جمعرات, ستمبر 21, 2023
جمعرات, ستمبر 21, 2023
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

پاکستانشرح سود بلند ترین سطح پر ‛ میثاق معیشت کی ضرورت

شرح سود بلند ترین سطح پر ‛ میثاق معیشت کی ضرورت

ملکی معیشت کی صورت حال ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب ہوتی جارہی ہے، اس دوران اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں مزید ایک فیصد کا اضافہ کردیا ہے، جو اب 16 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس کا پہلا نتیجہ پیر کو اسٹاک مارکیٹ بیٹھنے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

معاشی صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب تو ن لیگ کے رہنما اور چند ہفتے پہلے تک وزیر خزانہ کے عہدے پر موجود رہنے والے مفتاح اسماعیل نے بھی کہہ دیا ہے کہ پاکستان کا ڈیفالٹ رسک خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے۔

انگریزی اخبار کے لئے لکھے گئے آرٹیکل میں انہوں نے پارٹی کی سینئر رہنما اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو مشورہ دیا ہے کہ ان کی پہلی ترجیح یہ نہیں ہونی چاہیے کہ درآمدات کو آسان اور برآمدات کو مشکل بنایا جائے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں وہ اسحق ڈار کی جانب سے ڈالر کو مصنوعی طور پر کنٹرول کرنے کے اقدامات کی مخالفت کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں:مچھلی کے پیٹ میں 3 دن زندہ رہا!!

مفتاح اسماعیل نے بھی دیگر معاشی ماہرین کے اس خدشے کو دہرایا ہے کہ دسمبر کے بانڈز کی ادائیگی کے بعد بھی ڈیفالٹ کا خطرہ ختم نہیں ہوگا۔ ہمارے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، مارکیٹوں اور قرض دہندگان کو یقین دلانے کیلئے ٹھوس اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔

مفتاح اسماعیل نے معیشت کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا ہے، یہ نئے نہیں ہیں، دیگر معاشی ماہرین اسے سے زیادہ خطرناک صورت حال کا نقشہ پیش کرتے نظر آتے ہیں۔

وزیرخزانہ اسحق ڈار نے عہدہ سنبھالتے ہی یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ڈالر کو 200 سے نیچے لائیں گے، بلکہ 180 تک لانے کی باتیں کی گئیں، لیکن تقریباً دو ماہ ہوگئے ہیں، ڈالر اب بھی 223 سے 225 روپے کی رینج میں ہے، اور یہ بھی سرکاری یا سرکار کو دکھانے کے لئے منی چینجرز کی جانب سے ظاہر کئے گئے نرخ ہیں۔

ورنہ اوپن مارکیٹ میں اس وقت ڈالر یا دوسری غیرملکی کرنسی کا حصول بہت مشکل ہوگیا ہے، اگر ڈالر دستیاب بھی ہے، تو اس کے لئے 240 سے اوپر کا ریٹ چل رہا ہے، تاجر اور بیرون ملک جانے والے پاکستانی ڈالر کی عدم دستیابی سے پریشان ہیں، دوسری طرف ڈالر کی قدر مصنوعی طور پر کم دکھانے کی کوشش میں ایک متوازی بلیک مارکیٹ وجود میں آچکی ہے،جس سے ملک کو مزید نقصان ہورہا ہے۔

مزید پڑھیں:بارڈر میں کاروبار کرنے والے گاڑی مالکان کی تربت میں ریلی

ترسیلات زر کی وصولی میں کمی کی ایک وجہ بھی یہ بلیک مارکیٹ ہے، جہاں اوورسیز پاکستانیوں کو زیادہ رقم کی پیش کش کی جارہی ہے، ایک طرف کرنسی مارکیٹ کی یہ صورت حال ہے، تو دوسری جانب حکومت نے شرح سود میں مزید ایک فیصد کا غیر متوقع اضافہ کردیا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے شرح سود 15 سے بڑھا کر 16 فیصد کردی ہے، جو گزشتہ 24 برسوں میں سب سے زیادہ شرح سود ہے، اس سے قبل 1998 میں ساڑھے 16 فیصد شرح سود تھی، شرح سود میں اضافے کا مطلب ہے کہ اب کاروبارکے لئے سرمائے کا حصول مزید مہنگا ہوجائے گا، اور کاروباری شخصیات کے لئے یہ شرح کسی صورت بھی 20 فیصد سے کم نہیں ہوگی۔

ملکی معیشت پہلے سے جمود کا شکار ہے، تعمیراتی صنعت، ٹیکسٹائل ، آٹو انڈسٹری ، خدمات کا شعبہ سب مشکلات کا شکار ہیں، مارکیٹ میں اشیا کی کھپت تیزی سے کم ہورہی ہے، جس سے صنعتی شعبہ کا بحران بڑھ رہا ہے، اور کارخانے بند ہورہے ہیں، ایسے میں شرح سود میں اضافہ کا فیصلہ کسی طور پر سود مند ثابت نہیں ہوسکتا۔

اس فیصلے کے اثرات پیر کو ہمیں اسٹاک مارکیٹ میں بھی نظر آئے، جہاں پہلے سیشن میں 100 انڈیکس 2 فیصد گر گیا۔ 832 پوائنٹس کمی سے ہنڈرڈ انڈکس 42 ہزار 71 پوائنٹس پر بند ہوا۔

مزید پڑھیں:برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر سارہ مونے کا گوادر کا دورہ

دوسری طرف شرح سود میں اضافے سے خود حکومت پر قرضوں کا بوجھ بے پناہ بڑھ جائے گا، اور اس کی قیمت عوام مہنگائی اور اضافی ٹیکسوں کی صورت میں ادا کریں گے، کیوں کہ اس وقت بینکوں سے سب سے زیادہ قرضے حکومت لے رہی ہے۔

حکومت نے ٹریژی بلز اور انویسٹمنٹ بانڈز کے ذریعہ جو 5 کھرب کے قرضے لئے ہوئے ہیں، وہ اگلے تین ماہ میں میچور ہورہے ہیں، اور ان کی ادائیگی کے لئے حکومت مزید کم از کم اتنی مالیت کے قرضے لے گی، جن پر نئی شرح سود کا اطلاق ہوگا۔

شرح سود میں اضافہ اس لئے بھی حیران کن ہے کہ ایک طرف وزیرخزانہ اسحق ڈار سود کو چند برسوں میں ختم کرنے کے اعلانا ت کررہے ہیں، اور دوسری جانب شرح سود میں اضافہ کردیا گیا ہے، سود کی شرح میں اضافے کے ذریعہ افراط زر یعنی مہنگائی کنٹرول کرنے کی جو تھیوری پیش کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں:رکن صوبائی اسمبلی، چئیرمین ڈیڈک اپر چترال کی سربراہی میں اہم اجلاس کا انعقاد

یہ بھی ویسے شروع سے غیرمنطقی ہے، لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں اسے اپنایا جاتا رہا ہے، لیکن اب ترکیہ سمیت کئی ممالک نے اس نظرئیے کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ترکیہ میں جہاں پاکستان سے بھی زیادہ افراط زر ہے، شرح سود مسلسل کم کی جا رہی ہے، اور اب وہ سنگل ڈیجٹ میں لائی جاچکی ہے، ملک کی جو معاشی صورت حال ہے، وقت آگیا ہے کہ اسے چھپانے کے بجائے کھل کر قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔

سیاسی قیادت بھی معیشت پر متحد ہو، اور ملک کو اس بحران سے نکالنے کے لئے ماہرین کی مدد سے میثاق معیشت تیار کیا جائے اور اس کا آغاز توانائی کے شعبے سے کیا جائے۔

ڈیڈ لائن کے ساتھ تمام بجلی گھر تھر کے کوئلے سمیت مقامی وسائل پر منتقل کئے جائیں، کیوں کہ معیشت کو موجودہ حال تک پہنچانے میں سب سے زیادہ کردار توانائی کے شعبے کا ہے، ہماری حکومتوں نے نجی بجلی گھروں کے ساتھ ایسے ظالمانہ معاہدے کئے، جن کی وجہ سے ہماری معیشت یرغمال بن گئی، اور آج ہم دیوالیہ ہونے کے کنارے پر کھڑے ہیں۔

متعلقہ خبریں