دریائے راوی کا خوبصورت منظر

تحریر/تصویر : عمیر اقبال

صوبہ پنجاب میں دریائے سندھ اوراس کے ساتھ ساتھ دریائے جہلم ، دریائے چناب، دریائے راوی اور دریائے ستلج بہتے ہیں۔

دریائے راوی ضلع کانگڑا میں درہ روتنگ سے نکلتا ہے اور ساڑھے چار سو میل لمبا یعنی 720 کلومیٹرطویل ہے۔ پاکستانی پنجاب کا درالحکومت لاہور اسی دریا کے کنارے واقع ہے ۔ دریائے راوی اور دریائے چناب کا درمیانہ علاقہ دوآبہ رچنا کہلاتا ہے ۔ یہی دریائے راوی پہلے ایراوتی کہلاتا تھا۔

نہریں

دریائے راوی کی بڑی بڑی نہروں میں اپر باری دواب مادھو پور بھارت سے نکلتی ہے ۔ اس کی قصور برانچ پاکستان کو سیراب کرتی ہے۔ نہر لوئر باری دوآب کے ہیڈورکس بلوکی میں ہیں۔ یہ نہر اضلاع ملتان اور منٹگمری کو سیراب کرتی ہے۔ انہار ثلاثہ ان میں دریائے راوی، چناب اور جہلم کی تین نہریں اپر جہلم، اپر چناب اور لوئر باری دواب شامل ہیں۔

گنجی یار منٹگمری اور ملتان کو سیراب کرنے کے لیے راونی کا پانی کافی نہ تھا۔ چنانچہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے چناب کا پانی بلوکی کے مقام پر بذریعہ نہر اپرچناب دریائے راوی میں ڈالا گیا۔ اس سے نہر لوئر چناب کا پانی کم ہو گیا۔ اور گوجرانولہ شیخوپورہ، لائلپور (موجودہ نام فیصل آباد) اور جھنگ کے اضلاع کے لیے پانی ناکافی ثابت ہونے لگا۔

چنانچہ منگلا کو نہر اپر جہلم کا پانی خانکی کے مقام پر دریائے چناب میں ڈال دیاگیا۔ اضلاع لائل پور، گوجرانولہ، ساہیوال اور ملتان کی نہری آبادیاں انہار ثلاثہ کی بدولت ہی سیراب ہوتی ہیں ان میں اعلیٰ قسم کی گندم اور امریکن کپاس پیدا ہوتی ہے۔ دریائے راوی کے پرانے حصے کو بڈھا راوی بھی کہا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں