منگل, نومبر 29, 2022
منگل, نومبر 29, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

پاکستاناسلام آبادگستاخانہ مواد، لاہور ہائیکورٹ فیصلہ کالعدم قرار دینے کی اپیلیں، عدالت عظمیٰ...

گستاخانہ مواد، لاہور ہائیکورٹ فیصلہ کالعدم قرار دینے کی اپیلیں، عدالت عظمیٰ میں سماعت

سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اپیلوں کو واپس لینے کے لئے قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کر لی گئی۔

مذکورہ قرارداد حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی چوہدری فقیر احمد کی جانب سے قومی اسمبلی میں پڑھ کر سنائی گئی۔۔۔

مزید پڑھیں:وفاقی جامعہ اردو، سینیٹ تحلیل کرکے ڈاکٹر صارم کو قائم مقام رجسٹرار بنانے کی تیاری مکمل

یہ ایوان قرار دیتا ہے کہ چونکہ آئین پاکستان کے مطابق وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک فلاحی اسلامی مملکت ہے۔ لہذا اسلام اور ریاست پاکستان کے خلاف ہر منفی سرگرمی کا استیصال ضروری ہے۔

لہذا یہ معزز ایوان قرار دیتا ہے کہ عدالت عالیہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ 2021 ایم ایل ڈی 1633 لاہور لقمان حبیب بنام وفاق پاکستان وغیرہ میں جاری ہونے والی ہدایات،جو کہ انٹرنیٹ پر ختم نبوت ﷺ،ناموس رسالت ﷺ اور پاکستان کی توہین پر مبنی مواد کے خاتمے کے لئے جاری ہوئی تھیں،کے خلاف سابقہ حکومت کی جانب سے وفاقی وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کے ذریعے سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں تینوں اپیلوں کو فی الفور واپس لیا جائے۔

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی نے مذکورہ قرارداد کے متعلق قومی اسمبلی کے معزز اراکین سے رائے لی۔

مزید پڑھیں:VC گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ کی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈیرہ محمد شعیب خان سے ملاقات

قومی اسمبلی میں موجود تمام اراکین نے متفقہ طور پر مذکورہ قرارداد کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے مذکورہ قرارداد منظور کر لی۔

مذکورہ قرارداد پاکستان مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی چوہدری فقیر احمد،ڈاکٹر ناصر احمد چیمہ،علی پرویز،ساجد مہدی،جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران اور جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی کے دستخطوں سے پیش کی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں