ناصر مدنی پر تشدد کیوں ہوا ؟

بلاگ : فرحان خان

ناصر مدنی سوشل میڈیا کی ایک مشہور شخصیت ہیں ۔ مذہبی واعظ ہیں ۔ منفرد انداز کا طنز و مزاح ان کی شہرت کی وجہ ہے۔ لڑکے بالے علامہ ضمیر اختر کی طرح ان کی mems بھی بناتے رہتے ہیں۔ وسیع الظرفی دیکھیے کہ یہ دونوں حضرات اسے انجوائے کرتے ہیں۔ آج ان کی تشدد زدہ تصاویر اور پریس کانفرنس دیکھ کر دل دُکھی ہو گیا ۔

ناصر مدنی کو نامعلوم افراد نے لاہور سے اغوا کیا ، کہیں باہر لے گئے۔ اغوا کاروں نے انہیں برہنہ کر کے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور اس حالت میں ان کی ویڈیوز بنائی گئیں ۔ ان کے سوشل میڈیا چینلز بھی ہیک کر لیے گئے۔ کئی گھنٹے انہیں حبس بے جا میں رکھنے کے بعد خالی کاغذ پر ان سے دستخط لے کر انہیں دھمکیاں دے کر چھوڑا گیا۔

اس معاشرے کی شدت کا اندازہ لگائیں کہ ناصر مدنی جیسا آدمی بھی انہیں قبول نہیں جس کی آوٹ لُک درشت واعظوں والی نہیں ہے ۔ لوگ ان کے چٹکلوں کو انجوائے کرتے ہیں ۔ وہ سماجی مسائل پر اپنے منفرد اسٹائل میں طنز کرتے رہتے ہیں۔

ان کے خیالات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن یہ کیا کہ جس کی کوئی بات ناگوار گزرے ، اسے کوئی بھی جتھہ اٹھا کر لے جائے اور ننگا کر کے مار مار کر ادھ موا کر دے ۔ یہ ملک ہے یا چنڈو خانہ ہے؟ کوئی قانون ضابطہ بھی ہے یہاں؟ قانون کی عمل داری اس جنگل میں کب ممکن ہو گی؟

اردو پوائنٹ والے ہمارے دوست فرخ وڑائچ نے ناصر مدنی کا انٹرویو کیا ، ناصر مدنی اس دوران رو پڑے کہ یہ کیسا ملک ہے اور یہ کیسے لوگ ہیں۔ اس ویب سائٹ نے ویڈیو پر جو کیپشن لگایا ، وہ کافی گھٹیا اور نامناسب تھا ۔ لائیکس اور ویوز کے لیے اتنا نیچے گِر جانا کوئی اچھی بات ہیں ۔ ڈیسک پر بیٹھے کرییٹو لوگ پُرکشش کیچ لائن ضرور بنائیں لیکن موقع محل بھی دیکھ لیا کریں۔ ہر کام کی کچھ اقدار ہوتی ہیں۔

یہ بدقسمتی ہے کہ ناصر مدنی اکیلا تھا ، اگر وہ کسی منظم فرقہ پرست گروہ یا سیاسی جماعت کا رکن ہوتا تو اس کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آنے کے امکانات کم تھے ۔ فرقہ پرست واعظ مخالفین کو کیا کیا نہیں کہتے لیکن ناصر مدنی کا انداز تو ویسا تو نہیں تھا۔ وہ لطیفوں اور چٹکلوں کے سہارے اپنی بات کرتا ہے۔

باتوں کا جواب باتوں سے دینا ہم لوگ کب سیکھیں گے؟ ناصر مدنی اپنا زخمی زخمی بدن دکھانے کے بعد حکومت ، پولیس اور فوج سے درخواستیں کر رہے تھے کہ انہیں تحفظ دیا جائے۔ حکومت کو فوراً اس بدمعاش گروہ کو گرفتار کرنا چاہیے۔ ناصر مدنی اس واقعے کے بعد جس ٹراما سے گزر رہے ہیں ، اس کا تصور کر کے آدمی کانپ جاتا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *