اتوار, نومبر 27, 2022
اتوار, نومبر 27, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

پاکستاناسلام آبادراولپنڈی : EOBI ریجنل آفس کی شاندار کارکردگی

راولپنڈی : EOBI ریجنل آفس کی شاندار کارکردگی

ای او بی آئی ریجنل آفس راولپنڈی کی شاندار کارکردگی، رجسٹر شدہ آجران اور اداروں سے کنٹری بیوشن وصولی مہم کے دوران کروڑوں روپے کے کنٹری بیوشن واجبات کی وصولی، لاکھوں محنت کشوں کے لئے مستقبل میں تاحیات پنشن یقینی بنا دی گئی ۔

ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI) زیر نگرانی وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل، حکومت پاکستان کے ریجنل آفس راولپنڈی کے پرعزم ریجنل ہیڈ محمد فاروق طاہر کی سرکردگی میں فیلڈ آپریشنز کی ٹیم نے شب وروز کی انتھک محنت، لگن اور نتیجہ خیز کوششوں کی بدولت راولپنڈی ڈویژن کے بڑے بڑے آجران اور اداروں سے ای او بی آئی کے کروڑوں روپے کے واجب الادا کنٹری بیوشن کی وصولیابی کرکے مستقبل میں ان اداروں کے لاکھوں محنت کشوں کی تاحیات پنشن کو یقینی بنانے کے مقاصد میں نمایاں کامیابی حاصل کر لی ہے ۔

۔محمد فاروق طاہر ریجنل ہیڈ راولپنڈی نے نمایاں کارکردگی کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ای او بی آئی ریجنل آفس راولپنڈی کی جانب سے ای او بی آئی کے رجسٹر شدہ آجران سے واجب الادا کنٹری بیوشن کی وصولیابی میں ریکارڈ کامیابی حاصل ہوئی ہے جس پر وہ خدا تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہیں ۔

ان آجران میں کوہِ نور ٹیکسٹائل ملز اور مری بریوری کمپنی جیسے بڑے صنعتی اور کاروباری ادارے بھی شامل ہیں ۔ جن کی انتظامیہ کو کنٹری بیوشن کے نظر ثانی شدہ ریٹ پر واجب الادا کنٹری بیوشن کی ادائیگی کے لئے گفت و شنید اور دلائل کے ذریعہ قائل کرکے رضامند کیا گیا اور ان اداروں کے بھرپور تعاون سے خوشگوار ماحول میں واجب الادا کنٹری بیوشن کے بقایاجات کی ریکوری بھی کی گئی ۔

ریجنل ہیڈ محمد فاروق طاہر کے مطابق اس مہم کے دوران راولپنڈی کے مختلف صنعتی، پیداواری، تجارتی، کاروباری اور دیگر اداروں کے ریکارڈ اور کھاتوں کی جانچ پڑتال پر بھی خصوصی توجہ دی گئی اور اس دوران متعدد ایسی اداروں اور کمپنیوں کا سراغ بھی لگایا گیا اور ان کے کھاتے بھی چیک کئے گئے کہ جن کے ریکارڈ کی ماضی میں ای او بی آئی کی جانب سے کبھی جانچ پڑتال کی نوبت نہیں آئی ۔

ان اداروں میں راولپنڈی کے نواح میں واقع روات انڈسٹریل ایسٹیٹ بھی ایک ایسا ہی وسیع و عریض صنعتی علاقہ ہے جہاں زیادہ تر چھوٹے کارخانے اور کاٹیج انڈسٹریز قائم ہیں اور ان چھوٹے چھوٹے کارخانوں میں ہزاروں محنت کش خدمات انجام دیتے ہیں فیلڈ آپریشنز کی ٹیم کی جانب سے ان چھوٹی چھوٹی صنعتوں کے ریکارڈ اور کھاتوں کی تفصیلی جانچ پڑتال کی گئی اور وہاں خدمات انجام دینے والے سینکڑوں ملازمین کی اصل تعداد کو شمار کرکے ان کے آجروں اور مالکان سے ان کی مد میں واجب الادا کنٹری بیوشن کی مد میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کی خطیر رقم کی ریکوری کی گئی ہے ۔

اسی طرح ریجنل آفس راولپنڈی کے دائرہ اختیار میں آنے والے ایسے تمام ادارے جن کا براہ راست تعلق فوجی فاؤنڈیشن سے ہے ۔ ان میں فوجی سیکیوریٹی اور عسکری سیکیورٹی گارڈز جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں ۔ ان سیکیوریٹیز کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والے سینکڑوں سیکیورٹی گارڈز کی ای او بی آئی کے تحت لازمی بیمہ کاری کرکے اور مستقبل میں ان کی تاحیات پنشن کو یقینی بنانے کے لئے تقریباً سات کروڑ روپے کے واجب الادا کنٹری بیوشن کی ریکوری کی گئی ہے ۔

اسی دوران راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے جذبہ خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریجنل ہیڈ راولپنڈی محمد فاروق طاہر کی سربراہی میں فیلڈ آپریشنز کی ٹیم کو چیمبر میں مدعو کیا گیا ۔ جس میں راولپنڈی چیمبر کے عہدیداران، ارکان اور آجران نے ای او بی آئی فیلڈ آپریشنز کی ٹیم کے ساتھ آجران کی رجسٹریشن، کنٹری بیوشن کی ادائیگی اور پنشن کے متعلق معلومات کے تبادلہ اور درپیش مسائل پر سیر حاصل تبادلہ خیال کیا گیا ۔

اس خوشگوار ملاقات کے دوران راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تمام عہدیداران نے ریجنل ہیڈ راولپنڈی محمد فاروق طاہر اور ریجنل آفس کی فیلڈ آپریشنز کی ٹیم کو راولپنڈی کے ہزاروں محنت کشوں کی فلاح وبہبود کے لئے کی جانے والی جملہ کاوشوں کو سراہا گیا اور انہیں اس قومی فریضہ کی ادائیگی میں راولپنڈی کی آجر برادری کی جانب سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی جو خوش آئند ہے ۔

راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداران سے کامیاب ملاقات کے بعد راولپنڈی ریجنل فیلڈ آپریشنز کی ٹیم نے اپنی انتھک محنت اور کاوشوں کی بدولت راولپنڈی ڈویژن کے ایسے تمام کاروباری، تجارتی اور رفاہی اور دیگر اداروں پر توجہ مرکوز کردی ہے جو انتظامی طور پر مسلح افواج کے ماتحت خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان پر ای او بی ایکٹ مجریہ 1976ء کا بھی اطلاق ہوتا ہے ۔ ایسے تمام اداروں کی ای او بی آئی میں رجسٹریشن اور وہاں خدمات انجام دینے والے سینکڑوں ملازمین کی مستقبل میں تاحیات پنشن یقینی بنانے کے لئے واجب الادا کنٹری بیوشن کی وصولیابی کے لئے ایک مہم کا آغاز بھی کیا گیا ۔

ریجنل آفس راولپنڈی کی فیلڈ آپریشنز کی جانب سے کی جانے والی جملہ کاوشوں کی بدولت رفتہ رفتہ مثبت نتائج سامنے آنے شروع ہو گٸے ہیں اور خدا کے فضل و کرم سے اس ریکوری مہم کے دوران ملک کے ایک تاریخی تعلیمی ادارہ لارنس کالج گھوڑا گلی، مری کو بھی ای او بی آئی میں رجسٹر کرنے کا اعزاز حاصل ہوا اور اس تعلیمی ادارہ کی انتظامیہ نے اپنے ملازمین کی ریٹائرمنٹ اور معذوری کی صورت میں اور خدانخواستہ ان کی وفات کی صورت میں ان کے پسماندگان کو ای او بی آئی کی جانب سے تاحیات پنشن فوائد کو سراہتے ہوئے اور اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہوئے بیحد تعاون کا مظاہرہ کیا اور ای او بی آئی پنشن فنڈ میں دو کروڑ تیس لاکھ روپے کے کنٹری بیوشن بقایاجات جمع کراٸے ہیں جس پر لارنس کالج گھوڑا گلی مری کی انتظامیہ تعریف کی مستحق ہے ۔

اسی طرح پاک فوج کے تحت ایک تعمیراتی ادارہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) سے وابستہ ایک بڑے کنٹریکٹر میسرز ون نیٹ کو بھی ای او بی آئی میں رجسٹر کیا گیا ہے جبکہ (FWO) کے تعمیراتی منصوبوں سے وابستہ دیگر کنٹریکٹرز اور ان کے ملازمین کی رجسٹریشن اور واجب الادا کنٹری بیوشن کی وصولیابی کے لٸے بھی کوششیں جاری ہیں ۔

علاوہ ازیں ریجنل ہیڈ راولپنڈی محمد فاروق طاہر اور ان کی پرعزم فیلڈ آپریشنز ٹیم نے اس کامیابی پر اکتفا کرنے کے بجائے مزید ایسے بے شمار اداروں اور آجران کا سراغ بھی لگایا ہے کہ جن پر ای او بی ایکٹ مجریہ 1976ء کا اطلاق ہوتا ہے اور ان کی رجسٹریشن اور کنٹری بیوشن کی وصولیابی کے لئے اپنی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں ۔

ان اداروں میں کنٹونمنٹ بورڈ سے وابستہ مختلف کنٹریکٹرز، ڈی ایچ اے کے لئے خدمات انجام دینے والے کنٹریکٹرز، آرمی پبلک سکولز نیٹ ورک اور فضائیہ اسکولز نیٹ ورک وغیرہ شامل ہیں ۔

اس سلسلہ میں حال ہی میں محمد فاروق طاہر، ریجنل ہیڈ راولپنڈی کی آرمی پبلک سکول سیکریٹیریٹ کے ذمہ دار محترم کرنل سہیل صاحب سے ایک بیحد مفید ملاقات بھی ہوٸی ۔ جس میں کرنل صاحب نے ای او بی آئی کو یہ خوش آئند عندیہ دیا کہ آرمی پبلک سکولز نیٹ ورک کے 219 اسکولوں کی ای او بی آئی میں مرحلہ وار رجسٹریشن کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ان شاءاللہ بہت جلد ملک بھر میں قائم ایسے تمام تعلیمی ادارے ای او بی آئی میں رجسٹر کرائے جاٸیں گے ۔

راولپنڈی ڈویژن میں آجران اور اداروں کی بڑے پیمانے پر رجسٹریشن اور کنٹری بیوشن کی وصولیابی کی جملہ کوششوں کی بدولت ریجنل آفس راولپنڈی کی خدمات اور کارکردگی بیحد شاندار رہی ہے جو ملک بھر میں قائم ای او بی آئی کے دیگر ریجنل آفسوں کے لئے ایک قابل تقلید مثال ہے ۔

ریجنل آفس راولپنڈی کی نمایاں کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے برس ماہ اکتوبر 2021ء میں ریجنل آفس راولپنڈی کی کنٹری بیوشن ریکوری 6 کروڑ روپے تھی جو موجودہ فیلڈ آپریشنز ٹیم کی زبردست کاوشوں کی بدولت رواں ماہ اکتوبر 2022ء میں بڑھ کر 12 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے جو ایک مثالی کامیابی ہے ۔

ریجنل آفس راولپنڈی کی جانب سے شروع کی جانے والی حالیہ کنٹری بیوشن ریکوری مہم کے دوران اٹک ریفاٸنری لمیٹڈ اور بحریہ ٹاؤن راولپنڈی سے بھی بالترتیب ایک کروڑ چالیس لاکھ اور ایک کروڑ پچاس لاکھ روہے کے واجب الادا کنٹری بیوشن کی ریکوری شامل ہے ۔

واضح رہے کہ ای او بی آئی ریجنل آفس راولپنڈی کا شمار ادارہ کے پرانے ریجنل آفسوں میں کیا جاتا ہے ۔ جہاں رجسٹر شدہ آجران کی تعداد 3705، بیمہ دار افراد کی تعداد تقریباً ایک لاکھ، پنشن یافتگان کی تعداد 1807، اور رجسٹر شدہ آجران سے رواں مالی سال کے دوران اوسطاً کنٹری بیوشن کی وصولیابی 80 ملین روپے ہے ۔

یہ پیش نظر رہے کہ اس وقت ملک بھر میں ای او بی آئی کو رجسٹر شدہ آجران کی اکثریت کی جانب سے رواں کم از کم اجرت کے مطابق کنٹری بیوشن کی ادائیگی میں عدم تعاون اور مختلف مسائل کا سامنا ہے جس کے باعث ای او بی آئی میں کنٹری بیوشن کی وصولی کی رقوم اور ماہانہ پنشن کی ادائیگی کی رقوم میں شدید عدم توازن پیدا ہوگیا ہے جو لمحہ فکریہ ہے ۔

ای او بی آئی اپنے بیمہ دار افراد کو مقررہ شرائط وضوابط کے مطابق تاحیات بڑھاپا پنشن، تاحیات پسماندگان پنشن اور تاحیات معذوری پنشن ادا کرتا ہے اور مقررہ بیمہ شدہ مدت ملازمت مکمل نہ ہونے کی صورت میں ایسے بیمہ دار افراد کو یکمشت بڑھاپا امداد ادا کی جاتی ہے ۔

اس وقت ملک بھر میں ای او بی آئی کے چار لاکھ سے زائد بیمہ دار افراد پنشن وصول کر رہے ہیں جو کم از کم 8٫500 روپے ماہانہ ہے اور زیادہ سے زیادہ پنشن کا تعین پنشن فارمولا کے مطابق کیا جاتا ہے ۔

ان لاکھوں پنشن یافتگان کو مقررہ وقت پر بینک الفلاح کے ATM کارڈ کے ذریعہ پنشن ادا کی جاتی ہے اور ان پنشن یافتگان کو دیگر سرکاری اداروں کے پریشان حال پنشن یافتگان کے برعکس اپنی ماہانہ پنشن کے حصول کے لئے سفر، قطار اور انتظار کی زحمت بھی اٹھانا نہیں پڑتی ۔

اس نازک صورت حال کے تناظر میں ریجنل آفس راولپنڈی کی جانب سے راولپنڈی ڈویژن کے آجران اور مالکان سے واجب الادا کنٹری بیوشن کی ریکارڈ وصولیابی کا سہرا ریجنل ہیڈ راولپنڈی محمد فاروق طاہر اور ریجنل آفس کی جوانسال ، فعال، متحرک فیلڈ آپریشنز ٹیم کے سر بندھتا ہے ۔ جس میں فیلڈ افسران شہریار احمد خٹک، سید عاطر گردیزی ، سلیم خان، عبید اللہ اور مسرت ثناء شامل ہیں ۔ اس موقع پر راولپنڈی ڈویژن کے جملہ آجران اور مالکان بھی اپنے قومی فریضہ کی انجام دہی کے لئے لائق ستائش ہیں اور ای او بی آئی فیلڈ آپریشنز کی ٹیم بھی مبارک باد اور تحسین کی مستحق ہے ۔

ریجنل آفس راولپنڈی کی فیلڈ آپریشنز کی ٹیم کی اس شاندار کارکردگی کے اعتراف میں اور ان کے جذبہ کو توانا رکھنے کے لئے ای او بی آئی کی انتظامیہ کی جانب سے بھی اس ٹیم کی کما حقہ حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ۔

واضح رہے کہ محمد فاروق طاہر کا حال ہی میں ریجنل آفس راولپنڈی سے بطور ڈائریکٹر ،ڈائریکٹر جنرل آپریشنز نارتھ آفس لاہور تبادلہ ہوگیا ہے اور ان کی جگہ ناصر محمود عارف، ڈپٹی ڈائریکٹر کی تعیناتی عمل میں آئی ہے ۔ جو EOBI کے ایک منجھے ہوئے سینئر افسر ہونے کے ساتھ فیلڈ آپریشنز کا بھی وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔

امید کی جاتی ہے ریجنل آفس راولپنڈی کے نئے ریجنل ہیڈ ناصر محمود عارف بھی اپنے پیش رو کی طرح اپنی فیلڈ آپریشنز ٹیم کے ساتھ مل کر اس اس شاندار کامیابی کو نہ صرف برقرار رکھیں گے بلکہ مزید بہتر نتائج حاصل کریں گے ۔

تاکہ راولپنڈی ڈویژن کے ہزاروں آجران اور اداروں کی ای او بی آئی میں رجسٹریشن اور ان سے واجب الادا کنٹری بیوشن کی وصولی کے ذریعہ وطن عزیز کے زیادہ سے زیادہ محنت کشوں کو لازمی بیمہ

(Compulsory Insurance) کے ذریعہ ان کی ریٹائرمنٹ یا معذوری اور خدانخواستہ ان کی وفات کی صورت میں ان کےپسماندگان کے لئے تاحیات پنشن کی ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے ۔

متعلقہ خبریں