آصف زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید چاروں بیٹوں سمیت عدالت سے گرفتار

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاونٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس میں حفاظتی ضمانت مسترد ہونے پر اومنی گروپ کے مالک انور مجید کو بیٹے عبدالغنی سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے ، عدالت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ 28 اگست تک موخرکر دیا۔

گرفتار ملزمان کا نام اسٹاپ لسٹ سے نکال کر ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل) میں ڈال دیا گیا،مزید جعلی اکاوئنٹس سامنے آنے پر ملزمان کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل میں بے نامی اور جعلی بینک اکاوئنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے الزام میں درج مقدمہ نمبر 04/18میں تفتیشی افسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی ابڑونے دیگر ٹیم کے ہمراہ اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر سے ملزم انور مجید ولد عبدالماجد اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو گرفتار کرلیا ہے اور ملزمان کو کراچی منتقل کی تیاری کی جارہی ہے۔

ایف آئی اے ذرائع نے بتایا کہ ملزمان ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل کے جس مقدمے میں نامزد ہیں وہ کراچی میں درج کیا گیا ہے اس لئے ملزمان کا تفتیشی ریمانڈ حاصل کرنا ضروری ہے۔واضح رہے کہ ایف آئی اے نے ملزمان سے اومنی پرائیوٹ لمیٹیڈ ،میسرز انصاری شوگر ملز،میسرز اومنی پولی میئر پیکجز ،میسر ز پاک ایتھول ،میسرز چیمبرشوگر ملزاور میسرزایگرو فارم ٹھٹھہ کے مختلف اکاوئنٹس سے رقوم کی غیر قانونی منتقلی پر تفتیش کرنا ہے۔

دوسری جانب امیگریشن ذرائع نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے باہر سے ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتاری سے قبل انور مجید کا نام اسٹاپ لسٹ میں شامل تھا اوران کی گرفتاری کے بعد ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل) میں شامل کردیا گیا ہے۔

ایف آئی اے ذرائع نے بتایا کہ بے نامی بینک اکاوئنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں تفتیشی ٹیم 32افراد کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے اور اس حوالے سے مختلف تفتیشی افسران کو علیحدہ علیحدہ اکاوئنٹس کی چھان بین کا ٹاسک دیا ہوا ہے اور اس حوالے سے ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد ملنے پر علیحدہ مقدمہ درج کیا جائے گا۔اس ضمن میں موقف جاننے کے لئے اسسٹنٹ ڈایکٹر اسٹیٹ بینک سرکل علی ابڑو سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے فون اٹھانے سے گریز کیا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *