جامعہ الصفہ سے 1 سال میں 160 حفاظ اور 75 علماء تیار

بلاگ : سرفراز احمد بلوچ
فاضل جامعہ الصفہ و لیکچرار بلوچستان ریزیڈنشن کالج

آج جامعہ الصفہ سعید آباد کراچی کے ختم قرآن وختم بخاری کا خوبصورت اور ایمان افروز منظر دیکھا ۔ میں کافی عرصہ سے اس جامعہ کی دینی خدمات کا قائل رہا ہوں اور ختم بخاری کی تقریب میں شرکت کی کوشش کرتا ہوں ، یہاں کا یہ سالانہ پروگرام نہایت منظم، مختصر اور جامع و مانع ہوتا ہے اورمیری رائے کے مطابق دیگر کئی مدارس کیلئے قابل تقلید بھی ہوتا ہے ۔

اس جامعہ کے دورہ حدیث کے پہلے سال سے لیکر حضرت مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ کی وفات تک ، یہاں تقریباً ہرسال ہی ختم بخاری کیلئے حضرت رحمہ اللہ ہی تشریف لایا کرتے تھے ، ہمیں بھی حضرت مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ نے ہی آخری سبق پڑھایا تھا ۔ اس سال اس تقریب میں جامعہ الصفہ کے نائب مہتمم معروف اسکالر مفتی محمد زبیر نے بتایا کہ یہ پروگرام سترہ مارچ بروز منگل کو منعقد ہونا تھا جس میں شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم کی آمد طے تھی .

جامعہ الصفہ میں تقریب میں آنے والے مہمانوں کی کثیر تعداد جمع ہے

حضرت شیخ الاسلام پہلے بھی متعدد بار جامعہ میں تشریف لا چکے ہیں مگر کرونا وائرس پر حکومتی احکام اور وفاق المدارس کے ہنگامی فیصلوں کے بعد حضرت کی آمد اوراس باقاعدہ پروگرام کو منسوخ کیا گیا اور صرف ایک دن کے مختصرنوٹس پرآج بروز پیرسولہ مارچ بعد نماز ظہرمحدود پروگرام طے کیا گیا ۔

عموماً یہاں کا پروگرام جامعہ اور اسکے صحن وپنڈال میں رکھا جاتا ہے جس کا اسٹیج دارالحدیث کے سامنے بنایا جاتا ہے مگراس دفعہ یہ پروگرام مسجد کے اندر ہی رکھا گیا ۔ مفتی محمد زبیر نے بجا طور پر اسکا اظہار کیا کہ چند گھنٹوں کے شارٹ نوٹس پر بھی حسب سابق اتنا بڑا ہزاروں کا مجمع جمع ہو گیا کہ جامعہ کی مسجد گیلری ، صحن حتی کہ مدرسہ کا صحن اور مسجد کی چھتیں بھر گئی ۔

پروگرام حسب روایت بڑا با رونق رہا ۔160 طلبہ نے حفظ مکمل کیا اور 75 طلبہ نے دورہ حدیث سے فراغت حاصل کی ۔ پروگرام میں حسب روایت اسکالر مفتی محمد زبیرنے نہایت عمدہ خطاب کیا اور طلبہ کو مجموعی اسلام کا داعی اور خادم بن کر زندگی گذارنے کی تلقین کی ۔یہ خطاب نہایت عالمانہ اور مفصل تھا اور یقیناً ایک شاندار و یادگار خطاب تھا ۔جس کا چرچہ کئی مجالس میں ہورہا ہے ۔

جامعہ الصفہ بلدیہ ٹائون کی مسجد کا اندورنی منظر

جامعہ کے استاذ الحدیث مولانا عبدالمالک اور مفتی محمد شعیب کے بیانات بھی عمدہ تھے ۔ بندہ کو بھی بطورقدیم فاضل جامعہ الصفہ اپنی مختصر کارگذاری پیش کرنے کی سعادت سے نوازا گیا ۔آخر میں ہمارے شفیق استاذ وشیخ جامعہ کے مہتمم وشیخ الحدیث مولانا حق نوازنے صحیح بخاری کا آخری سبق اور اصلاحی بیان فرمایا . جس کے بعد طلبہ کی دستاربندی کا ایمان افروزمنظر دیکھنے کو ملا ۔ یہاں کے پروگرام میں ایک خاص قسم کا نور اوربرکت واضح محسوس ہوتی ہے ، شاید اسکا ایک سبب اخلاص ہے جسکا اندازہ اس سے بھی ہورہا تھا کہ دورہ حدیث کے فضلا کا رونا اور آہ و زاری تو عوام اور مہمانوں کو بھی رونے پرمجبور کررہی تھی مگر اسکے ساتھ ساتھ جامعہ کے اساتذہ حدیث بھی دستاربندی کے وقت آنکھوں سے بہتے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ پا رہے تھے۔

واقعی استاذ و شاگرد کی روحانی کشش اور محبت کا یہ ایک دلکش منظر تھا ۔ جامعہ کا معیار تعلیم بھی کئی مدارس کیلئے قابل تقلید ہونے کے علاوہ یہاں کی حوصلہ افزائی کا طریقہ کار بھی قابل اتباع ہے ، یہاں کے طلبہ ہر سال وفاق میں ملکی سطح پر پوزیشنیں لیتے ہیں ،جنہیں عمرہ کا ٹکٹ انعام میں دیا جاتا ہے اورمیں تقریباً ہر سال ہی کئی طلبہ کو عمرہ کا ٹکٹ ملتا دیکھتا ہوں ، چنانچہ آج بھی ایسے طلبہ کو مکمل اور صوبائی پوزیشن ہولڈرکو آدھا عمرہ کا ٹکٹ دیا گیا ، ہرسال ایک استاذ کو جامعہ کی طرف سے حج پر بھیجا جاتا ہے ،چنانچہ انہیں حج کی رقم حوالہ کی گئی .

اس پروگرام کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس سال وقت کی ضرورت اور پیش آمدہ صورتحال کے تناظر میں ایک عمدہ قدم اٹھایا گیا جسکی تفصیل بتاتے ہوئے مفتی محمد زبیرنے اعلان کیا کہ ہر سال کے فضلا تو ختم بخاری کے بعد جامعہ میں رہ کر وفاقی امتحان دیکر ہی ہمیشہ کیلئے جامعہ سے رخصت ہوجایا کرتے ہیں مگر اس سال کرونا کی وجہ سے وفاقی فیصلہ کے مطابق ان طلبہ کو امتحان دینے کیلئے چونکہ کچھ دنوں کے بعد دوبارہ واپس آنا ہے تو کسی نئے اضافی معاشی بوجھ سے طلبہ کو بچانے کیلئے دورہ کے تمام جدید فضلا کو کپڑوں کتابوں اور دیگر انعامات کے علاوہ آمدورفت کا مکمل کرایہ بھی دینے کا اعلان کیا گیا .

اس سلسلے میں تمام طلبہ کو پانچ پانچ ہزار روپے کا لفافہ بھی پیش کیا گیا ۔ میں کل سے سوشل میڈیا پر کئی طلبہ کی طرف سے وفاقی فیصلہ پر کرایہ کے اضافی بوجھ کی بنا پرمسلسل تنقید کا مشاہدہ کررہا تھا ، ایسے میں جامعہ الصفہ کا یہ عمدہ اقدام دیگر مدارس کیلئے بھی قابل تقلید نمونہ ہے ۔

بہرحال جامعہ کے پروگراموں کا آج تک کوئی اشتہار و دعوت نامہ نہیں چھپا مگر حیرت ہے کہ چند گھنٹوں کے انتہائی مختصر نوٹس پر اتنے بڑے مجمع کا پہنچ جانا جہاں جامعہ سے لوگوں کی والہانہ عقیدت کا ثبوت ہے ، وہاں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اخلاص کے ساتھ مختصر، باوقار، سنجیدہ ، منظم اورخالص علمی و اصلاحی پروگرام کی ہمارے معاشرے میں آج بھی شدید پیاس اورتشنگی رہتی ہے، ایسے پروگرام عوام کے انتظار کا مرکز ہوتے ہیں ۔ جبکہ کئی مدارس اپنے پروگراموں کو کامیاب کرنے کیلئے مختلف خطیبوں کا سہارا لینے پر مجبور ہوتے ہیں ۔انہیں اپنے مجموعی رویے اور طریقہ کار پر نظرثانی کی ضرورت ہے ۔بہرحال آج ایک بار پھر جامعہ الصفہ ایک اور کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد کی مستحق ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *