اتوار, نومبر 27, 2022
اتوار, نومبر 27, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

اہم خبریںپاکستان ریلوے کو افسران کی نااہلی سے کراچی ڈویژن میں ماہانہ...

پاکستان ریلوے کو افسران کی نااہلی سے کراچی ڈویژن میں ماہانہ 2 کروڑ روپے نقصان کا سامنا

کراچی : پاکستان ریلوے افسران کی نااہلی سے کراچی ڈویژن میں ماہانہ دو کروڑ کا نقصان ہونے لگا ، کراچی سے حیدر آباد تک شارٹ روٹ کرایوں میں اضافے سے ریلوے کی بکنگ کم ہوگئی ، غیر قانونی سفر کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ،گزشتہ 15 روز میں ریلوے کاوئنٹر سے بکنگ انتہائی کم رہی ، غیر قانونی سفر کرنے والے بغیر ٹکٹ کے ریلوے گارڈ اور ریلوے پولیس اہلکاروں کو کرایہ ادا کر کے سفر کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے ۔

پاکستان ریلوے نے دو اکتوبر 2022 کو مسافر ٹرینوں کے کرایوں میں اضافے کے نوٹیفیکشن میں شارٹ روٹ کے کرایوں میں بھی زیادہ سے زیادہ اضافہ کر دیا ، جس سے پاکستان ریلوے کی آمدن میں کمی جب کہ گارڈ ،ریلوے پولیس اہلکاروں کی بھی چاندی ہوگئی ہے ۔

واضح رہے کہ سیلاب سے متاثرہ ٹریک کے بعد مسافر ٹرینوں کی بحالی کے بعد کراچی سے اندرون ملک جانے والی ٹرینوں کے کرایوں میں شارٹ روٹ کے لئے کراچی ڈویژن میں دو کٹیگری بنائی گئی ہیں جس کے مطابق ہزارہ ایکسپریس ،رحمان بابا ایکسریس ،علامہ اقبال ایکسپریس ،ملت ایکسپریس ،خیبر میل ایکسپریس اور سکھر ایکسپریس میں کراچی سے حیدرآباد تک کا کرایہ اکانومی کلاس میں ساڑھے 6 سو روپے وصول کیا جا رہا ہے جب کہ کٹیگری 2 میں قراقرم ایکسپریس ،پاک بزنس ایکسپریس ،کراچی ایکسپریس اور تیز گام ایکسپریس کی اکانومی کلاس میں کراچی سے حیدرآباد تک کرائے کی وصولی ساڑھے 8 سو روپے کی جارہی ہے ۔

مزید پڑھیں : واٹر بورڈ نجاری کیلئے اہم قدم : محکمہ کے بجائے باہر کا افسر لا کر “کمانڈ اینڈ کنٹرول” کا شعبہ قائم

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ شارٹ روٹ کرایوں میں اضافے کے بعد سے پاکستان ریلوے کے بکنگ کاوئنٹر پر شارٹ روٹ مسافروں کی بکنگ انتہائی کم ہوگئی ہے تاہم مسافر ٹرینوں سے اس روٹ کے مسافروں میں کمی نہیں ہوئی ہے ۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر تمام ٹرینوں کی اکانومی کلاس میں کراچی سے حیدرآباد کے درمیان کراچی ڈویژن کا کوٹہ 1200 سے زائد مسافروں کا ہے اور اگر ریلوے کاوئنٹر سے 80 فیصد بھی بکنگ کی جاتی ہے تو ماہانہ تین کروڑ کے لگ بھگ پاکستان ریلوے کو آمدن ہو سکتی ہے ۔

لیکن کرایوں میں اضافے کی وجہ سے بکنگ کاوئنٹر پر بکنگ 30 فیصد سے بھی کم ہوگئی ہے جب کہ دوران سفر ریلوے پولیس اہلکار اور گارڈ ان ہی مسافروں سے 300 سے 500 کے درمیان کرایہ وصول کر کے انہیں غیر قانونی سفر بھی کرا رہے ہیں اور پاکستان ریلوے کے بجائے آمدن ان کی جیب میں جا رہی ہے ۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے قبل پاکستان ریلوے نے شارٹ روٹ کے کرایوں میں واضح کمی کی تھی جس کے بعد ریلوے کاوئنٹر پر بکنگ میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا تھا تاہم دوبارہ کرایوں میں اضافے سے ریلوے کو نقصان ہورہا ہے جب کہ روالپنڈی سے لاہور کے درمیان چلنے والی ریل کار کا روٹ کراچی اور حیدرآباد کے روٹ سے بڑا ہونے کے باوجود ریل کار کا کرایہ اس سے کم ہے ۔

عظمت خان
عظمت خانhttps://alert.com.pk
عظمت خان بحیثیت رپورٹر گزشتہ 15 برس سے ملک کے مختلف پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں اور مذہبی، تعلیمی ، لیبر، فراہمی و نکاسی آب سمیت مختلف امور اور شعبہ جات کے حوالے سے خبروں اور تحقیقاتی رپورٹس کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں ۔ وہ کتابوں کے مصنف اور ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔
متعلقہ خبریں