سرکاری و نجی اسکول 9 مارچ سے کھلیں گے ،امتحانات 16 مارچ کو ہونگے

رپورٹ : اختر شیخ

وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی کی زیر صدارت محکمہ تعلیم سندھ کی اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ہفتہ 7 مارچ کومنعقد ہوا .

اجلاس میں نثار احمد کھوڑو ، سیکرٹری تعلیم اسکول خالد حیدر شاہ ، سیکرٹری کالجزرفیق احمد بریرو ، سیکرٹری بورڈز اینڈ یونیورسٹیز ریاض الدین قریشی ، سندھ ایجوکیشن فائونڈیشن کے ایم ڈی ، نجی اسکولز کی ایسوسی ایشن کے چیئرمینز حیدر علی شاہ ، شرف الزمان ، ڈاکٹر منسوب صدیقی ، رافیہ جاوید سمیت محکمہ تعلیم کے دیگر اعلی افسران بھی موجود تھے . اجلاس میں گذشتہ برس کے اجلاس کے منٹس کی منظوری کی گئی.

اسٹیئرنگ کمیٹی کے اس اجلاس میں سندھ میں تعلیمی سال 2020 اور 2021 کو 11 اپریل سے شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا .آئندہ سال سے صوبے بھرمیں تعلیمی سال یکم اپریل سے شروع کرنے اور مارچ میں اختتام کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا .

اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں‌ فیصلہ کیا گیا کہ سندھ بھر میں موسم گرما کی چھٹیاں جون اور جولائی میں ہوں گی وزیر تعلیم سعید غنی کے مطابق رمضان کو جواز بنا کر چھٹیاں اب آ گے پیچھے نہیں ہونی چاہیے ،اس سال موسم گرما کی تعطیلات 20 مئی 2020 سے 20 جولائی 2020 تک ہوں گی .

اجلاس میں محکمہ تعلیم کے افسران موجود ہیں

آئندہ تعلیمی سال یکم اپریل سے ہی شروع ہوگا اور تعطیلات یکم جون سے 30 جولائی تک ہوگی ،ا س سال 20-21 میں تعلیمی سیشن 10 اپریل سے شروع جبکہ تعطیلات 20 مئی سے 20 جولائی تک ہونگی ، آئندہ یعنی 2021-22 سے تعلیمی سال یکم اپریل سے شروع اور موسم گرما کی تعطیلات یکم جون سے 30 جولائی تک ہوگی .

سندھ بھر میں میٹرک کے نتائج 30 جون تک جاری کرنے اور کالجز میں تعلیمی سال یکم اگست سے شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا . آغا خان بورڈ بھی اپنے نتائج 3 جون تک مکمل کرنے کا پابند ہو گا . اے اور او لیول کے بچوں کے لیے اگر وہ سوئچ کرتے ہیں تو ان لے لئے کالج کی داخلہ پالیسی میں آپشن رکھا جائے گا.

نویں اور دسویں کے امتحانات 16 مارچ سے ہی منعقد ہوں گے. تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے اور ان کا عملہ 9 مارچ سے کھول دئیے جائیں گے البتہ تدریسی عمل اور بچوں کی تعطیلات 13 مارچ سے ہی ہوں گی ، تمام اسکولز اپنے ایڈمٹ کارڈز بورڈ سے وصول کرکے اپنے طلبہ کو ایڈمٹ کارڈز کی فراہمی کا فوری آغاز کردیں.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *