ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

بلاگعمران خان اور وال اسٹریٹ جرنل !

عمران خان اور وال اسٹریٹ جرنل !

تحریر :‌مسعود ابدالی

آج کل وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا پاکستانی میڈیا پر بہت شور ہے، جس میں عمران خان کی حکومت کو پاکستان کے لئے تباہ کن قرار دیا گیا ہے۔ کسی اور سے کیا شکایت، خود عمران خان نے دنیا کی ہر خوبی کو امریکا اور یورپ سے منسوب کر رکھا ہے۔ ملک کی خرابی کا ماتم کرتے ہوئے وہ ٹھنڈی سانسیں بھر کر ’’اچھے اور مہذب‘‘ ملکوں کا ذکر کرتے ہیں۔ اسی بنا پر وال اسٹریٹ کے مضمون کو عمران خان کے خلاف فردِ جرم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

دس نومبر کو یہ مضمون Opinion کے طور پر شائع ہوا ہے۔ اس کا مصنف سدانند دھومی (Sadanand Dhume) کسی موقر اخبار یا نشریاتی ادارے سے وابستہ صحافی نہیں، بلکہ اس کے اکثر مضامین کی حیثیت “مدیر کے نام خطوط” یعنی مراسلات کی سی ہے۔ مراسلے کی فنی وقعت صحافی دوست جانتے ہیں۔

ہند نژاد سدانند خود کو لادین یا Atheist کہتا ہے، لیکن اس کا نشانہ راسخ العقیدہ مسلمان ہیں اور یہی اس کی مقبولیت کا سبب ہے۔ سلمان رشدی کو ملکہ برطانیہ کی جانب سے ’’ سر‘‘ کا اعزاز دینے پر اس نے Sir Salman Rushdie کے عنوان سے وال اسٹریٹ جنرل میں ایک مضمون لکھا۔ سدھادنند کا یہ مکتوب 23 اکتوبر 2007 کو شائع ہوا، جس میں ثابت کیا گیا کہ مسلمانوں کی اپنے نبیؐ سے محبت آزادیِ اظہارِ رائے کی راہ میں رکاوٹ ہے اور مسلمان مقدس مذہبی شخصیات کے بارے میں کچھ سننے کو تیار نہیں۔

اس کی ایک کتاب My Friends and Fanatics کے عنوان سے 2009 میں شائع ہوئی، جو اس کا انڈونیشیا کے بارے میں سفر نامہ ہے۔ انڈونیشیا میں اس نے اسلامی تحریکوں کے حامی کا روپ دھارا اور کئی مخلص مسلمانوں سے دوستی گانٹھ لی۔ پوری کتاب انڈونیشیا میں انتہا پسندی کے ماتم اور مغرب کو اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا کرنے کی کوشش سے عبارت ہے۔

مزید پڑھیں : لال مسجد کی حالیہ صورت حال پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا اعلامیہ

عمران خان کے دور حکومت میں اس نے نومبر 2018 میں Pakistan, Stop Coddling Terrorists کے عنوان سے ایسا ہی ایک مضمون لکھا تھا۔ تحریر کا آغاز بمبئی واقعہ سے ہوا اور اس حوالے سے پاکستان میں انتہا پسندی کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو متنبہ کیا گیا کہ وہ مفاہمت کے نام پر دہشت گردوں کو ہم نشینی کا اعزاز دینے سے باز رہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کاروبار اور اقتصادیات کی دنیا کا ترجمان سمجھا جاتا ہے، جس کی بنیاد پر سدانند دھومی کے حالیہ مضمون کو عمران حکومت کے بارے بین الاقوامی کاروباری حلقے کے تجزیئے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ معاملہ یہ ہے کہ اِس تحریر کا اقتصادیات سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ متعصب و انتہا پسند صحافی نے عمران خان کی آڑ میں پاکستانی فوج، اداروں اور نظریۂ پاکستان کو نشانہ بنایا ہے۔

ہمیں بھی خان صاحب کے طرز کلام ، مخالفین کے لئے ان کی توہین آمیز زبان اور حساس موضوعات پر عوامی جلسوں میں غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے اختلاف ہے ۔ لیکن ایک پاکستان دشمن اور مسلم مخالف لکھاری کی سطحی و متعصب سطور کو غیر جانبدارنہ تبصرے کے طور پر پیش کرنا کسی طور مناسب نہیں ۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن سب سے پہلے نظریۂ پاکستان !

متعلقہ خبریں