کورونا وائرس کو ہم کیسے دیکھتے ہیں ، مولانا حنیف جالندھری

بلاگ : مولانا محمد حنیف جالندھری
جنرل سیکرٹری وفاق المدارس العربیہ پاکستان

اس وقت کروناوائرس کے حوالے سے دنیا بھر میں عجیب وغریب صورتحال ہے ، خوف وہراس اور سراسمیگی کی فضا ہے، لوٹ مار مچی ہوئی ہے ، ٹشو پیپرز جیسی ارزاں چیز پر کھینچا تانی ، آپا دھاپی اور ذخیرہ اندوزی کی ایسی ایسی کہانیاں ہیں کہ انسان شرم سے پانی پانی ہوجاتا ہے ، اس صورتحال کے حوالے سے چند اصولی باتیں پیش خدمت ہیں ۔

ہمارا عقیدہ اور قران کریم کا حکم ہے کہ خشکی اور تری میں جوحالات بھی آتے ہیں وہ سب اللہ رب العزت کی طرف سے اور انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ صدیوں پر محیط اس دنیا میں طرح طرح کے حالات آتے جاتے رہے، بیماریاں اور وبائیں پھیلتی رہیں، اللہ رب العزت کی طرف سے عذاب کی مختلف شکلیں ظاہر ہوتی رہیں، مختلف قوموں اور قبیلوں پرمختلف شکلوں میں عذاب نازل ہوتے رہے، ایسے میں تما م انبیاء کرام ، علماء ومشائخ اور مصلحین نے ہمیشہ لوگوں کو رجوع الی اللہ کا درس دیا .

اجتماعی توبہ واستغفار کی تلقین کی ، قران کریم میں حضرت یونس ؑکی قوم کے طرزعمل کو بطور حوالہ ذکر کیا گیا اور فرمایا گیا ہے کہ قوم یونس جیسا آئیڈیل طرزعمل کسی اور بستی والوں اور کسی اور قوم نے کیوں اختیار نہ کیا کہ ایمان لاتے ، اللہ رب العزت کی طرف متوجہ ہوتے ،اللہ رب العزت کے سامنے جھک جاتے ، توبہ واستغفار کرتے تو ان کا ایمان اور اعمال صالحہ ان کے لیے نفع بخش ثابت ہوتے ، قوم یونس کے بارے میں آتا ہے کہ ان پر عذاب کے آثار مکمل طور پر ظاہر ہوگئے ، گہرے سیاہ بادل چھا گئے ،قوم یونس کو لگا کہ ان پر عذاب آیا ہی چاہتا ہے وہ سب باہر نکلے ، کھلے میدان میں جمع ہوئے، آہ وزاری کی، توبہ واستغفار کا اہتمام کیا، اپنے اللہ کو بالآخر منا لیا اور اللہ رب العزت نے ان پر آیا ہوا عذاب ٹال دیا .

اسی طرح کا طرز عمل ہر قوم اور ہر عہد کو اپنانے کی تلقین کی گئی ہے . یہاں یہ امر بھی واضح ہو کہ جوبھی حالات آتے ہیں وہ محض عذاب خداوندی نہیں ہوتا بلکہ گاہے ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے، تنبیہ اور وارننگ ہوتی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے اخذنا ہم بالباساء والضراء لعلھم یتضرعون کہ ہم نے ان کو سختی اور مصیبت میں اس لیے گرفتار کیا تاکہ وہ گڑگڑائیں، تضرع اور آہ وزاری کریں ، دوسری جگہ ارشاد فرمایا اخذناہم بالعذاب لعلھم یرجعون ہم نے انہیں عذاب میں اس لیے مبتلا کیا تا کہ وہ رجوع کریں .

اللہ رب العزت کی طرف لوٹ آئیں ۔ اس لیے بسا اوقات حالات ، مشکلات ، بیماریاں ، پریشانیاں ، مسائل اور مشکلات انسان پرعذاب بن کر نازل ہوتے ہیں اور گاہے انسان یا انسانوں کے کسی علاقے کے لیے وہ آزمائش رحمت اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ اب اس بات کا فیصلہ کیسے ہوگا کہ یہ عذاب ہے یا آزمائش ہے ؟ اس کے بارے میں علماء ومفسرین نے یہ اصول بیان کیا ہے کہ آدمی اپنے اعمال،شب وروز،طرز عمل اور انداز کا جائزہ لے ،اپنا محاسبہ کرے اگران حالات نے اسے اللہ رب العزت کے قریب کردیا، دین وشریعت پر عمل کرنے پر آمادہ کردیا تو اس کا مطلب ہے اس پر آنے والے حالات اس کے لیے آزمائش تھے اور اگر خدانخواستہ وہ اللہ رب العزت سے دور ہو گیا مزید گناہوں ، غفلت اور گلے شکوے میں مبتلا ہوگیا تو اس کا مطلب ہے اس پر آنے والے حالات اللہ رب العزت کا عذاب ہے .

اس لیے ہمیں کسی بھی قسم کے حالات میں اللہ رب العزت کی طرف رجوع ، اپنے محاسبے، اپنی اصلاح اورتوبہ واستغفار کا سب سے پہلے اہتمام کرنا چاہیے۔ یادرہے کہ یہ جو وبا ہے اور عمومی بیماری ہے یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں آئی اگر چہ اس نام کے ساتھ پہلی دفعہ سامنے آئی لیکن اس سے قبل بیماریوں اور وباؤں کی مختلف شکلیں ظاہر ہوتی رہیں۔ خاص طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں طاعون کی وباء پھیلی تھی اس لیے اس کے بارے میں بہت واضح اصول موجود ہے۔

پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا”جس علاقے میں طاعون کی وبا ء پھیلی ہو باہر سے اس علاقے میں مت جاؤ لیکن اگر وہ وبا اس علاقے میں آجائے جس میں تم پہلے سے مقیم ہو تو وہاں سے بھاگو مت ! راہ ِفرار مت اختیا ر کرو! “ یہ ایک ایسی ہدایت ہے ، ایسا اصول ہے جسے توازن اور اعتدال کا عنوان قرار دیا جا سکتا ہے ، جو توکل اور تبطل کے درمیان لکیر کھینچ دیتا ہے ، جوخوف اور احتیاط کے درمیان فرق واضح کرتا ہے .اس وقت بد قسمتی سے ساری انسانیت ہی دو انتہاؤں پر ہے۔ ایک طرف خوف وہراس ہے ،مایوسی ہے ، لوٹ مار کا عالم ہے .

مساجد تک بند کروائی جا رہی ہیں ، وہ اعمال جو اللہ رب العزت کی رحمت کا باعث اور مصیبت سے چھٹکارے کا ذریعہ بنتے ہیں ان کے دروازے بند کیے جارہے ہیں ، جبکہ دوسری طرف ہر قسم کی احتیاطی تدابیر سے اعراض برتا جا رہا ہے ، غفلت ، لاپرواہی اورغیرذمہ داری کو توکل قرار دیا جارہا ہے حالانکہ قرآن کریم کا واضح حکم موجود ہے کہ خود کو ہلاکت میں مت ڈالو!، یاد رہے کہ یہ دونوں انتہائیں درست نہیں بلکہ احتیاط لازم ہے

علاج سنت ہے ، جان کا تحفظ فرض ہے جبکہ خوف وہراس کسی ایمان والے کو زیب نہیں دیتا، موت کا ایک دن مقرر ہے اس سے فرار کی کوئی صورت نہیں ، اس میں تقدیم وتاخیر کوئی گنجائش نہیں اس لیے اگر احتیاط کے باوجود بھی اللہ رب العزت کی طرف سے موت ہی لکھی ہے تو پھر اس بات کااستحضار رہے کہ اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کی وجہ سے ہونے والی موت کو شہادت کی موت قراردیا ہے اس لیے اللہ رب العزت سے امید ہے کہ اللہ رب العزت اس وباء کاشکارہونے والوں کو بھی یہ رتبہ نصیب فرما دیں گے .اس لیے اس صورتحال میں اعتدال اور توازن والا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

بحران کی اس کیفیت میں اجتماعی مفاد،حکومتی ہدایات اور انتظامی معاملات کوبطور خاص پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔خاص طور پر میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے سے جو افواہوں کا بازار گرم کیا جاتا ہے ، محض ریٹنگ کے لیے لوگوں میں مایوسی پھیلائی جاتی ہے یہ بہت افسوسناک ہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ نہ صرف یہ کہ حکومت کی طرف سے میڈیاپر کنڑول اور مانیٹرنگ کی جائے بلکہ خود بھی میڈیا مالکان،صحافتی تنظیموں کو اس حوالے سے ذمہ دارنہ طرز عمل اپنا نا چاہیے خاص طور پر اب سوشل میڈیا ہر آدمی کی دسترس میں ہے اسے استعمال کرتے ہوئے اور کوئی بھی چیز شیئر کرتے ہوئے بہت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

اس طرح علاج اور ادویات کے شعبوں سے وابستہ افراد کو مشکل کی اس گھڑی میں خدا خوفی اور انسان دوستی سے کام لینے کی ضرورت ہے طب کے شعبے سے وابستہ اکثر افراد جس طرح اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لوگوں کی خدمت کرتے ہیں وہ قابل تحسین ہے لیکن ان میں ایسی کالی بھیڑ یں بھی ہیں جو انسانی المیہ کو اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں ایسے عناصر پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور سب سے اہم معاملہ تاجر برادری اور عام معاشرے کا ہے کہ حالات کسی بھی قسم کے ہوجائیں لوٹ مار، کھینچا تانی ، ذخیرہ اندوزی ، اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت پیدا کرنے سے ہر قیمت پر گریز کیا جائے۔

مسنون اعمال ووظائف کا خاص طور اہتمام کرنے کی ضرورت ہے. الحمداللہ قرآن کریم، ذخیرہ احادیث میں ایسے ایسے اعمال،دعائیں،قرانی آیات موجود ہیں جو شفاء ہیں ، حفاظت کا ذریعہ ہیں ، مومن کا اسلحہ ہیں ،اہل خانہ اور بچوں کے لیے پناہ گاہ ہیں ، اس مختصر سی تحریر میں ان تمام اعمال کی تفصیل کا موقع نہیں لیکن اپنے اپنے علاقے کے علماء کرام اور مساجد کے ائمہ وخطباء سے ایسی تمام قرانی دعائیں ، مسنون اعمال ووظائف اور صبح وشام کے اذکار واوراد لے کر خود بھی ان کا اہتمام کرے اور اپنے بچوں،اہل خانہ،متعلقین اور ماتحتوں سب کو مسنون اعمال کا پابند بنائیں۔

آخری اور اہم ترین بات یہ ہے کہ مساجد کے ائمہ وخطباء،معاشرے کے بااثر افراد،حکومتی ذمہ داران اور جن جن لوگوں کو اللہ رب العزت نے کوئی اختیا ر دیاہے،سماجی حیثیت اور اثر ورسوخ عطافرمایا ہے وہ اس موقع پر قوم کی فکری،نظریاتی رہنمائی اور تربیت کا اہتمام کریں ، لوگوں کومایوسی ،خوف ،ڈپریشن ،غیرذمہ دارانہ طرزعمل ،غفلت اور بے احتیاطی سے بچائیں ، آزمائش کی اس گھڑی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں ، دعاؤں کاخاص اہتمام کیا جائے ، یاد رہے کہ دعائیں کرتے ہوئے مسلم اور غیر مسلم کی تفریق نہ کی جائے، اپنے پرائے میں فرق نہ رکھا جائے ، ہر کسی کے لیے ،پوری انسانیت کے لیے دعائیں کی جائیں ، وفاق المدارس کے قائدین کی طرف سے جو اپیل کی گئی اسے زیادہ سے زیادہ پھیلانے ،آگے پہنچانے اوراپنانے کی ضرورت ہے۔ اللہ رب العزت ہمارا حامی وناصر ہو اور ہرطرح سے،ہرجہت سے ہم سب کی حفاظت فرمائے . آمین

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *