ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

تازہ ترینوفاقی اردو یونیورسٹی میں جزو وقتی ملازم کو بقایہ جات کے ساتھ...

وفاقی اردو یونیورسٹی میں جزو وقتی ملازم کو بقایہ جات کے ساتھ توسیع دینے کا انکشاف

کراچی : وفاقی اردو یونیورسٹی میں آئے روز نت نئے مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں ، اس سے پہلے الرٹ نیوز نے ایک ملازم کے جعلی شناختی کارڈ پر بھرتی ہونے کی خبر دی تھی ۔ جس کے بعد اب ایک اور ملازم شعبہ کیمیا کے لیب اٹینڈنٹ ( یومیہ اجرت ) نبیل خورشید کو نومبر ٢٠٢١ سے توسیع دے دی گئی ہے اور ذرائع کے مطابق سال 2021 سے اب تک کے تقریبا 90000 کی رقم بھی ادا کر دی گئی ہے ۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے دو وائس چانسلرز نے نبیل خورشید کی دو مرتبہ دی گئی درخواستوں پر اجازت دینے کے بجائے مذید توسیع دینے سے انکار کر دیا تھا اور سمری کی منظوری نہیں دی تھی ۔

جس کے بعد ایک بار پھر نبیل خورشید نے موجودہ انتظامیہ کے ذریعے درخواست دی ، جس میں موقف اختیار کیا کہ 4 نومبر 2021 کو جامعہ آتے ہوئے ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا جس کے بعد وہ 14 جنوری 2022 کو یونیورسٹی آئے اور شعبہ کیمیا میں حاضر بھی ہوئے مگر سیڑھیاں چڑھ کر بایو میٹرک حاضری نہیں لگا سکے ۔ یہ درخواست انہوں نے 9 فروری 2022 کو دی ۔جس کے بعد 18 فروری کو ایک اور درخواست کر یہی موقف اختیار کیا ہے ۔

مذید پڑھیں : رشتہ ٹھکرانے پر پی ایچ ڈی طالب علم نے ساتھی طالبہ کے ہمراہ خود سوزی کر لی

الرٹ نیوز کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق نبیل خورشید کی دی گئی درخواستوں پر سابقہ انتظامیہ اور رجسٹرار نے 24 جنوری 2022 کو لکھا تھا کہ جزو وقتی ملازمین کے لئے اتنی طویل رخصت کی اجازت نہیں ہے ، لہذاہ ان کو دوبارہ جوائننگ نہیں دی جا سکتی ۔

بعد ازاں موجودہ انتظامیہ کے آنے کے بعد نیبل خورشید کی ٹیم نے دو وائس چانسلرز کی مسترد کردہ درخواستوں کے بعد اب دو سال پہلے کے گڑھے مردے کو اکھاڑ کر نیبل خورشید کو پھر سے نوکری پر بحال کر دیا ہے اور اس کے علاوہ انہیں 90 ہزار روپے کے واجبات دی ادا کئے گئے ہیں ، جبکہ یونیورسٹی مالی کمی کا رونا رو رہی ہے اور سرکاری خرچ پر اعلی افسران اسلام آباد میں سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں ۔

ایک طرف اردو یونیورسٹی میں نئے منتخب ہونے والے اساتذہ کی تنخواہ ادا نہیں کی جا رہی ، دوسری جانب جعل سازی کرنے والے ملازم تنویر حسین کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی اور اب نبیل خورشید جیسے گھوسٹ ملازم کو یکمشت 90000 کی ادائیگی کرنے کو کوشش جاری ہے ۔

مذید پڑھیں : کراچی :‌ کانسٹیبل کے قاتل کے بعد DC نوشہرو فیروز بھی FIA حکام کی مہربانی سے فرار

ذرائع کے مطابق مذکورہ 90 ہزار روپے بعض ملازمین میں تقسیم کئے جائیں گے ۔ کیونکہ اس سے پہلے ایک اسسٹنٹ رجسٹرار اس طرح کے کام کرانے کے بدلے ملازمین سے یونیورسٹی سے ملنے والی رقم میں اپنا حصہ وصول کرتے رہے  ہیں

عظمت خان
عظمت خانhttps://alert.com.pk
عظمت خان بحیثیت رپورٹر گزشتہ 15 برس سے ملک کے مختلف پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں اور مذہبی، تعلیمی ، لیبر، فراہمی و نکاسی آب سمیت مختلف امور اور شعبہ جات کے حوالے سے خبروں اور تحقیقاتی رپورٹس کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں ۔ وہ کتابوں کے مصنف اور ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔
متعلقہ خبریں