نیب نےپبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کی انتظامیہ کو نوٹس جاری کردئیے

کراچی : قومی احتساب بیورو(نیب) نے سندھ کے سرکاری اسپتالوں کو این جی اوز کے سپر دکرنے پر پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کی انتظامیہ کو نوٹس جاری کردئیے.

.نوٹس میں این جی اوز کی تفصیلات ،ٹینڈر کے اجراءکا طریقہ کار ،ٹیکنیکل اور فنانشنل آڈٹ رپورٹس کے ساتھ دیگر اہم معاملات پر جواب طلب کرلیا. سندھ حکومت نے 2014سے مختلف سرکاری اسپتالوں کو این جی اوز کے سپرد کرنے کا عمل شروع کیا تھا ۔ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) نے محکمہ صحت سندھ کے زیر انتظام پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ذریعے مختلف سرکاری اسپتالوں کو این جی اوز کے سپرد کرنے کے معاملے میں بےقاعدگیوں پر انتظامیہ کو نوٹسسز جاری کردئیے ہیں.

نیب ذرائع نے بتایا کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاڈلو ظہورانی کو جاری نوٹس میں ان سے سرکاری اسپتالوں کو این جی اوز کے سپرد کرنے کا طریقے کار معلوم کیا اور ان سے جواب طلب کیا ہے کہ این جی اوز کوسرکاری اسپتال دینے سے قبل اشتہار جاری کرنے کی کیا پالیسی تھی اور ان اشتہارات کے ذریعے کتنی این جی اوز نے رابطہ کیا اور کس طریقے کار کو اپناتے ہوئے کتنی این جی اوز کو ٹھیکے جاری کئے گئے اور اشتہار سے قبل جاری ہونے والے ٹینڈر کی تفصیلات بھی معلوم کی گئی ہیں۔

نیب ذرائع نے بتایا کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کی انتظامیہ سے سرکاری اسپتالوں کو این جی اوز کے سپرد کرنے کے بعد کی صورتحال بھی معلوم کی گئی ہے اور ان این جی او کو فنڈ جاری کرنے اور ان کے اخراجات کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں جب کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کی انتظامیہ سے این جی او زکے سپرد کی جانے والی اسپتالوں کی ٹیکنیکل اور فنانشل آڈٹ رپورٹ بھی طلب کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے 2010 ءمیں ایسے سرکاری اسپتالوں کو این جی اوز کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا جن اسپتالوں کا کوئی پرسا ن حال نہیں ہے تاہم اس فیصلے پر اقدامات 2014 ءمیں شروع ہوئے اور سندھ حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے غیر سرکاری تنظیموں سے اسپتالوں کو چلانے کا تجربہ اور دستاویزات طلب کیں اس کے بعد 2015 ءمیں تقریباً 37 این جی او ز کو فہرست میں شامل کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ 2015 ءمیں سندھ حکومت کی جانب سے مرلن انٹرنیشنل کو ٹینڈر منظوری کے بعد ٹھٹھہ اور سجاول کے 13اضلاع میں موجود سرکاری اسپتالوں کا انتظام اس کے حوالے کیا گیا، تاہم اس دوران دنیا بھر میں مرلن انٹرنیشنل اور سیو دی چلڈرن نے اشتراک کرلیا، اس دوران پاکستان میں وفاقی وزارت داخلہ نے سیو دی چلڈرن این جی او کو کالعدم قرار دے دیا، جس کا علم این جی او کے نمائندوں کو ہونے کے بعد انہوں نے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کی ملی بھگت سے دستاویزات میں ٹینڈر لینے والی مرلن انٹرنیشنل کومرف (میڈیکل ایمرجنسی ریزیلنس فاونڈیشن) کے نام سے تبدیل کر دیا جو خلاف ضابطہ اقدام ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ قوانین کے مطابق کسی بھی سرکاری اسپتال کو گود لینے والی این جی او کے پاس کم ازکم 5سال تک اسپتال کو چلانے کا تجربہ ہونا ضروری ہے ، لیکن مرف این جی او کے پاس اس طرح کا کوئی تجربہ نہیں ہے ، جب کہ مرف نامی این جی او نے محکمہ صحت کی جانب سے جاری ٹینڈر میں حصہ ہی نہیں لیا تھا، ایسی صورت میں محکمہ صحت سندھ نے کیسے 60کروڑ سالانہ ٹینڈر پر 13اضلاع کے اسپتالوں کو اس کے حوالے کر دیا ؟۔ نیب ذرائع نے بتایا کہ محکمہ صحت میں ہونے والی تحقیقات میں ریکارڈ کی چھان بین کا عمل جاری ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *