ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

تازہ ترینغازی فاؤنڈیشن اسکول کے واقعہ کا دوسرا رخ بھی سامنے آ گیا

غازی فاؤنڈیشن اسکول کے واقعہ کا دوسرا رخ بھی سامنے آ گیا

کراچی : غازی فاونڈیشن , نارتھ ناظم آباد میں 14 نومبر کو طالبہ کے ساتھ سختی سے پیش آنے کا واقعہ سامنے آیا تھا ۔ جس کی ویڈیو وائرل ہونے پر اساتذہ برادری میں سخت تشویش پائی جا رہی تھی ۔ ویڈیو بنانے والے پولیس اہلکار نے خاتون استانی کو ہراساں کیا جس پر پولیس افسران نے اہلکار کیخلاف ایکشن لیا تھا ۔

جس کے بعد ڈائریکٹوریٹ انسپکیشن اینڈ رجسٹریشن پرائیویٹ انسٹیٹوشن کی جانب سے تین رکنی کمیٹی قائم کی گئی جس نے جمعرات کو سکول کا دورہ کیا ‛ دونوں جانب کا موقف سنا اور تفصیلات جمع کی ہیں ۔ جس کے بعد رپورٹ اعلی افسران کو جمع کرائی جائے گی ۔

ادھر غازی فاؤنڈیشن اسکول کی انتظامیہ نے اپنا موقف جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ 14 نومبر کو طالبہ کو امتحان میں نقل سے روکا گیا تھا ۔ جس پر 16 نومبر کو طالبہ کے والد ذوالفقار (ہیڈ کانسٹیبل) اور طالبہ کا بھائی سپاہی اطیب علی تیموریہ تھانے کے 6 پولیس اہلکاروں سمیت سکول میں بغیر وارنٹ آئے اور سکول میں خواتین اساتذہ اور طالبات کو ہراساں کیا اور دہشت گردی کی واردات کی۔

پولیس اہلکار اسکول میں بغیر نوٹس/ اجازت گھسے ‛ لیڈیز ٹیچرز کو دھکے دیئے ہوئے وڈیو بنا کر وائرل کی ۔ خاتون اساتذہ کو مغلظات بکیں ‛ دھمکیاں دیں اور ایک ٹیچر کو مارتے ہوئے تھانے لیجا کر تشدد بھی کیا۔ پرنسپل کی جانب سے "پولیس شکات سیل” پر شکایت کی گئی جس کے ایک گھنٹہ بعد ٹیچر کو چھوڑ دیا گیا تھا ۔ پولیس کے اعلی افسران نے ایکشن لیتے ہوئے ویڈیو بنانے والے پولیس اہلکار کو لاک اپ کر دیا تھا ۔

اسکول انتظامیہ کے مطابق اس گھناونے عمل سے اسکول کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور پولیس کو بدنام کرنے کی سازش ثابت ہوئی ۔ جس کے بعد سکول میں زبردستی گھسنے اور خواتین اساتذہ کو ہراساں کرنے والے پولیس اہلکاروں نے معافی نامہ ایس ایس پی سینٹرل کے پاس جمع کرایا ۔

اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امید کرتے ہیں کہ ڈی آئی جی ویسٹ اس کیس میں محکمہ جاتی اور قانونی کاروائی کر کے ٹیچرز کو انصاف دلائیں گے اور اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایں گے تاکہ عوام کا پولیس پر اعتماد بحال رہے ۔

واضح رہے کہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا کہ والد نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور سکول میں گھس کر ایک ورکنگ خاتون کو ہراساں کیا اور خاتون کی ویڈیو بنائی اور خاتون کا تحفظ کی خاطر کیمرہ سے رخ موڑنے کے باجود اس کے قریب جا کر ویڈیو بنانے کی کوشش کی گئی ۔

قانون کو ہاتھ میں لینے کی وجہ سے چند لمحوں میں ویڈیو وائرل ہوئی اور پولیس اہلکار کی بیٹی کا اصل ایشو پس پردہ چلا گیا تھا ۔ کیونکہ اصل واقعہ کی رپورٹ کرنے کے بجائے پولیس اہلکار نے از خود انصاف حاصل کرنا شروع کر دیا تھا ۔

عظمت خان
عظمت خانhttps://alert.com.pk
عظمت خان بحیثیت رپورٹر گزشتہ 15 برس سے ملک کے مختلف پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں اور مذہبی، تعلیمی ، لیبر، فراہمی و نکاسی آب سمیت مختلف امور اور شعبہ جات کے حوالے سے خبروں اور تحقیقاتی رپورٹس کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں ۔ وہ کتابوں کے مصنف اور ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔
متعلقہ خبریں