ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

تازہ ترینمولانا حامد الحق کا مفتی اعظم پاکستان کی رحلت پر گہرے دکھ...

مولانا حامد الحق کا مفتی اعظم پاکستان کی رحلت پر گہرے دکھ کا اظہار

اکوڑہ خٹک : جمعیت علماء اسلام (س) کے امیر اورجامعہ دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم مولانا حامد الحق حقانی کا ملک کے ممتاز عالم دین مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کے وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔

جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں علماء کرام اور طلباء کرام کے تعزیتی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا حامد الحق حقانی نے کہا کہ مفتی اعظم پاکستان عالم اسلام کے جید علماء کرام کے صف اول میں شامل تھے ، والد محترم شہید اسلام حضرت مولانا سمیع الحق شہید رحمہ اللہ اور حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی مرحوم کے درمیان ساری زندگی باہمی محبت اور احترام کا تعلق رہا ۔

مذید پڑھیں : حق دو تحریک بلوچستان کا کل سے گوادر پورٹ اور ایکسپریس ووے بند کرنے کا اعلان

انہوں نے مذید کہا کہ مفتی محمد رفیع عثمانی مرحوم ملک کی بڑی دینی درس گاہ جامعہ دارالعلوم کراچی کے روح رواں ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایہ عالم دین اور اعلیٰ مصنف کتب تھے، آپ نے ہمیشہ پاکستانیوں اور امت مسلمہ کو اتفاق و اتحاد کا درس دیا، آپ نے ملک پاکستان کے دینی تشخص اور تعلیم کو فروغ دینے کیلئے ہمیشہ قائدانہ کردار ادا کیا، آپ مختلف ادوار میں وفاق المدارس کے نائب صدر بھی رہے ، مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے دینی حلقوں کیلئے ناقابل تلافی خلاء اور نقصان پیدا ہوا ہے ، جس کو صدیوں میں پرنہ کیا جا سکے گا۔

جامعہ دارالعلوم حقانیہ میں مفتی رفیع عثمانی مرحوم کی مغفرت کیلئے اجتماعی دعائیں کی گئی اور انہیں زبردست انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا،جمعیت کے قائد مولانا حامد الحق حقانی نے حضرت مفتی صاحب کے اہل خانہ بالخصوص ان کے بھائی شیخ الاسلام حضرت مفتی محمدتقی عثمانی صاحب اور ان کے صاحبزادے حضرت مولانا مفتی محمد زبیر عثمانی اور ان کے ادارے سے تعزیت کی، مولانا حامد الحق حقانی نے حضرت مفتی صاحب کی بلندی درجات کیلئے دعا کی۔

عزت اللّٰہ خان
عزت اللّٰہ خانhttps://alert.com.pk
عزت اللّٰہ خان سینئر رپورٹر ہیں، پشاور پریس کلب کے ممبر ہیں، بعض موضوعات پر ان کی تحقیقاتی رپورٹس صف اول کے اخبارات میں تہلکہ مچا چکی ہیں۔ سرکاری اداروں میں کرپشن پر ان کی گہری نظر ہوتی ہے، معروف ویب سائٹس پر ان کے معاشرتی پہلوؤں پر بلاگز بھی شائع ہوتے رہے ہیں، آج کل الرٹ نیوز کے لیے لکھتے ہیں۔
متعلقہ خبریں