ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

تازہ ترینکراچی :‌ کانسٹیبل کے قاتل کے بعد DC نوشہرو فیروز بھی FIA...

کراچی :‌ کانسٹیبل کے قاتل کے بعد DC نوشہرو فیروز بھی FIA حکام کی مہربانی سے فرار

تحریر: نیاز احمد کھوسہ ایڈووکیٹ

ڈی سی مٹیاری کے بعد ڈی نوشھرو فیروز کی 3 ارب 60 کروڑ بیرون مُلک لے جانے کی اطلاعات ہیں، یہ ہماری مُلک کی بدقسمتی ہے کہ سارے اداروں میں افسران اور مُلازمان مال بنانے کے چکر میں ہیں ، کوئی بھی ادارہ شکایت کے باوجود کسی افسر یا مُلازم کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کو تیار نہیں ہے ۔

پاکستان میں فوج کے بعد نیب ایک واحد ادارہ ہے ، جو بھترین انداز میں بنایا گیا تھا ، جس کو سارے اہم اداروں اور عدلیہ کی سپورٹ ہے ، مگر نیب Proactive طریقے سے کام کرنے کو تیار نہیں ، لوگ جب پیسہ لوٹ کر ہضم کر جاتے ہیں تو نیب بھائی نیند سے جاگتا ہے اور مجرم کے پورے خاندان کو تھس نہس کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے ، جو لوگ بے گناہ ہوتے ہیں اُن کو نیب یا نیب عدالتیں معاف کرنے کو تیار نہیں ہوتیں ۔

پاکستان کو ضرورت ہے کہ نیب کو جرم ہونے سے پہلے جرم کو روکنے کی تربیت اور ڈاریکشن دی جائے اور غبن ہونے کی صورت میں نیب سے باز پُرس ہونی چاہیئے کہ آپ کو اتنے وسائل ہونے کے باوجود یہ اتنے ارب روپے کا غبن کیسے ہوگیا ؟

نیب بلوچستان نے فنانس سیکرٹری مُشتاق رئیسانی کے گھر سے سات ارب تیس کروڑ کی رقم برآمد کر کے ایک رکارڈ قائم کیا تھا ۔

نیب سکھر میں ایک لینڈگریبر کے خلاف تین انکوائریاں ہیں، پیسے کے بل بوتے پر لینڈگریبر نے نیب انکوئریاں تین سال سے نیب کی الماریوں کی زینت بنائی ہوئی ہیں ، نیب نے تین سال گذرنے کے باوجود نہ لینڈگریبر کی گرفتاری کیلئے کوئی اقدام کیا ہے اور نہ لینڈگریبر کی کوئی پراپرٹی یا بینک اکاونٹ سیز ہوا ہے ، اُلٹا نیب سکھر لینڈگریبر کے مخالفین کو ہراساں کرنے میں اترا ہوا ہے ۔

جب دس لاکھ کی ڈکیتی کو نہ روکنے کی پاداش میں ایک ایس ایچ او نوکری سے جاسکتا ہے اور بجلی کی تار گرنے کی وجہ کسی کے مرنے پر واپڈا کے افسران جیل جا سکتے ہیں تو نیب کا اتنا بڑا ادار اتنے وسائل ہونے کے باوجود اربوں روپے کی کرپشن نہ روکنے کی پاداش میں کیا کسی انعام کا مستحق ہے ؟؟؟

حد یہ ہوگئی ہے کہ ڈی سی سرکاری خزانہ سے اربوں روپے نکالتا ہے، اپنے ذاتی اکاونٹ میں پیسے رکھتا ہے اور ہر ماہ کروڑوں روپے منافع دو سال تک لیتا رہتا ہے ، ساری دنیا کو معلوم ہے، اگر پتہ نہیں ہے تو کرپشن روکنے کے ادارے نیب کو کچھ پتہ نہیں ہے۔

اب آتے ہیں ڈی سی کی طرف، ڈی سی CSS افسر ہے اور حیات آباد پشاور کا رہنے والا ہے، ڈی سی مٹیاری کی گرفتاری کے بعد وہ الرٹ ہوگیا اور کراچی ایئر پورٹ سے 19.11.2022 کو فلائیٹ نمبر FG 366 سے دبئی روانہ ہوگیا ، سرکاری مُلازم کا بیروں مُلک سفر کیلئے چیف سیکریٹری ، سارے محکموں سے پوچھنے کے بعد FIA کیلئے NOC جاری کرتا ہے کہ اس کو بیرون مُلک سفر کرنے کی اجازت دی جائے ۔

مگر المیہ یہ ہے کہ عرصہ دراز سے FIA کے تین افسران نے کراچی ایئر پورٹ ٹھیکہ پر لیا ہوا ہے ۔ اُن کے خلاف وقت بہ منی لانڈرنگ، ڈرگ ٹریفنگ اور Human Trafficking کے الزامات لگتے رہتے ہیں اور انکوائریاں شروع اور ختم ہوتی رہتی ہیں مگر اُن تین افسران کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا، اطلاعات یہ ہیں کہ انھوں نے ڈی سی صاحب کو بمعہ ڈالروں سے بھرے بیگوں کے ساتھ بغیر NOC سے فلائیٹ میں سوار کروایا ہے اور سمارٹ بنتے ہوئے کاؤنٹر سے کلیئر کرنے والے ایک ASI جہانزیب کو معطل کر دیا ہے ۔

ورنہ قانون یہ ہے دس ہزار ڈالر سے زیادہ رقم کوئی مسافر نہیں لے جا سکتا مگر یہ قانون صرف آپ اور ہمارے ہے ۔

اب امید یہ ہے کہ FIA کی جانب سے کانسٹیبل عبدالرحمان کے قاتل کو جان بوجھ کر فرار کرانے کے بعد اُسی طرز پر ایک اور پریس رلیز جاری کی جائے گی اور کہا جائے گا کہ ڈی سی تاشفین والد ضمیر عالم پرائیوٹ مسافر کی حیثیت سے کراچی سے چلا گیا ہے تو جناب میرے پاس کوائف ہیں کہ ڈی تاشفین نے سرکاری مُلازم کی حیثیت سے صرف ایک ہی پاسپورٹ 27.02.2020 پر شام 06:58 جمعرات کے دن پراسس کروایا ہے، لوگوں کو دفتری ٹائیم پر پاسپورٹ نہیں بنتے اور وی آئی پیز کے پاسپورٹ دفتری اوقات کے بعد بھی پراسس ہوتے ہیں ۔

کانسٹیبل عبدالرحمان کے قاتل خرم نثار کے متعلق FIA نے پریس رلیز جاری کر کے اپنا فرض پورا کر لیا ۔

مِسنگ پرسن کمیشن کے ایک کیس میں سندھ پولیس کی طرف سے میں ممبر تھا ، ایک دن اتوار کو سپریم کورٹ کی جسٹس محترمہ ماجدہ رضوی صاحبہ کی طرف سے مجھے پیغام ملا کہ انکوائری کے سلسلے میں میں دوپہر بارہ بجے کراچی ایئر پورٹ پہنچوں ۔ جسٹس صاحبہ نے آتے ہی ایئرپورٹ حکام کے ساتھ کراچی ایئرپورٹ کے اندر لگے ایک ایک کیمرا کو دیکھا اور ہر کیمرا کی placing کی لسٹ مرتب کراتی گئیں ۔ لسٹ بن جانے کے بعد ASF حکام کو کہا کہ مجھے کنٹرول روم میں فلاں تاریخ کی فلاں وقت سے فلاں وقت تک کی ہر کیمرا کی ریکارڈنگ دکھائیں ۔

جسٹس صاحبہ لسٹ کے مطابق ہر کیمرا کی ریکارڈنگ چیک کر رہی تھیں ، اتنے میں ایک رکارڈنگ میں گمشدہ بندے کو کچھ لوگ لیجاتے ہوئے دکھائی دیئے ۔ جسٹس صاحبہ نے اُس رکارڈنگ کی کاپی لی اور دوسرے دن اُس ادارے کی طرف سے گمشدہ بندے کو کمیشن کے سامنے پیش کر دیا گیا ۔ اب جسٹس محترمہ ماجدہ رضوی صاحبہ جیسے انتھک محنت کرنے والے لوگ کہاں سے لائیں ۔

پولیس کا موقف ہے کہ مُلزم خرم نثار کی اطلاع 22.11.2022 صبح 04:30 پر ایس ایچ او Moosa Kaleem کی معرفت FIA حکام کو دی گئی ۔ FIA کا موقف ہے کہ دن 11:00 بجے مُلزم کا نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کرنے کیلئے دیا گیا ۔ جب کہ مُلزم صبح 7 بج کر 30 منٹ پر جاچکا تھا، اب سوال یہ ہے کہ کوئی تو غلط بیانی کر رہا ہے ۔ اس کا صحیح فیصلہ تو ایئرپورٹ پر لگے کیمرا ہی کر سکتے ہیں ۔ مگر کیمرا کی رکارڈنگ کون اور کیوں چیک کرے ؟ محترمہ جسٹس ماجدہ رضوی تو ریٹائر ہو چُکیں ۔ اب غلط بیانی کرنے والے کی Responsibility کون فکس کرے گا ۔

جب اداروں کی آشیر باد کی وجہ سے لوگ کرپشن، لینڈگریبنگ، قتل اور اربوں روپے لوٹ رہے ہیں اور حصے بانٹ رہے ہیں اور کچھ بیرون مُلک چلے جا رہے ہیں تو میرے خیال میں ان اداروں کی موجودگی کا کیا جواز رہ جاتا ہے ؟

متعلقہ خبریں