ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

تازہ ترین10 سالہ فلسطینی بچہ : 30 دن میں حفظِ قرآن مکمل

10 سالہ فلسطینی بچہ : 30 دن میں حفظِ قرآن مکمل

اسرائیلی ناکہ بندی میں محصور غزہ کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل کہا جاتا ہے۔ غزہ روئے زمین کا سب سے زیادہ غربت زدہ علاقہ ہے۔ جس پر اسرائیل کی بمباری بھی وقفے وفقے سے جاری رہتی ہے۔ مگر اسرائیلی درندگی کے باوجود اہلِ غزہ کے عزائم اور اپنے مذہب سے دلی وابستگی روز روز بڑھتی جا رہی ہے۔ امیدوں اور آرزﺅں کی قتل گاہ ”غزہ“ کے باسیوں پر ربّ کی رحمت بھی سایہ فگن ہے کہ انہیں دنیا میں سب سے جلدی کلام الٰہی حفظ ہو جاتا ہے۔

اب تو غزہ میں گرمیوں کی چھٹیوں میں بچے مکمل قرآن حفظ کر کے دنیا کو حیرت میں ڈال رہے ہیں۔ جبکہ ایک 10 سالہ بچے نے تو صرف ایک ماہ میں پورا کلام پاک حفظ کر لیا۔ فلسطین آن لائن کے مطابق، اسرائیلی درندگی اور مصر کی جانب سے سرنگوں کی بندش کے بعد ہمت و حوصلے کی چوٹی پر کھڑے اہل غزہ نے کلام الٰہی سے قریبی تعلق جوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بچے گرمیوں کی دو ماہ کی چھٹیوں میں قرآن کریم حفظ کرتے ہیں۔

مذید پڑھیں : وفاقی اردو یونیورسٹی میں جزو وقتی ملازم کو بقایہ جات کے ساتھ توسیع دینے کا انکشاف

یہ سلسلہ تو 2007ء میں اسی وقت شروع ہوا تھا، جب اسرائیل نے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کی تھی۔ تاہم ابتدا میں لوگ انفرادی طور پر مساجد میں بیٹھ کر حفظ کرتے تھے۔ مگر اب باقاعدہ ”جمعیت دارالقرآن“ کے نام سے حفظ کے مدارس کھل چکے ہیں۔ پہلے سال صرف 400 افراد نے دو ماہ میں قرآن حفظ کیا، اگلے برس ان کی تعداد 3 ہزار تک پہنچ گئی۔ 2009ء میں نئے حفاظ کیلئے پہلی بار تقریب منعقد کی گئی، جس میں دو ماہ میں حفظ کرنے والے 16 ہزار افراد کو اسناد جاری کی گئیں۔

2010ء میں 24 ہزار بچوں نے گرمیوں کی چھٹیوں میں مدارس کا رخ کیا، جن میں سے بیشتر کی عمریں 14 سے 17 تھیں۔ تقریب میں حماس کی مرکزی قیادت بھی شریک ہوئی اور اب غزہ میں جلد از جلد قرآن حفظ کرنے کے نئے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں۔ غزہ کے 10 سالہ بچے نے صرف ایک ماہ میں پورا قرآن مجید حفظ کر کے ریکارڈ قائم کیا ہے۔

عبد العزیز الرنتیسی کون ہیں ؟

غیر معمولی ذہانت اور قوت حافظہ کے مالک بچے کا نام بھی ایک مشہور فلسطینی رہنما شہید عبد العزیز الرنتیسی کی نسبت سے رکھا گیا ہے۔ عبد العزیز الرنتیسی شہید صہیونی فوج کے فضائی حملے سے قبل اس گھر میں مقیم تھے، جہاں کچھ دنوں کے بعد اس بچے نے جنم لیا۔ وہ اس مکان سے نکلے ہی تھے کہ اسرائیل کے ایک بمبار طیارے نے ان پر میزائل گرا کر شہید کر دیا تھا۔ ڈاکٹر عبد العزیز الرنتیسی شہید اسلامی تحریک مزاحمت ”حماس“ کے بانی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ روحانی پیشوا الشیخ احمد یاسین شہیدؒ کی شہادت کے بعد حماس کے سربراہ منتخب ہوئے تھے۔

جماعت کی قیادت سنبھالنے کے چند ہفتے بعد ہی اسرائیل نے انہیں ایک فضائی حملے میں شہید کرد یا تھا۔ ڈاکٹر عبد العزیز الرنتیسی کی شہادت کے چند روز بعد اسی گھر میں الشیخ عبد العزیز کے ہاں ایک بچے نے جنم لیا، جس کا نام حما،س کے شہید رہنما کی نسبت سے ”عبد العزیز الرنتیسی“ رکھا گیا۔

ننھے الرنتیسی کے والدین کی خواہش تھی کہ وہ اپنے لخت جگر کے سینے کو قرآن کریم سے منور کریں۔ چنانچہ انہوں نے بچے کو نہایت چھوٹی عمر میں قریبی ایک مکتب میں داخل کرا دیا۔ بچہ جس غیر معمولی ذہانت اور قوت حافظہ کا مالک تھا، اس کے نتیجے میں وہ روزانہ ایک پارہ قرآن پاک حفظ کرنے لگا۔ یوں اس نے تیس دنوں یعنی ایک ماہ میں پورا قرآن پاک یاد کر کے ثابت کر دیا کہ حق تعالیٰ اس دور فسوں میں بھی اپنے پاک کلام کو مسلمانوں کے دلوں میں کیسے نقش فرما رہا ہے۔ننھے عبد العزیز الرنتیسی کے والدین اور اساتذہ بتاتے ہیں کہ بچہ نہایت ذہین اور بلا کی یادداشت کا مالک ہے۔ اس نے کم عمری میں جتنے کم وقت میں قرآن پاک حفظ کیا ہے، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

مذید پڑھیں : رشتہ ٹھکرانے پر پی ایچ ڈی طالب علم نے ساتھی طالبہ کے ہمراہ خود سوزی کر لی

بچے کی والدہ کہتی ہیں کہ عبد العزیز کو قرآن پاک حفظ کرنے کا بے شوق تھا، ہم سو کر بیدار ہوتے تو اسے قرآن پاک کی آیات یاد کرتے دیکھتے۔ جب سوتے تب بھی وہ قرآن پاک یاد کر رہا ہوتا۔ اس طرح اس نے صرف ایک ماہ کے کم عرصے میں پورا قرآن پاک یاد کر لیا۔ والدہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے حفظ قرآن کی سعادت حاصل کرنے پر اپنے جذبات بیان نہیں کر سکتیں۔

اس کے ہم جماعت دوسرے بچوں اور اساتذہ کا بھی کہنا ہے کہ عبد العزیز جس سرعت کے ساتھ آیات قرآنی یاد کرتا رہا ہے، اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ عبد العزیز کے استاد قاری ابو بکر کہتے ہیں کہ میں برسوں سے قرآن پاک کے حفظ کی کلاس پڑھاتا ہوں، مگر آج تک کسی بچے کو ایک ماہ کیا، دس ماہ میں بھی قرآن پاک حفظ کرتے نہیں دیکھا۔ بچوں کی قوت یادداشت یا حافظہ مختلف ہوتا ہے، مگر عبد العزیز جیسی قوت حافظہ کسی کی نہیں ہے۔

عبد العزیز کا شمار مکتب کے ان ممتاز ترین بچوں میں پہلے نمبر پر ہوتا ہے، جنہوں نے بہت کم عرصے اور چھوٹی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔ قاری ابو بکر نے بتایا کہ عبد العزیز روزانہ ایک پارہ قرآن پاک سناتا رہا اور ایک ماہ کے بعد جب پورا قرآن یاد کر لیا تو اس نے ایک بار سارا قرآن مجید دوبارہ سنایا۔ بچے سے جب پوچھا جاتا ہے کہ آپ کی کیا خواہشات اور تمنائیں ہیں؟ تو اس کا کہنا ہے کہ میری دو تمنائیں ہیں۔ ایک تمنا قرآن پاک حفظ کرنا تھا، جو رب نے پوری کر دی اور دوسری تمنا یہ ہے کہ میں فلسطینی قوم کا رہنما بننا چاہتا ہوں۔

مذید پڑھیں : کراچی :‌ کانسٹیبل کے قاتل کے بعد DC نوشہرو فیروز بھی FIA حکام کی مہربانی سے فرار

عبد العزیز کی والدہ نے کہا کہ انہوں جب بچے کو مکتب میں داخل کرایا تو اسی وقت اس کی غیرمعمولی ذہانت کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئی تھیں۔ جب بچے اس سے اس کا نام پوچھتے تو وہ جواب میں کہتا کہ ”میں لیڈر عبد العزیز الرنتیسی ہوں“۔ والدہ کا کہنا ہے کہ ان کے بچے کا اتنی کم عمری اور تیزی کے ساتھ قرآن پاک حفظ کرنا ان سب کے لیے باعث اعزاز اور رب کا احسان عظیم ہے۔ اس کے علاوہ بچے کو حفظ کرانے میں مغربی غزہ کی جامع مسجد النور کے اساتذہ کی ان تھک محنت بھی شامل ہے، جنہوں نے اس کی صلاحیت کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔

کم سن عبد العزیز الرنتیسی کے والد ڈاکٹر عبد الرب النبی الرنتیسی نے بھی اپنے بچے کی کم عمری میں قرآن پاک حفظ کرنے کی سعادت پر غیر معمولی خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ عبد العزیز کی عمر ابھی دس سال نہیں ہوئی۔ اس نے صرف ایک ماہ کے اندر اندر قرآن پاک حفظ کرکے ہم سب کو حیران اور خوشی سے نہال کر دیا ہے ۔

متعلقہ خبریں