کراچی میں 385 غیرقانونی قائم ہونے والے شادی ہالوں کو گرانے کی تیاری

الرٹ نیوز : عدالت عظمیٰ کے حکم پر سندھ بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی ( ایس بی سی اے ) نے جلد ہی رفاہی اور رہائشی سمیت تمام پلاٹوں پر خلاف قانون تعمیر کیے گئے 385 بینکوئٹ ، شادی لانز اور ہالوں کے خلاف بھر پور کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس مقصد کے لیے پورے شہر میں موجود غیر قانونی شادی لانز ، بنکوئیٹ اور ہالز کی فہرست کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اس حوالے سے جب نمائندہ جسارت نے ایس بی سی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل انجینئر آشکار داور سے رابطہ کیا تو انہوں نے مکمل غیر قانونی اور جزوی طور پر خلاف قانون بنائے گئے لانز ، بنکوئیٹ اور ہالز کے خلاف کارروائی کرنے کے فیصلے کی تصدیق کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شادی و ہالز ، لانز اور بنکوئیٹ کے حوالے سے پہلے ہی پالیسی بناکر خلاف قانون چلائے جانے والے بنکوئیٹ وغیرہ کو نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں جبکہ انہیں متنبہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نے بتایا ہے کہعدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس گلزار احمد کا حکم ہے کہ شہر کراچی میں ہر قسم کی غیر قانونی تعمیرات ختم کردی جائیں۔ ورنہ متعلقہ اداروں کے خلاف توہین عدالت سمیت دیگر کارروائی کا حکم بھی دیا جاسکتا ہے۔

دریں اثناء ایس بی سی اے سے حاصل ہونے والی جائزہ رپورٹ کے مطابق شہر کے 13 ٹاؤنز میں مجموعی طور پر 385 شادی لانز ، بینکوئیٹ اور ہالزغیر قانونی طور پر چلائے جارہے ہیں جن میں بیشتر رہائشی اور رفاہی پلاٹوں پر تعمیر کیے گئے ہیں۔جن میں سب سے زیادہ اونگی ٹاؤن میں ہیں جن کی تعداد 74 ہے۔ غیر قانونی شادی ہال ،لانز اوربینکوئٹ رکھنے والا دوسرا ٹاؤن گلشن اقبال ون ہے جہاں 68 غیر قانونی لانز و بنکوئیٹ موجود ہیں۔

گلشن ون ٹاؤن ، گلشن اقبال کے بلاک ایک تا 17 ، کمشنر سوسائٹی ، گلناب اور رضوان کوآپریٹیو سوسائٹی کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ایس بی سی اے کے ٹاؤنز کے مطابق غیر قانونی شادی ہالز وغیرہ رکھنے والا تیسرا ٹاؤنز کورنگی ہے جہاں 45 ایسے لانز موجود ہیں۔ ایس بی سی اے کے ریکارڈ کے مطابق اس طرح نارتھ ناظم آباد ٹاؤن میں 38 ، گڈاپ ٹاؤن میں 30 ، نارتھ کراچی میں 28 ، شاہ فیصل ٹاؤن میں 22،گلشن ٹو میں 20 ، بلدیہ ٹاؤن میں 19 ، جمشید کوارٹر ٹاؤن ون میں 14 اور ٹو میں 11 ، بن قاسم ٹاؤن میں 8 اور صدر ٹاؤن ون میں 8 شادی لانز ، ہالز اور بینکوئٹ غیر قانونی ہیں۔ کورنگی میں موجود 45 خلاف قانون لانز میں 42 بینکوئٹ اور ہالز رہائشی پلاٹس ایک کمرشل پلاٹ اور 2 رفاہی پلاٹس پر تعمیر کیے گئے ہیں۔

ایس بی سی اے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام بینکوئٹ ،لانز اور ہالز کے خلاف زیادہ سے زیادہ 2 ماہ میں کارروائی شروع کردی جائے گی۔ خیال رہے کہ مذکورہ تمام شادی ہالز، لانز اور بنکوئیٹ میں نہ صرف دسمبر تک تقریبات کی مجموعی رقم کے 75 فیصد رقم کے عوض بکنگ کی جاچکی ہے اور کی بھی جارہی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *