فیصل واوڈ کیخلاف حلقے میں شرمناک وال چاکنگ ہو گئی

الرٹ نیوز : بلدیہ ٹائون میں فیصل واوڈا کیخلاف ایک بار پھر مہم چل پڑی ، بلدیہ ٹائون کے مختلف علاقوں میں وال چاکنگ کی جا رہی ہے کہ فیصل واوڈ تم کہاں ہو ؟

وال چاکنگ میں لکھا جا رہا ہے کہ بلدیہ کے مکین کورونا کی بیماری کیلئے ابتدائی طبی یونٹ کو بھی ترس رہے ہیں ، جب کہ آپ نے اسپتالوں کا وعدہ کیا تھا ، بعض علاقہ مکینوں کی جانب سے وال چاکنگ میں لکھا جارہا ہے کہ ’’ پوچھ رہے ہیں ٹوٹے روڈ ، کہاں گئے وہ تیس کروڑ ‘‘ ۔

اسی طرح بعض علاقوں میں بلیک رنگ سے کی گئی چاکنگ میں لکھا گیا ہے کہ غیرت نہیں ہے تو کرونا وائرس سے مر جائو ، فیصل واوڈ ! ، ایک دوسرے علاقے میں سرکاری اسکول کی بیرونی دیوار پر لال رنگ سے وال چاکنگ کی گئی ہے ، جس میں لکھا ہے ‘‘ فیصل واوڈ تجھے ووٹ دے کر ہم شرمندہ ہیں ’’ ۔

فیصل واوڈ بلدیہ ٹائون کے ٹوٹے روڈ پوچھ رہے ہیں کہ وہ تیس کروڑ روپے کہاں گئے ہیں ،

معلوم رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی فیصل واوڈ کو بلدیہ ٹائون میں سخت ہزیمت کا سامنا رہا ہے ، اور الیکشن جیتنے کے کئی عرصہ بعد بھی فیصل واوڈ علاقے کے کسی مرکزی مقام پر دفتر بھی نہیں بنا سکے تھے ، جب کہ فیصل واوڈا نے بلدیہ ٹائون کو پانی کی فراہمی ، اسپتال دینے کا سب سے پہلے اعلان کیا تھا ۔

بلدیہ ٹائون کے مکینوں کا کہنا ہے کہ فیصل واوڈ نے اس سے قبل بلدیہ کی عوام کو بے وقوف بنا کر اخوت کے قرضے دیکر اس کو امداد کا نام دیا تھا جبکہ اس نے لوگوں کو اخوت کے قرضے دیئے تھے .اور عمران خان کی طرح لوگوں کو مزید قرضوں کے بوجھ تلے دبا کر اپنا غلام بنانے کی کوشش کی ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں