پاکستان کا سب سے بڑا مدرسہ کون سا ہے ؟

رپورٹ : جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹائون کی بنیاد شیخ محدث العصر علامہ محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ تعالی نے رکھی تھی ، ان کی وفات کے بعد جامعہ کا اہتمام مولانا مفتی احمد الرحمن کے حوالے ہوا ، اور پھر مفتی احمدالرحمن رحمہ اللہ کی وفات (۱۴/ رجب ۱۴۱۱ھ بمطابق 21 جنوری 1991 ) کے بعد جامعہ کی مجلس شوریٰ کے فیصلے کے مطابق مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار رحمہ اللہ کو جامعہ کا مہتمم اورمولانا سید محمد بنوری رحمہ الله کونائب مہتمم مقرر کیا گیا ۔

2 نومبر 1997 کو حضرت مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ کی مظلومانہ شہادت کے بعد عمومی شوریٰ کی جانب سے حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر دامت برکاتہم کو جامعہ کا مہتمم مقرر کیا گیا اور حضرت مولانا سید محمد بنوری رحمہ الله کو نائب مہتمم کے عہدہ پربدستور برقرار رکھا . پھر1998 کو جب مولانا سید محمد بنوری رحمہ اللہ کی وفات کے بعد مجلس شوریٰ نے حضرت بنوری رحمہ اللہ کے صاحبزادے مولانا سید سلیمان یوسف بنوری حفظہ اللہ کو جامعہ کا نائب مہتمم مقرر کیا تھا ۔

جامعہ بنوری ٹائون میں‌ اس وقت بھی 15 ہزار کے لگ بھگ طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں جن کو مختلف شاخوں میں‌ مختلف کورسز کرائے جارہے ہیں . ان کورسز میں ناظرہ قرآن کریم ، تحفیظ قرآن کریم ، تجوید ، متوسطہ ، درس نظامی شامل ہیں ، جامعہ میں وفاق المدارس العربیہ کا مجوزہ نصاب پڑھایا جاتا ہے ،جامعہ کی مجلس تعلیمی نے بعض درجات میں وفاق کے نصاب کے علاوہ کئی دیگر مفید کتابیں بھی شامل کی ہیں ۔ جامعہ میں صفوف عربیہ کے تحت درجہ اولی سے درجہ رابعہ تک اردو کے علاوہ عربی زبان میں بھی تعلیم دی جاتی ہے .

جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹائون کا طرہ امتیاز
تخصصات ، علامہ محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ نے مدرسہ کی ابتداء میں دینی مدارس کے فضلاء کے لیے "تکمیل” کا درجہ کھولنے کا اعلان فرمایا، جس میں قرآن و سنت ، فقہ اسلامی اور عربی ادب جیسے علوم کی خصوصی تعلیم دینا مقصود تھا بعد میں ان کی حیات ہی میں یہ درجہ "تخصص”کے نام سے معروف ہوا ،اس درجہ میں ان مستعد فضلاء کو لیا جاتا ہے جو وفاق المدارس العربیہ کے درجہ عالمیہ (دورہ حدیث )کے سالانہ امتحان میں امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوئے ہوں ۔اس وقت تک جامعہ میں تخصّص فی الفقہ الاسلامی ،تخصص فی الحدیث اور تخصص فی الدعوۃ والارشاد کے شعبوں سے کثیر تعداد میں فضلاء مستفید ہوکر پوری دنیا میں علم دین کی خدمت میں مصروف ہیں ۔

تعلیم بنات
اس کے تحت طالبات کے لیے بھی ناظرہ ،حفظ قرآن کریم اور منتخب درس نظامی کا اہتمام ہے ،جس میں متوسطہ سے عالمیہ تک تعلیم دی جاتی ہے ،جبکہ عامہ تا عالمیہ کانصابِ تعلیم وہی ہے جو وفاق المدارس العربیہ کا مجوزہ ہے، جامعہ میں طالبات کے لیے ایک الگ مستقل عمارت قائم ہے جہاں وہ چھ گھنٹے پڑھتی ہیں اور اس کے بعد اپنے اپنے گھروں کو واپس چلی جاتی ہیں ، ان کی آمد ورفت کے لیے جامعہ کی طرف سے ایک مقررہ نظام کے تحت ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی موجود ہے ۔

دراسات دینیہ
اس کے تحت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اَحباب کے لیے مختصر کورس(دورانیہ دو 2 سال) ترتیب دیا گیا ہے، ہو پڑھایا جاتا ہے .جامعہ میں اس کورس کا دو 2 مختلف اوقات میں اہتمام کیا گیا ہے ۔ جس کے اوقات کار میں صبح 7:00 بجے تا 9:30 بجے / شام مغرب تا 10:00 بجے تک ہیں جو ہفتے میں پانچ دن (علاوہ جمعہ، اتوار) کلاسیں ہوتی ہیں ، ان کلاسوں میں‌ اسلامی عقائد، ترجمہ قرآن کریم، حدیث، فقہ، عربی زبان پڑھائے جاتے ہیں .

تعلیم بالغان
جامعہ میں بڑی عمر کے افرادخصوصا قرب وجوارمیں رہنے والوں اور دکانوں میں کام کرنے والوں کے لیے قرآن کریم کو تجوید کے ساتھ پڑھانے اور بنیادی دینی معلومات واحکام سکھانے کا اہتمام ہے ، اس کے لیے ایک نظام ترتیب دیا گیا ہے ، مغرب کے بعد ان کی کلاسیں ہوتی ہیں ۔ ان کلاسز میں جامعہ کے خدام ، چوکیداراور ڈرائیور وغیرہ اس میں لازمی طور پرشرکت کریں تاکہ وہ دینی ماحول میں رہنے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کو تجوید سے پڑھنا سیکھیں ۔

خوشنویسی
غیر درسی اوقات خصوصا عصر تا مغرب جامعہ میں طلباء کے لیے خوشخطی سکھانے کا بھی انتظام ہے ، جس کے لیے باقاعدہ دو خوش نویس استاد مقرر ہیں ۔

دورۂ تدریبیہ
جامعہ میں سالانہ امتحان کے بعد دورۂ حدیث سے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے "دورۂ تدریبیہ ” کا اہتمام کیا جاتا ہے جس کا دورانیہ تقریباً چالیس دن ہوتا ہے ۔

دارالافتاء
جامعہ کی تاسیس کے بعد محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ تدریس کے ساتھ ساتھ خود فتاوی بھی تحریر فرماتے تھے ، بعد میں انہوں نے ۱۳۸۱ھ مطابق ۱۹۶۱ء میں "دارالافتاء ” کا شعبہ مستقل کردیا اور حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ (سابق مفتی اعظم پاکستان)کو اس کا رئیس بنایا ۔ یہ جامعہ کا وہ شعبہ ہے جس پر مسلمانوں کو اپنے شرعی مسائل کے حل کے لیے مکمل اطمینان واعتماد ہے ،مفتیان کرام شرعی فتاوی صادر فرماکران کے انفرادی اور اجتماعی مسائل کاجواب تحریری صورت میں دیتے ہیں ،اسی طرح یومیہ کثیر تعداد میں لوگ خود حاضر ہوکر زبانی مسائل بھی پوچھتے ہیں، اس کے علاوہ ملک وبیرون ملک سے ڈاک کے ذریعہ آنے والے سوالات کے جوابات بھی ارسال کیے جاتے ہیں ، نیز مسلمان ذاتی ، خانگی اور اجتماعی معاملات میں بذریعہ فون بھی مسائل دریافت کرتے ہیں ۔ دار الافتاء سے سالانہ ہزاروں فتاویٰ جاری ہوتے ہیں اورجن کا باقاعدہ ریکارڈ رکھاجاتا ہے، اس وقت تک تقریباً تین لاکھ سے زائد فتاویٰ جاری ہوچکے ہیں۔

جو غیرمسلم برضا ورغبت اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں انہیں دار الافتاء میں کلمہ کی تلقین کی جاتی ہے اور”سنداسلام” بھی جاری کی جاتی ہے ، اب تک تقریباً ساڑھے چھ ہزار غیر مسلم دار الافتاء آ کر اسلام قبول کرچکے ہیں۔

تدوین فتاویٰ
دار الافتاء سے اب تک جو فتاویٰ جاری ہوئے ہیں انہیں دارالافتاء کے ریکارڈ کی مدد سے ترتیب وتدوین کے مراحل سے گذارا جارہا ہے، اس شعبہ میں دار الافتاء کے مفتیان کرام کے زیر نگرانی کئی متخصص علماء مصروف کار ہیں ،امید ہے کہ ان شاء اللہ مستقبل قریب میں جامعہ کے فتاویٰ کا مجموعہ منظر عام پر آجائے گا۔

کتب خانہ (لائبریری)
جامعہ کے احاطہ میں ایک عظیم کتب خانہ ہے،جس میں درسی کتابوں کے علاوہ علوم اسلامیہ اور دیگر علوم کی ہزاروں اہم کتابیں موجود ہیں ،یہ کتب خانہ صبح وشام کے تعلیمی اوقات کے علاوہ مغرب تاعشاء بھی کھلا رہتا ہے ، طلبہ اور اساتذہ کرام اس سے علمی استفادہ کرتے ہیں۔ دار التصنیف حضرت بنوری رحمہ اللہ نے جامعہ میں "دار التصنیف "کے نام سے ابتداء ہی میں ایک مستقل شعبہ قائم کردیاتھاجس میں ایسے موضوعات پر کتابیں تصنیف کی جاتی ہیں جن کی اس وقت امت کو ضرورت ہے ،یہ شعبہ تصنیف وتالیف کی ایسی اہم ضرورتوں کو بھی پورا کررہاہے جن کے اہل علم محتاج ہیں، نیز عظیم علمی شخصیات کی تصنیفات کا ترجمہ (اردو سے عربی اور عربی سے اردو) اس شعبہ میں کیا جاتا ہے، اب تک دارالتصنیف سے کئی تالیفات وتراجم شائع ہو چکے ہیں ۔”دار التصنیف ” کی مطبوعات میں سرفہرست محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کی شاہکار تصنیف جامع الترمذی کی عربی شرح "معارف السنن "ہے جو ان کے علم وفن کی آئینہ دار ہے ۔

جامعہ کی کتنی برانچیں ہیں ؟
جامعہ مرکز شعبہ بنین اور شعبہ بنات کے علاوہ جامعہ کی کل بارہ شاخیں ہیں، جن میں سن 1441ھ(2019ء) کے مطابق تقریباً 12,726 طلباء وطالبات زیر تعلیم ہیں، ان شاخوں میں پڑھانے والے معلمین و معلمات کی تعداد 412 ہے، جب کہ دیگر عملہ کی تعداد 245 ہے۔ شاخوں کے نام یہ ہیں:

1:-مدرسہ تعلیم الاسلام ،گلشن عمر، سہراب گوٹھ، کراچی ، 1975ء
2:-مدرسہ عربیہ اسلامیہ، غازی ٹاؤن، ملیر، کراچی، 1985ء
3:-مدرسہ عربیہ اسلامیہ ،چلیا ، ٹھٹھہ، سندھ، 1988ء
4:-مدرسہ خلفاء راشدین، پرانا گولیمار، کراچی، 1990ء
5:-مدرسہ رحمانیہ، بلال کالونی ،ملز ایریا، کراچی، 1991ء
6:-مدرسہ رشیدیہ، پی آئی بی کالونی، کراچی، 1996ء
7:-مدرسہ حفصہ(بنات)، شاہ فیصل کالونی، کراچی، 1996ء
8:-مدرسہ بدرالعلوم، شاہ نواز بھٹو کالونی، کراچی، 1997ء
9:-مدرسہ تعلیم القرآن، ولی محمد گوٹھ ملیر، کراچی، 1997ء
10:-مدرسہ دارالعلوم عثمانیہ ،بہار کالونی، کراچی، 1999ء
11:-مدرسہ تعلیم الاسلام، نزد اسلامیہ کالج، کراچی، 2000ء
12:- مدرسہ آمنہ (بنات)، کوئٹہ ٹاؤن، کراچی، 2018ء

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *