے کو ملا نے کا تاکیدی حکم احادیث میں وارد ہوا ہے، یعنی مقتدیوں کو جماعت کی نماز میں مل مل کر کھڑا ہونا چاہیے،جماعت کی نماز میں دو شخصوں کے درمیان خلا چھوڑنا خلافِ سنت ہے۔

پس صفوں کے درمیان خالی جگہ چھوڑ کر فاصلے سے کھڑے ہونے کی صورت میں نماز اگرچہ ہوجائے گی تاہم سنت کے خلاف ہوگی، جس کی وجہ سے صفوں کا متصل رکھنا اور مل مل کر کھڑا ہونا ضروری ہے۔

البتہ موجودہ حالات میں اگر حکام کی جانب سے باجماعت نماز میں مل مل کر کھڑے ہونے کی اجازت نہ دی جائے، یا مسلمان ماہرین اطباء کی جانب سے موجودہ وابائی وائرس سے بچاؤ کے لیے ضروری قرار دیا جائے، تو باجماعت نماز میں دو افراد کے درمیان کسی قدر فاصلے سے کھڑے ہونے کی صورت میں نماز ادا کرنے کی گنجائش ہوگی۔

مشکوۃ شریف میں ہے :

” عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْه وَسَلَّمَ: رَصُّوْاصُفُوْ فَکُمْ وَقَارِبُوْ بَیْنَهَا، وَحَاذُوْ بِالْاَعْنَاقِ فَوَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِه إِنِّيْ لَأَرَیَ الشَّیْطَانَ یَدْخُلُ مِنْ خُلَلِ الصَّفِّ کَأَنَّهَا الْحَذَفُ. (رواه أبوداؤد)”.

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اپنی صفیں ملی ہوئی رکھو (یعنی آپس میں خوب مل کر کھڑے ہو) اور صفوں کے درمیان قرب رکھو (یعنی آپس میں خوب مل کر کھڑے ہو) اور صفوں کے درمیان قرب رکھو (یعنی دو صفوں کے درمیان اس قدر فاصلہ نہ ہو کہ ایک صف اور کھڑی ہو سکے ) نیز اپنی گردنیں برابر رکھو (یعنی صف میں تم میں سے کوئی بلند جگہ پر کھڑا نہ ہو، بلکہ ہم وار جگہ پر کھڑا ہو تاکہ سب کی گردنیں برابر رہیں ) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں شیطان کو بکری کے کالے بچے کی طرح تمہاری صفوں کی کشادگی میں گھستے دیکھتا ہوں۔

فتاوی شامی میں ہے:

“(ويمنع من الاقتداء) صف من النساء بلا حائل قدر ذراع أو ارتفاعهن قدر قامة الرجل، مفتاح السعادة أو (طريق تجري فيه عجلة) آلة يجرها الثور (أو نهر تجري فيه السفن) ولو زورقًا ولو في المسجد (أو خلاء) أي فضاء (في الصحراء) أو في مسجد كبير جدًّا كمسجد القدس (يسع صفين) فأكثر إلا إذا اتصلت الصفوف فيصح مطلقًا. (قوله: تجري فيه عجلة) أي تمر، وبه عبر في بعض النسخ. والعجلة بفتحتين. وفي الدرر: هو الذي تجري فيه العجلة والأوقار اھ وهو جمع وقر بالقاف. قال في المغرب: وأكثر استعماله في حمل البغل أو الحمار كالوسق في حمل البعير (قوله: أو نهر تجري فيه السفن) أي يمكن ذلك، ومثله يقال في قوله: تمر فيه عجلة ط. وأما البركة أو الحوض، فإن كان بحال لو وقعت النجاسة في جانب تنجس الجانب الآخر، لايمنع وإلا منع، كذا ذكره الصفار إسماعيل عن المحيط. وحاصله: أن الحوض الكبير المذكور في كتاب الطهارة يمنع أي ما لم تتصل الصفوف حوله كما يأتي (قوله ولو (زورقًا)) بتقديم الزاي: السفينة الصغيرة، كما في القاموس. وفي الملتقط: إذا كان كأضيق الطريق يمنع، وإن بحيث لايكون طريق مثله لايمنع سواء كان فيه ماء أو لا … (قوله: ولو في المسجد) صرح به في الدرر والخانية وغيرهما (قوله: أو خلاء) بالمد: المكان الذي لا شيء به قاموس”. (1/584، 585، باب الإمامة، کتاب الصلاة، ط: سعید)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

“وينبغي للقوم إذا قاموا إلى الصلاة أن يتراصوا ويسدوا الخلل ويسووا بين مناكبهم في الصفوف، ولا بأس أن يأمرهم الإمام بذلك، وينبغي أن يكملوا ما يلي الإمام من الصفوف، ثم ما يلي ما يليه، وهلمّ جرًّا، وإذا استوى جانبا الإمام فإنه يقوم الجائي عن يمينه، وإن ترجح اليمين فإنه يقوم عن يساره، وإن وجد في الصف فرجه سدّها، وإلا فينتظر حتى يجيء آخر كما قدمناه، وفي فتح القدير: وروى أبو داود والإمام أحمد عن ابن عمر أنه قال: أقيموا الصفوف وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل ولينوا بأيديكم ( ( ( بأيدي ) ) ) إخوانكم لاتذروا فرجات للشيطان، من وصل صفًّا وصله الله، ومن قطع صفًّا قطعه الله. وروى البزار بإسناد حسن عنه من سدّ فرجةً في الصفّ غفر له. وفي أبي داود عنه: قال: خياركم ألينكم مناكب في الصلاة”. ( 1 / 375) فقط والله أعلم

فتوی نمبر : 144107201203 ، دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں