ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

تازہ ترینایم ڈی کیٹ کے ٹیسٹ میں بے قاعدگیاں تعلیمی نظام پر سوالیہ...

ایم ڈی کیٹ کے ٹیسٹ میں بے قاعدگیاں تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان ہیں :‌ ریحان شاہ

کراچی : آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ذمہ داران نے پی ایم سی کی جانب سے ایم ڈی کیٹ کے امتحان میں ہونے والی ذیادتیوں پر پریس کلب میں طلباء کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔

اس موقع پر اے پی ایم ایس او کے مرکزی رکن ریحان شاہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر کا شعبہ خدا کی طرف سے دنیاوی نعمت کا حامل ہے اس شعبہ کے دروازے ہر طلباء وطالبات کیلئے کھلے رہنے چاہیں اعلیٰ اور معیا ری تعلیم ہر خاص و عام کا حق ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ طلباء ڈاکٹر ادیب رضوی اور ڈاکٹر طاہر شمسی جیسے قابل ڈاکٹر اس ہی وقت بن سکتے ہیں کہ جب طلباء و طالبات کے لئے مشکلات نہیں بلکے آسانیاں پیدا کی جائے گی۔ میرٹ کا استحصال کر نے کی اجازت نہیں دینگے طلباء وطالبات کے جا ئز حقوق کے خاطر آئینی وقانونی جد وجہد کل بھی کی تھی اور آج بھی جا ری رکھیں گے ، پاکستان بلخصوص سندھ کے طلبا ء کو ہرگزتعلیم سے محروم نہیں ہونے دینگے۔

انہوں نے کہا کہ آزمائش لینے والوں کی پیمائش کا بھی موثر نظام ہونا چاہئے گز شتہ دنو ں صوبے کی سطح پر ہو نے والے ایم ڈی کیٹ کے ٹیسٹ میں بے ضابطگیاں دیکھی گئی ہیں بہت سے سوالات آوٹ آف سلیبس تھے جس کی وجہ سے محنتی طلباء وطالبا ت کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا پی ایم سی کے جانب سے 26 اکتو بر کو نوٹفکیشن نکالا جاتا ہے کے ایم ڈی کیٹ کا ٹیسٹ صوبے کی سطح پر 13 نومبر کو ویب سائیٹ پر موجود پی ایم سی کے سلیبس کے تحت لیا جائیگا مگر امتحان کے روز سوالات کے فراہم کردہ نصاب سے ہٹ کر آنا اور کچھ سوال ایسے تھے جن کے جواب (Answerskeys) میں بھی موجود نہیں تھے اس بات کا ثبوت ہے کہ سوال بنانے والوں نے اپنے فریضے کے ساتھ نا انصافی کر کے ملک کے مسقتبل کو تاریکیوں میں دھکیلنے کی سازش کی ہے۔

مزید پڑھیں : سرسو کی جانب سے سندھ کے مختلف اضلاع میں بچوں کا عالمی دن کے موقع پر رنگارنگ تقریبات کا انعقاد

ریحان شاہ نے مزید کہا کہ ملک کے اہم ادارے پی ایم سی کی جانب سی کی گئی غفلت سے جو نقصان ہوا اس کا اذالہ کون کرے گا یہ طالبعلم پاکستان کا مستقبل ہیں اور پاکستان کا مستقبل بھی میرٹ کی بنیا د پر قابل ہاتھوں میں ہونا چاہئے ۔

اس موقع پر مرکزی رکن شرجیل بیگ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ایم ڈی کیٹ کی طلباء سدر ہ نے پی ایم سی کی بد انتظا می سے تنگ آکر خود کشی کر لی اور صرف بلوچستان یا سندھ ہی نہیں بلکہ پورا پاکستان ایم ڈی کیٹ کی بد انتظامیو ں کا شکار ہے ، میں آپ کے توسط سے یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کیا اس بات کا انتظار کیا جا رہا ہے کہ جو سانحہ بلوچستان میں پیش آیا وہ کسی دوسرے صوبے میں بھی ہو ؟ ان بد انتظامیوں کا شکار کوئی اور طالبعلم بھی ہو اس ذیادتیوں کے سلسلے کو یہیں روکنا ہو گا۔

انہوں نے مزید کہاکے گزشتہ سال پی ایم سی کی ذیادتیوں کے سبب 3 ہزار سے زائد نشستیں خالی ہوئیں اگر ذیادتیوں کا یہ سلسلہ اس طرح چلتا رہا تو مستقبل میں علاج و معالجہ کیلئے عوام در بدر ہو جائیں گے ، جس طرح ملک کی حفاظت کیلئے فوج ضروری ہے ٹھیک اس ہی طرح صحت کی حفاظت کیلئے ڈاکٹر ز بھی ضروری ہیں اور صوبے کی سطح پر انتہائی اہم شعبے کے اس ٹیسٹ میں اتنی بے قاعدگیاں ہمارے تعلیمی نظام پر ایک سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھیں : وفاقی اردو یونیورسٹی میں ” کلام شاعر بزبان شاعر“ کے عنوان سے مشاعرے کا انعقاد

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس ٹیسٹ کے نتائج کو فی الفور موخر کیا جائے اور ایک اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی جائے جن کی نگرانی میں سوالات اور (Answerkeys) کی جانچ پڑتال کی جائے اور آئندہ کیلئے پاکستان میڈیکل کونسل ٹیسٹ کے سوال نامہ کو طلباء کہ سہولت کیلئے ویب سائیٹ پر بھی اپلوڈ کرے۔

اس موقع پر انیس حسین انسٹیٹیوٹ کے پروگرام ہیڈ پروفیسر محمد اکرم کا کہنا تھا کہ گزشتہ کچھ سال سے ایک انتہائی اہمیت کے حامل شعبے سے تعلق رکھنے والے طلباء کے ساتھ پی ایم سی کی جانب سے مسلسل کھلواڑ کیا جا رہا ہے ، جس کی حد یہ رہی کہ ایک ہونہار طلبہ نے اپنی جان تک گنوا دی اس نا اہلی کی بھینٹ چڑھنے والے طلبا ء کی ساتھ ہوئی ذیادتی کا اذالہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ میں تمام طلباء کی جانب سے ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت اور آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا شکر گزار ہوں ، جنہوں نے تمام طلباء کے جائز حقوق کیلئے آواز اٹھائی اور صرف آج ہی نہیں بلکہ ماضی میں بھی جب اس قسم کے مسائل پیش آئے تو ایم کیو ایم اور اے پی ایم ایس او نے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھائی ہے۔

طلباء نے پی ایم سی کی ذیادتیوں کیخلاف پریس کلب کے باہر مظاہر بھی کیا جس میں تمام طلباء نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور طلباء کی جانب سے شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔

عظمت خان
عظمت خانhttps://alert.com.pk
عظمت خان بحیثیت رپورٹر گزشتہ 15 برس سے ملک کے مختلف پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں اور مذہبی، تعلیمی ، لیبر، فراہمی و نکاسی آب سمیت مختلف امور اور شعبہ جات کے حوالے سے خبروں اور تحقیقاتی رپورٹس کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں ۔ وہ کتابوں کے مصنف اور ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔
متعلقہ خبریں