سندھ حکومت نے دنیا کا سب سے بڑا آئسولیشن سینٹر قائم کردیا

بلاگ : عثمان غازی

پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے سکھرمیں دنیا اب تک کا سب سے بڑا آئیسولیشن سینٹر قائم کردیا ہے. اس کورونا وائرس ایمرجنسی سینٹر میں جدید سہولیات بھی دی گئی ہیں.

یاد رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت 12 ہزار سے زائد افراد کی گنجائش پر مشتمل 6 ہزار240 اپارٹمنٹس کو کرونا وائرس ایمرجنسی سینٹر میں تبدیل کرکے آئسولیشن سینٹر بنا چکی ہے، اس سے پہلے چین نے ایک ہزار بستروں پر مشتمل ووہان شہر میں کرونا ایمرجنسی سینٹر بنایا تھا۔

سندھ حکومت نے ناردرن بائے پاس کراچی میں بھی تین ہزار آٹھ اپارٹمنٹس پر مشتمل آئسولیشن وارڈز بنائے ہیں، اس کے علاوہ کوٹری میں ایک ہزار24 ، حیدرآباد میں پندرہ سو چار اور نوری آباد میں 192 اپارٹمنٹس پر مشتمل آئسولیشن ایمرجنسی وارڈز بنا دیئے گئے ہیں۔

کراچی کے تمام سرکاری اسپتالوں میں آئسولیشن سینٹرز بنائے گئے ہیں جبکہ کراچی کے علاقوں دنبہ گوٹھ اور گڈاپ میں الگ سے دو آئسولیشن سینٹر بھی قائم کئے گئے ہیں جن میں تقریبا 250 افراد کی گنجائش موجود ہے۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت اپنی مدد آپ کے تحت کرونا وائرس کی تشخیص کے لئے 10 ہزار سے زائد میڈیکل کٹس بھی منگوالی ہیں جبکہ سندھ حکومت ائیرپورٹ پر بھی اپنی مدد آپ کے تحت مسافروں میں کرونا وائرس کی تشخیص کررہی ہے۔

کورنا وائرس چین کے شہر ووہان سے دنیا کے دیگر ممالک میں پھیلا ہے، اس وائرس کی وجہ سے چین کی معیشت کو بھی زبردست نقصان ہوا، لیکن اس نے وائرس پر قابو پانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات بھی کیے جن کی دنیا بھر میں تعریف کی جارہی ہے.

ایسے میں جب یہ وائرس چین کی سرحد عبور کرکے دیگر ممالک میں پھیلنے لگا تو دنیا کی کوئی بھی حکومت اس سے لڑنے کے لیے تیار نہ تھی، جس کا نتیجہ اٹلی اور ایران جیسے بڑے ممالک میں‌ اموات کی صورت میں سامنے آیا ہے.

بلوچستان حکومت کے تفتان سرحد پر اقدامات کے باوجود یہ وائرس ایران سے پاکستان واپس آنے واالے زائرین کی مدد سے پاک سرزمین پر بھی پہنچا.

جیسے ہی کورونا نے سندھ کی دھرتی پر قدم رکھا تو سندھ حکومت فوری طور پر ایکشن میں آگئی اور اس نے ایران اور اٹلی جیسے ممالک کی پیروی نہ کرتے ہوئے پیشگی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا.

سب سے پہلے سندھ حکومت نے جو فیصلہ لیا وہ صوبے کا سب سے مشکل ترین فیصلہ تھا، کیونکہ حکومت سندھ نے امتحانات کے عین وقت صوبے کے تمام نجی و سرکاری تعلیمی اداروں‌ کو 30 منئی تک بند کردیا.

یہ واقعی مشکل فیصلہ تھا، تاہم حکومت سندھ نے اس فیصلے کو اٹھاتے ہوئے صوبے میں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں پہلا مرحلہ عبور کیا.

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایران سے واپس آنے والے زائرین میں‌ کورونا کی تشخیص ہوتی رہی، تاہم ایسے میں‌ سندھ حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے متاثرہ شہروں کراچی اور سکھر میں‌ فوری طور پر اب تک کے دنیا کے سب سے بڑے آئسولیشن سینٹرز قائم کرکے ان مریضوں کو جینے کی امنگ دے دی.

سندھ حکومت کا ایک اور بہترین اقدام یہ تھا کہ متاثرہ شہروں‌ میں‌ وائرس کے پھیلنے سے قبل ہی وہاں بڑے اجتماعات، شاپنگ سینٹرز اور ریسٹورانٹس پر بھی پابندی عائد کردی، تاکہ انسانوں‌ سے انسانوں‌ میں منتقل ہونے والے اس وائرس کو روکنے کے لیے مزید مدد مل سکے.

یہ وائرس کتنا پھیل سکتا ہے، اس کے بارے میں تو شاید کچھ نہیں‌ کہا جاسکتا، لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ سندھ حکومت کے اپنی مدد آپ کے تحت کیے جانے والے یہ اقدامات قابل ستائش ہیں.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *