مجھے کیوں مارا ؟ علامہ ناصر مدنی

الرٹ نیوز : علامہ ناصر مدنی کو کیس اور کیوں اغواء کیا ؟ اس راز سے پردہ اٹھانے کے لئے الرٹ نیوز نے مولانا ناصر مدنی سے رابطہ کیا اور انہوں نے جاننے کی کوشش کی کہ ان کے حادثہ کب اور کیسے پیش آیا ؟

اغواء کس نے اور کیوں کیا ؟
ناصر مدنی نے الرٹ نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ لاہور مزنگ ٹو مرتضی پلازہ میں میرے وکیل عبدالماجد چوہدری بیٹھتے ہیں میں بھی وہاں بیٹھا تھا کہ لندن سے آنے والے ایک آدمی نے اپنے وٹس ایپ نمبر سے کال کی ، یہ نمبر لندن کا ہی تھا ، انہوں نے کال کرکے کہا ہم آپ کے فالور ہیں اور کورونا سے بچ کر ہم یہاں پاکستان اپنے گھر آگئے ہیں ، ہمارے لئے دعا کردیں اور اس دعا کی تقریب میں‌ آپ کھاریاں آجائیں .

ملزمان نے کہاں ٹھہرایا
ناصر مدنی بتاتے ہیں کہ انہوں نے کہا کھاریاں‌ کا مین عجوہ ہوٹل ہے وہاں آجائیں اور انہوں نے یہ کہہ کر ایک بلو نامی ایک آدمی کو بھی بھیج دیا کہ وہ مجھے ساتھ لے جائے ،میں‌ اس کے ساتھ چلا گیا ،میرا ایک دوست وہاں رہتا ہے جس کا نام ہے شیر جان ہے میں‌ نے اس کو کہا کہ میں‌ کھاریاں آرہا ہوں ، شیر جان کھاریاں میں‌ فارمیسی کا کام کرتا ہے ، میں‌ نے اسے کہا میں‌ تیرے علاوہ کسی کو نہیں‌ جانتا اس لئے تم بھی وہاں آجانا میں ہوٹل پر پہنچ گیا ، ہم نے وہاں کھانا کھایا ،اور شیر جان نے کہا میرے ساتھ گھر چلو وہاں والدہ بیمار ہیں‌ دعا کرنی ہے مگر انہوں نے نہیں جانے دیا .

کتنے لوگوں نے زد کوب کیا ؟
ناصر مدنی کا کہنا ہے کہ میں‌ جب وہاں‌ ان کے گھر گیا اور بیٹھا ہی تھا کہ فورا سے 8 سے 10 آدمی آئے انہوں نے جدید اسلحہ ہاتھ میں لے رکھا تھا ، میں نے ان سے کہا کہ میں‌ یہاں‌ دعا کیلئے آیا ہوں یا یہاں سے میرا جنازہ جانا ہے ؟ ،یہ کیا ہو رہا ہے ؟ میں نے کہا میری یہ مہمان نوازی ہے ؟ دعا ایسے کرائی جاتی ہے ؟ مگر انہوں نے کوئی بات نہیں‌ سنی اور وہ شروع ہو گئے ،انہوں نے مجھے مارنا شروع کردیا .

کپڑے کیوں‌ اتروائے ؟
ناصر مدنی کا کہنا ہے کہ انہوں نے میرے کپڑے اتروا دیئے ، سب کپڑے اتروانے کے بعد انہوں نے ایک گرم استری اٹھائی مجھے لگانے کیلئے ، انہوں نے میری داڑھی بھی کاٹی اور بال بھی کاٹے ، میں‌ نے پھر بھی ان سے کہا میرے کسی شرعی حوالے سے اعتراض نہیں‌ ہے تو داڑھی نہ کاٹیں‌، مجھے اس سے بہتر ہے مار دیں مگر اس طرح کی اذیت نہ دیں‌ انہوں نے کہا کہ ایڈمن سے بات کرائو ، میں نے اپنے فون سے ان کی ایڈمن سے بات کرائی .مجھے انہوں نے بہت مارا .

ملزمان نے کس سے فون پر بات کی ؟
انہوں نے کہا کسی اور سے فون پر بات کی اورجو کسی نے ان کو کہا کہ وہی انہوں نے میرے ایڈمن سے کہا اور ایڈمن سے پاسورڈ مانگے اور یوں میرا علامہ ناصر مدنی آفیشل چینل انہوں نے ہائی جیک کیا ، انہوں نے وہاں سے کچھ میرے بیانات ڈیلیٹ کیئے ، میرے موبائل لے لیئے اور گاڑی میں‌ تلاشی لی اور وہاں سے چیزیں نکالیں اور میرے بٹوے سے پیسے نکال لیئے .

ناصر مدنی کا چینل ہائی جیک ہو گیا
انہوں نے میرے پی چینل سے ایک ویڈیو اپ لوڈ کی کہ علامہ ناصر مدنی کو کسی نے اغواء نہیں‌ کیا بلکہ وہ کورونا کے مرض کا شکار ہو گئے ہیں اور اس لئے ڈاکٹروں نے ان کو ہر قسم کی مصروفیت سے روک دیا ہے ، انہوں نے اس سارے معاملے میں 5 سے 6 گھنٹے لگائے اور اس کے بعد ڈرائیور میرا آیا اور اس نے کہا کہ بھائی آپ ان کو کیوں‌ مارتے ہیں‌ جس کے بعد انہوں نے مجھے گاڑی میں بیٹھایا اور پھر سر نیچا کرکے وہ ہمیں گھماتے رہے .

علامہ ناصر مدنی کی مدعیت میں ملزمان کے خلاف لاہور مزنگ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج ہوا ہے

ناصر مدنی کا کہنا ہے کہ مجھے نہیں معلوم وہ مجھے کس راستے کہاں کہاں لے گئے مگر میں نے جاتے ہوئے جو دیکھا کہ کوئی علاقہ ونوریہ یا بنوریہ تھا ، انہوں نے کہا کہ آپ کے پاس 70 لاکھ کی فارچونر گاڑی ہے اور لہذاہ 50 لاکھ روپے ہمیں‌ دو پھر جائو ، میرا اے ایم ٹی کارڈ انہوں نے لے لیا تھا میں‌ نے ان سے کہا اس میں‌ 5 لاکھ روپے ہیں‌ اگر نکال سکتے ہو تو نکال لو ، چینل سے انکم ہوتی ہے وہ پیسے تھے .

میں‌ تقریر کیسے کرتا ہوں
انہوں نے کہا یہ عوامی انداز میں کیوں بولتے ہو ، ہم نے یہاں بڑے بڑے کے مذہب تبدیل کرائے ہیں تم کیا چیز ہو ، سماجی ایشوز پر مت بولا کرو، انہوں نے مجھے کچھ لوگوں کی ویڈیوز دکھائیں جس میں‌ کچھ بڑے لوگ ہیں جو اقرار کررہے تھے کہ انہوں نے ہمارے ساتھ بھی اس طرح کے ظلم کئے ہیں اور ہم خاموش ہیں ، میں نے کبھی بھی سیاسی بات نہیں‌ کی ہے میں عوامی بندہ ہوں اور عوامی باتیں کرتا ہوں .میں نے حال ہی میں ایک بات کہی تھی کہ سارے لوگ جو پھونکیں مارتے تھے وہ جمع ہوں اور ہم انہیں‌ طیارہ کرکے دیتے ہیں اور وہ چین جائیں اور جاکروہاں علاج کریں ، میری اس گستاخی کی سزا مجھے دی گئی .

اپنے بچوں سے کب ملا
علامہ ناصر مدنی نے روتے ہوئے بتایا کہ میں نے تین روز بعد بچوں کا چہرہ دیکھا ہے ، میں نے پنجاب کے 11 کروڑ عوام کو گائوں گائوں جا کر بیدار کیا ہے ، ان سے پنجابی میں بات کی ہے اور انہیں آگاہی دی ہے اور میرے ساتھ یہ سلوک ہوا ہے ،میرے اغوا کے بعد وزیر اعلی پنجاب اور آئی جی پنجاب نے نوٹس لیا میں کہتا ہوں یہ ان کو پہلے کرنا چاہئے تھا اور وہ مجھے سیکورٹی فراہم کرتے اور پر عوامی ایشو پر بولنے والے کو سیکورٹی فراہم کرتے .

دم کرنے والی سرکار کون ہے
ناصر مدنی کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ میں‌ نے حال ہی میں‌ ایک تقریر کی تھی جس میں ایک دم والے پیر کو مخاطب کرکے کہا تھا وہ چین جائیں‌ اور وہاں کورونا وائرس کا علاج کریں ، میں کسی سیاسی پارٹی کا نہیں ہوں ، میں غریب آدمی ہوں ، نیچے سے آیا ہوں اورمیں نے غریب آدمی کی بات کی ہمیشہ اور اسی لیئے میں نے ایک یتیم خانہ بھی بنایا ہے .

ناصر مدنی کو اغوا کرنے کے بعدتشدد کرنے والے ملزمان کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے

کب سے دھمکیاں ملیں
مجھے دھمکیاں بھی ملی ہیں ،تھانہ سول سیکرٹریٹ میں درخواست کی تھی کہ مجھے دھمکیاں ملی ہیں مگر مجھے سیکورٹی نہیں دی گئی ، میں‌ نے ہمیشہ پولیس کے بارے میں اچھا پیغام دیا ،میں نے ریحام خان ، مفتی عبدالقوی اور رحیم شاہ کے بارے میں بیانات دیئے ، میں نے سات ساتھ گھنٹے کے لگا تار خطابات کئے ہیں لوگ 30 تیس منٹ مجھے سے ویڈیو بناتے ہیں .میرے اس واقعہ کی انکوائری کی جائے .

میں نے گزشتہ روز لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی ہے جس میں میں نے ارباب اختیار کوسارے معاملے سے آگاہ کردیا ہے فی الحال میرے اکائونٹ ہائی جیک ہیں اس لئے وہاں‌ سے کوئی بھی ویڈیو جاری ہو اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے ،میں نے لاہور مزنگ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ بھی درج کردیا ہے جس میں پولیس نے کچھ لوگوں‌کو گرفتار بھی کرلیا ہے .

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close