ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

تازہ ترینکراچی : EOBI میں 400 خلاف ضابطہ بھرتیاں ، 358 ملازمین...

کراچی : EOBI میں 400 خلاف ضابطہ بھرتیاں ، 358 ملازمین کی برطرفیاں ، اب کیا ہو رہا ہے ؟

محنت کشوں کی پنشن کے قومی ادارہ EOBI میں ماضی میں 400 خلاف ضابطہ بھرتیوں اور پھر 2014 ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے 358 افسران اور اسٹاف ملازمین کی برطرفیاں اور اب پاکستان پیپلز پارٹی کی اقتدار میں واپسی کے بعد ان برطرف شدہ افسران کی بحالی کی مہم تیز

گزشتہ کئی ہفتوں سے EOBI کے حلقوں میں 2014ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات پر برطرف کئے جانے والے 358 افسران اور اسٹاف ملازمین کی بحالی کے متعلق جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق افواہیں اور قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں ۔

آخر ماجرا کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے !

ہم اس معاملہ میں اپنی زیر نظر رپورٹ میں غیر جانبداری اور مدلل انداز میں یہ تفصیلات بیان کریں گے تاکہ نہ صرف ان افواہوں اور قیاس آرائیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے بلکہ سب کے سامنے حقیقت بھی آشکار ہو سکے ۔

اگرچہ ملک میں نجی شعبہ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو بڑھاپے میں پنشن کی سہولت فراہم کرنے کے لئے قومی ادارہ ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI) کی بنیاد 1976ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں رکھی گئی تھی ۔ تاکہ سرکاری ملازمین کی طرح نجی شعبہ کے ملازمین بھی اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بڑھاپے میں اپنی پنشن کے حقدار بن سکیں، جب وہ کسی قسم کے کام کی انجام دہی کے قابل نہیں رہتے ۔

لیکن افسوس صد افسوس ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد نظریاتی طور پر تبدیل شدہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جہاں دیگر پالیسیوں میں اپنی پارٹی کے بانی اور قائد کے اصولوں اور نظریات سے انحراف کیا ۔ وہیں ای او بی آئی میں غیر قانونی بھرتیوں اور بڑے پیمانے پر کرپشن کے ذریعہ ملک کے لاکھوں محنت کشوں کے لئے اپنے قائد کے ہاتھوں لگائے گئے شجر سایہ دار ادارہ EOBI کو بھی مکمل طور پر تاراج کرکے رکھ دیا ہے ۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے 2008 تا 2013 کے دوران اپنے پچھلے دور حکومت میں اپنے انتہائی وفادار چیئرمین EOBI ظفر اقبال گوندل اور اس کے دیگر حواری اعلیٰ افسران کے ذریعہ او بی آئی جیسے قومی فلاحی ادارہ میں منظور نظر اور بااثر 400 افراد کی کلیدی عہدوں پر غیر قانونی بھرتیوں، غریب محنت کشوں کے امانتی پنشن فنڈ (Trust Money) کی غیر قانونی اور مشکوک سرمایہ کاری کے نام پر کراچی، سکھر، لاہور، فیصل آباد، اسلام آباد اور چکوال میں انتہائی کم قیمت کی 18 اراضیوں اور املاک کی بلند نرخوں پر مشکوک طریقہ سے خریداری کی تھی ۔ جس کے باعث ای او بی آئی 35 ارب روپے کا میگا لینڈ اسکینڈل کا منظر عام پر آیا اور اس کی سنگینی کے پیش نظر سپریم کورٹ آف پاکستان کو کیس نمبر 35/2013 کے ذریعہ اس میگا اسکینڈل کا ازخود نوٹس لینا پڑا ۔

جو وفاقی حکومت، ای او بی آئی کے بورڈ آف ٹرسٹیز اور ای او بی آئی کی انتظامیہ کی غریب محنت کشوں کے پنشن فنڈ سے عدم دلچسپی اور غفلت کے باعث آج آٹھ برسوں کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود تاحال سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے ۔ اس مالی اسکینڈل کے ذریعہ پاکستان پیپلز پارٹی کی انتہائی بااثر اور طاقتور شخصیات نے چیئرمین ظفر اقبال گوندل کی ملی بھگت سے EOBI کو اس قدر ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے کہ ماضی میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ۔

اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے پچھلے دور حکومت میں 2008ء تا 2013ء کے دوران اس وقت کے وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید احمد شاہ کی مکمل سرپرستی اور پیپلز پارٹی کے حامی اور زبردست ہمدرد اس وقت کے چیئرمین EOBI ظفر اقبال گوندل کی سرکردگی اور مختلف سرکاری اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آئے ہوئے اس کے حواری بدعنوان اعلیٰ افسران کی ذاتی نگرانی میں ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI) کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھ کر اور اس کے امانتی وسائل کو مال غنیمت سمجھتے ہوئے ای او بی آئی کی جانب سے خالی آسامیوں کے پچھلے اشتہار کے ذریعہ تحریری ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرنے والے سینکڑوں مستحق اور لائق امیدواروں کو یکسر نظر انداز کرکے اقرباء پروری اور بھاری سفارش کے ذریعہ اپنے سیلیکٹڈ اعلیٰ سیاسی و کاروباری اور بااثر خاندانوں کے چشم و چراغوں کے لئے مطلوبہ تعلیمی قابلیت، لازمی تجربہ، مقررہ عمر، مقررہ کوٹہ/ ڈومیسائل اور انٹرویو کی لازمی تمام شرائط وضوابط کو پامال کرتے ہوئے افسران اور اسٹاف ملازمین کی 400 بھرتیاں کی گئی تھیں ۔

جس سے مستفید ہونے والوں میں اس دور کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے انتہائی چہیتے "جمائی راجہ” راجہ عظیم الحق منہاس سر فہرست تھے ۔ جنہیں EOBI میں بھرتی کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آپریشنز اسلام آباد کے کلیدی عہدہ پر فائز کردیا گیا تھا اور ستم بالائے ستم بعد ازاں یہی انتہائی بااثر افسر راجہ عظیم الحق منہاس ای او بی آئی کی وساطت سے عالمی بینک کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے انتہائی کلیدی عہدہ پر چلے گئے تھے جس کا سپریم کورٹ آف پاکستان نے سخت نوٹس لیا تھا ۔

جب کہ EOBI میں غیر قانونی بھرتیوں کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے 14، منڈی بہاؤالدین کے ندیم افضل چن اور ظفر اقبال گوندل کے 83 ، مختلف سیاستدانوں اور ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور دیگر معروف سیاسی شخصیات کے درجنوں قریبی عزیز واقارب اور اس وقت کے بااثر وزیر محنت و افرادی سید خورشید احمد شاہ کے حقیقی صاحبزادہ یاظم علی شاہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ان کا منہ بولا بیٹا حسن جنید، ریجنل ہیڈ کورنگی سمیت سید خورشید احمد شاہ کے 60 قریبی عزیزوں، گھریلو ملازمین اور ان کے خاص ووٹرز بھی شامل تھے ۔

چیئرمین ظفر اقبال گوندل کی جانب سے EOBI میں اس قدر بڑے پیمانے پر لاقانونیت اور آمریت پر ادارہ کے اعلیٰ افسران نے تو محض اپنی نوکری بچانے کے لئے جانتے بوجھتے چشم پوشی اختیار کرلی ۔ لیکن چیئرمین ظفر اقبال گوندل اور اس کے انتہائی طاقتور سرپرستوں کی جانب سے ملک کے لاکھوں محنت کشوں کی پنشن کے قومی ادارہ EOBI میں سنگین قانون شکنی کا مظاہرہ کرنے اور ملازمتوں کے لئے مقررہ تمام قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اس قدر بڑے پیمانے پر غیر قانونی بھرتیوں کے نتیجہ میں ای او بی آئی کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان کے سنگین خطرہ کو بھانپتے ہوئے EOBI کے بظاہر ایک چھوٹے گریڈ کے ملازم، لیکن انتہائی مخلص اور دردمند شخصیت سید مبشر رضی جعفری، ایمپلائی نمبر 916825، جنرل سیکریٹری ای او بی آئی ایمپلائیز فیڈریشن آف پاکستان (سی بی اے) نے اپنے وقت کے ان داتا سید خورشید احمد شاہ اور ظفر اقبال گوندل کی جانب سے EOBI پر جبری قبضہ اور غریب محنت کشوں کے پنشن فنڈ پر شب خون مارنے کے مذموم منصوبہ کے خلاف بھرپور مزاحمت کرنے اور صدائے احتجاج بلند کرنے کا فیصلہ کیا ۔

جس کے پہلے مرحلہ میں ای او بی آئی ہیڈ آفس کراچی سمیت ملک بھر میں ای او بی آئی کے ریجنل آفسوں میں احتجاجی طور پر قلم چھوڑ ہڑتال کی گئی ۔ اسٹاف ملازمین نے ظفر اقبال گوندل اینڈ کمپنی کی لوٹ کھسوٹ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے بازوؤں سیاہ پٹیاں باندھیں لیں احتجاج کا یہ سلسلہ ایک ماہ تک جاری رہا ۔

لیکن ملک بھر کے EOBI ملازمین کی جانب سے سخت احتجاج اور قلم چھوڑ ہڑتال کے باوجود انتہائی بااثر چیئرمین ظفر اقبال گوندل اور اس کے سرپرستوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور ان کی جانب سے ای او بی آئی میں غیر قانونی بھرتیوں کا سلسلہ برابر جاری رہا ۔ وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید احمد شاہ اور چیئرمین ظفر اقبال گوندل نے اپنے اختیارات کا غیر قانونی طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے ان 400 غیر قانونی طور پر بھرتی شدہ افسران کے لئے EOBI کو اپنے باپ کی جاگیر اور مال غنیمت سمجھتے ہوئے EOBI کے خزانہ اور جملہ وسائل کے منہ اس قدر فراخدلی سے کھول دیئے تھے کہ جس کی ملک کے کسی بھی ادارہ میں نظیر ملنا مشکل ہے ۔

سب سے پہلے اعلیٰ خاندانوں کے چشم و چراغ اور ان لاڈلے افسران کو EOBI کے بھاری اخراجات پر ہمدرد یونیورسٹی کراچی میں EOBI کے طریقہ کار کے متعلق تین ماہ کی ٹریننگ دلائی گئی اور اس دوران کراچی شہر کے بڑے بڑے ہوٹلوں میں ان بااثر افسران کے اعلیٰ پیمانے پر قیام و طعام اور ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا گیا ۔

دوسرے مرحلہ میں ان راج دلارے افسران کو EOBI کی جانب سے سوزوکی موٹرز کمپنی کے تعاون سے برانڈ نیو سرکاری نمبر پلیٹ ( Govt. of Pakistan) والی گاڑیاں اور قیمتی لیپ ٹاپ فراہم کئے گئے اور ان کے دفاتر کی ازسرنو تزئین و آرائش کرائی گئی اور ان چہیتے اور بااثر افسران کو ہیڈ آفس سمیت ملک بھر کے ریجنل آفسوں میں کلیدی پر فائز کرکے دیدہ دلیری سے ہر قسم کی لوٹ کھسوٹ اور بڑے پیمانے پر کرپشن کی کھلی چھٹی دیدی گئی ۔

چنانچہ وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید احمد شاہ اور چیئرمین ظفر اقبال گوندل اور ان کی پشت پناہی کرنے والے انتہائی طاقتور اور انتہائی بااثر ٹولے کی جانب سے غریب محنت کشوں کے قومی ٹرسٹ ادارہ EOBI پر غاصبانہ قبضہ کے خلاف EOBI کے ملازمین کے قائد سید مبشر رضی جعفری نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا اور اس سلسلہ میں حصول انصاف کے لئے تمام تر دستاویزی ثبوت اور شہادتیں اکٹھی کرکے EOBI کی انتظامیہ کے خلاف ایک آئینی درخواست نمبر 6/2011 داخل کرکے سپریم کورٹ آف پاکستان کا درازہ کھٹکھٹا دیا ۔

اسی دوران فیڈریشن کے صدر میاں تجمل حسین، ایمپلائی نمبر 911002 سینئر اسسٹنٹ ( فیصل آباد) نے بھی EOBI میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی بھرتیوں اور کرپشن کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان کے حقوق انسانی سیل (HRC) اسلام آباد میں درخواست نمبر HRC-48012-P/2010 اور CMA 1720/2011 جمع کروائی تھی ۔

لیکن سید مبشر رضی جعفری کو ملک کے لاکھوں غریب محنت کشوں کی پنشن کے قومی ادارہ EOBI کی بقاء و سلامتی اور اسے طاقتور قابض ٹولے کی لوٹ کھسوٹ سے محفوظ رکھنے اور حصول انصاف کی خاطر سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرنے کی پاداش میں انتہائی سخت آزمائشوں، پر مصائب حالات اور ابتلاء کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔

اس دوران پہلے تو انہیں اس مقصد سے باز رکھنے کے لئے مختلف ذرائع کے ذریعہ ترقیوں کے لالچ اور پرکشش ترغیبات کی پیشکشیں کی گئیں ۔ لیکن ایک صاحب کردار اور اصول پرست انسان کی حیثیت سے سید مبشر رضی جعفری نے ان تمام پیشکشوں کو سختی کے ساتھ ٹھکرا دیا اور اس نازک موقع پران کے پایہ استقامت میں ذرہ برابر لغزش نہیں آئی وہ اور ان کے وفادار ساتھی EOBI کو جابر اور طاقتور قوتوں سے بچانے کے لئے اپنے مؤقف پر سختی قائم رہے ۔

اپنے ان مقاصد میں ناکامی کے بعد چیئرمین ظفر اقبال گوندل کی انتظامیہ نے سید مبشر رضی جعفری اور ان کے ساتھیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع کردیا ۔ اس دوران انتظامیہ نے سید مبشر رضی جعفری پر ای او بی آئی کی زمین تنگ کر دی تھی اور بعد ازاں انہیں خود ساختہ اور بے سروپا الزامات عائد کرکے EOBI کی ملازمت سے بھی برطرف کر دیا تھا ۔ اس دوران ان پر بدترین دباؤ ڈالنے، ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ جان سے مارنے تک کی دھمکیاں بھی دی گئیں اور ان کی حوصلہ شکنی کے لئے ان کے وفادار ساتھیوں کو سزا کے لئے طور پر دور افتادہ علاقوں میں ٹرانسفر کر دیا گیا تھا ۔ لیکن چیئرمین ظفر اقبال گوندل اور اس کے حواری اعلیٰ افسران کے ان تمام اوچھے ہتھکنڈوں اور انتقامی کارروائیوں کے باوجود سید مبشر رضی جعفری اور ان ساتھیوں نے ان طاقتور اور جابر قوتوں کے سامنے سر جھکانے سے صاف انکار کر دیا تھا ۔

ای او بی آئی میں غیر قانونی بھرتیوں کا یہ کیس تقریباً ساڑھے تین برس تک سپریم کورٹ آف پاکستان اسلام آباد میں زیر سماعت رہا اور ان تمام سماعتوں کے دوران انتہائی بے وسیلہ اور بیروزگاری کے عذاب میں مبتلا سید مبشر رضی جعفری اور ان کے دست راست احمد انجم، سینئر اسسٹنٹ بڑی ہمت اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے جیسے تیسے زاد سفر کا بندوبست کرکے سپریم کورٹ آف پاکستان اسلام آباد میں باقاعدگی سے پیش ہوتے رہے ۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سید مبشر رضی جعفری نے معزز سپریم کورٹ آف پاکستان میں اس کیس کی ذاتی طور پر پیروی کی تھی اور اپنی خداداد اورغیر معمولی صلاحیتوں، قواعد و قوانین پر مکمل عبور اور بھرپور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مختلف قانونی نکات اور ٹھوس دلائل کے ذریعہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز ججوں کے سامنے اپنے مؤقف کو ثابت کرنے میں کامیاب رہے تھے ۔

جب کہ دوسری جانب سید مبشر رضی جعفری کے مقابلہ میں EOBI کی انتظامیہ نے انتہائی بھاری فیسوں پر ملک کے نامور وکلاء اور انتہائی سینئر قانون دان بیرسٹر عبدالحفیظ پیر زادہ اور بیرسٹر اعتزاز احسن اور عاصمہ جہانگیر ایڈوکیٹ کی خدمات حاصل کی تھیں ۔ جو اپنی ناموری کے باوجود سپریم کورٹ آف پاکستان کو EOBI میں کی جانے والی ان 400 غیر قانونی بھرتیوں کے متعلق ٹھوس اور معقول جواز پیش کرنے اور عدالت عظمیٰ کو قائل کرنے میں قطعی طور پر ناکام ثابت ہوئے ۔

بالآخر سید مبشر رضی جعفری اور ان کے پرعزم ساتھیوں کی طویل اور صبر آزما جدوجہد رنگ لائی اور جسٹس انور ظہیر جمالی کی سرکردگی میں جسٹس آصف سعید خاور کھوسہ اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک بنچ نے 17 مارچ 2014 ء کو EOBI میں کی جانے والی ان تمام خلاف ضابطہ بھرتیوں کو سراسر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے 358 افسران اور اسٹاف ملازمین کو فوری طور پر ملازمتوں سے برطرف کرنے کا حکم دیا ۔

جس پر EOBI کی انتظامیہ نے نوٹیفکیشن نمبر 77/2014 بتاریخ 17 مارچ 2014ء کو ان 358 افسران اور اسٹاف ملازمین کو فوری طور پر ادارہ کی ملازمتوں سے برطرف کردیا تھا ۔ لیکن اس موقع پر ای او بی آئی کے ایچ آر ڈپارٹمنٹ کے بعض مفاد پرست اور غیر ذمہ دار اعلیٰ افسران نے شاہ سے زیادہ شاہ سے وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید احمد شاہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش کی جانے والی غیر قانونی طور پر بھرتی شدہ افسران اور اسٹاف ملازمین کی فہرست میں زبردست ہیرا پھیری کرتے ہوئے سید خورشید احمد شاہ کے 42 قریبی عزیزوں اور ان کے خاص ذاتی اور گھریلو ملازمین کے نام فہرست سے نکال دیئے تھے ۔ جو سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے برطرفی کے اس عمل کے دوران صاف طور پر بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے ۔ سید خورشید احمد شاہ کے خاص الخاص 42 افراد آج بھی ای او بی آئی میں کلیدی عہدوں سے پوری طرح لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ ای او بی آئی سے برطرف ہونے والے 358 افسران اور اسٹاف ملازمین نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی اپیل بھی دائر کی تھی جو عدالت کی جانب سے مسترد کر دی گئی تھی ۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے EOBI میں غیر قانونی کے بھرتیوں کے فیصلہ میں وفاقی احتساب بیورو (NAB) کو یہ بھی احکامات دیئے تھے کہ ان 400 غیر قانونی افسران اور ملازمین کو بھرتی کرنے کی اصل ذمہ دار شخصیات اور EOBI کے متعلقہ اعلیٰ افسران کے خلاف بھی احتساب عدالت اسلام آباد میں ریفرنس پیش کیا جائے ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی تعمیل میں قومی احتساب بیورو نے تحقیقات کے بعد 2014 ء میں معزز انتظامی جج احتساب عدالت اسلام آباد میں درج ذیل ملزمان کے خلاف ریاست بخلاف ملزمان ایک ریفرنس دائر کیا تھا ۔

ای او بی آئی میں 400 غیر قانونی بھرتیوں کے NAB ریفرنس میں ادارہ کے درج ذیل اعلیٰ افسران نامزد کئے گئے ہیں ۔

1- ظفر اقبال گوندل ولد شیر محمد، چیئرمین EOBI
2- محمد حنیف ولد شیخ محمد دین، ڈائریکٹر جنرل آپریشنز EOBI
3- معراج نظام الدین ولد نظام الدین، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈپارٹمنٹ EOBI
4- سید اقبال حیدر زیدی ولد وزارت حسین زیدی، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آپریشنز EOBI
5- واحد خورشید کنور ولد کنور خورشید محمد خان، انوسٹمنٹ ایڈوائزر EOBI
6- جاوید اقبال ولد غلام رسول، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آپریشنز EOBI
7- شفیق الرحمن شیخ ولد نامعلوم ڈائریکٹر ایچ آر ڈپارٹمنٹ EOBI
8- ڈاکٹر امتیاز احمد مرزا ولد مرزا غلام محمد، فنانشل ایڈوائزر EOBI
9- پرویز کلیم بھٹہ ولد ملک محمد رمضان، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آپریشنز
10- راجہ فیض الحسن فیض ولد راجہ مظفر خان، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل لاء ڈپارٹمنٹ
11- راجہ پرویز اشرف ولد راجہ سانگر خان سابق وزیراعظم پاکستان شامل ہیں

لیکن حیرت کی بات ہے کہ آج آٹھ برس کا طویل عرصہ گزر جانے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح احکامات کے باوجود ان میں سے کسی بھی بااثر اعلیٰ افسر کو آج تک کوئی سزا نہیں ہو سکی اور یہ اعلیٰ افسران EOBI کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھاری پنشن، میڈیکل اور دیگر سہولیات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ EOBI کی انتظامیہ میں شامل برطرف ہونے والے افسران کے بعض ہمدرد سینئر افسران کی عدم دلچسپی اور غفلت کے باعث یہ برطرف شدہ افسران غیر قانونی طور پر EOBI کی تقریباً 200 سرکاری نمبر پلیٹ والی (Govt. of Pakistan) والی انتہائی قیمتی گاڑیاں، قیمتی لیپ ٹاپ ، اہم سرکاری دستاویزات اور دیگر ساز و سامان لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے ۔

لیکن EOBI کی انتظامیہ کی عدم دلچسپی اورغفلت کے باعث آج آٹھ برس کا طویل عرصہ گزر جانے اور پولیس اسٹیشن فیروز آباد کراچی میں ان گاڑیوں کی بازیابی کے لئے FIR درج کرانے کے باوجود آج تک لاکھوں روپے مالیت کی ان قیمتی گاڑیوں اور لیپ ٹاپ اور دیگر ساز و سامان کی تاحال بازیابی ممکن نہیں ہو سکی ہے ۔ جس کی جوابدہی کرنے والا کوئی نہیں ۔

حال ہیں میں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد قائم ہونے والی اتحادی حکومت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین کے اعلیٰ مناصب پر فائز ہونے کے بعد پیپلز پارٹی نے حسب دستور ماضی میں مختلف سرکاری اداروں سے نکالے جانے اور برطرف کئے جانے والے ملازمین کی بحالی کے لئے اپنی کوششیں شروع کر دی ہیں ۔

اس سلسلہ میں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ اسلام آباد کے ایک نظر ثانی شدہ سرکلر بتاریخ 4 نومبر 2022ء کے مطابق 10 اکتوبر 2022 ء کو قومی اسمبلی میں ماضی میں نکالے گئے ملازمین کے معاملہ پر ایک تحریک کی منظوری کے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے درج ذیل ارکان اسمبلی پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے ۔

قادر خان مندوخیل
نوید عامر جیوا
قیصر احمد شیخ
نواب شیر
علی گوہر خان
کشور زہرہ
صلاح الدین ایوبی
عالیہ کامران

ارکان اسمبلی پر مشتمل یہ خصوصی کمیٹی ماضی میں سرکاری اداروں، منسلکہ محکموں اور خودمختار اداروں کے کنٹریکٹ، یومیہ اجرت، پروجیکٹ اور دیگر ملازمین کے کیسوں کا جائزہ لے گی ۔ لیکن اس معاملہ پر قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ ارکان اسمبلی پر مشتمل خصوصی کمیٹی کے دائرہ اختیار کا اطلاق صرف Sacked Employees ( Reinstatement) Act 2010 کے تحت یکم نومبر 1993ء تا 30 نومبر 1996ء کے دوران ریگولر/ ایڈہاک یا کنٹریکٹ کے ذریعہ بھرتی ہونے والے ان ملازمین پر ہوتا ہے ۔ جو بعد ازاں ملازمت سے ڈسمس/ ٹرمینیٹ کئے گئے تھے یا جن کی کنٹریکٹ مدت ختم ہو گئی تھی یا جنہیں جبری طور پر گولڈن ہینڈ شیک کے ذریعہ فارغ کیا گیا تھا ۔

قانونی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اس خصوصی کمیٹی کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں سید مبشر رضی جعفری کی آئینی پیٹیشن نمبر 6/2011 اور میاں تجمل حسین کی HRC-48012-P/2010 اور 1720/20/2011-CMA کی درخواست پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے 17 مارچ 2014 ء کے فیصلہ کے بعد اس میں کسی قسم کے ردوبدل اور چھیڑ چھاڑ کا قطعی اختیار حاصل نہیں ہے اور اس لحاظ سے EOBI میں 2009ء تا 2014 ء کے دوران غیر قانونی طور پر بھرتی ہونے والے 358 افسران اور اسٹاف ملازمین کی بحالی کی بات کرنا محض خام خیالی ہے، EOBI غیر قانونی بھرتیوں کے معاملہ سے اس خصوصی کمیٹی کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔

قانونی ماہرین نے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا یہ تاریخی فیصلہ PLD2014SC494 میں بھی رپورٹ کیا گیا ہے ۔

خدا تعالیٰ کے فضل و کرم اور سید مبشر رضی جعفری اور ان کے مخلص ساتھیوں اور میاں تجمل حسین کی زبردست قانونی جدوجہد کے نتیجہ میں ملک کے لاکھوں غریب محنت کشوں کی پنشن کے ادارہ EOBI کو ان طاقتور اور جابر قوتوں سے نجات تو مل گئی اور ادارہ بھی محفوظ رہا ۔ لیکن ابھی اس اسکینڈل کے انتہائی بااثر اہم کرداروں کو قرار واقعی سزا ہونا باقی ہے ۔

جب کہ دوسری جانب ای او بی آئی کو چیئرمین ظفر اقبال گوندل اینڈ کمپنی کے ظالم پنجوں سے بچانے کے لئے اپنی لازوال قربانیوں اور قانونی جدوجہد کے ایک عظیم ہیرو سید مبشر رضی جعفری ” نہ ستائش کی تمنا نہ صلہ کی پرواہ ” کی تصویر بنے گزشتہ 33 برسوں سے اپنی جائز ترقی سے محروم چلے آ رہے ہیں اور EOBI کے لئے اس قدر گرانقدر خدمات مصائب جھیلنے کے باوجود آج بھی صبر و قناعت کے ساتھ ای او بی آئی میں گریڈ 4 کی ملازمت کر رہے ہیں ۔ جبکہ اس قانونی جنگ کے دوسرے ہیرو میاں تجمل حسین کچھ عرصہ قبل ایگزیکٹیو افسر کے عہدہ سے ریٹائر ہو چکے ہیں ۔

معلوم ہوتا ہے کہ آٹھ برس کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد آج ایک بار پھر EOBI میں اس گھناؤنے کھیل کو کسی دوسرے انداز میں دہرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ آج بھی EOBI میں گزشتہ 30 اور 35 برسوں سے خدمات انجام دینے والے مظلوم اسٹاف ملازمین اپنی جائز ترقیوں سے محروم ہیں اور EOBI کے وجود سے بے پروا غیر قانونی طور پر ڈیپوٹیشن پر تعینات اعلیٰ افسران اور انتہائی بدعنوان جونیئر افسران کی ماتحتی میں خدمات انجام دینے پر مجبور ہیں جو " مال مفت دل بے رحم ” کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلا دریغ EOBI کے غریب محنت کشوں کے امانتی پنشن فنڈ اور اس کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں، جو لمحہ فکریہ ہے ۔

کسی وکیل کریں
کس سے منصفی چاہیں

امید ہے کہ اس تفصیلی رپورٹ کے بعد EOBI میں ماضی میں غیر قانونی طور پر بھرتی شدہ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات پر برطرف ہونے والے 358 افسران اور اسٹاف ملازمین کی بحالی کے معاملہ میں زیر گردش افواہوں اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

نوٹ : یہ مصنف کی ذاتی رپورٹ ہے ۔ کوئی بھی کالم نگار ، تجزیہ نگار اپنی نگارشات الرٹ نیوز کو بھیج سکتا ہے ۔

متعلقہ خبریں