اتوار, نومبر 27, 2022
اتوار, نومبر 27, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

بلاگکیا آپ کا گھر بھی مسمار ہو رہا ہے ؟؟

کیا آپ کا گھر بھی مسمار ہو رہا ہے ؟؟

تحریر : ع ۔۔۔ خان

کیا آپ کا گھر بھی مسمار ہو رہا ہے ؟؟
کیا آپ لوگ بھی ان میں شامل ہے؟؟
کیا آپ کے رشتے داروں کے گھر شامل ہیں؟؟
یہ اس قسم کے مختلف سوالات
جو مجھ سے پوچھئے گئے ہیں
ہاں میرا ان سے رشتہ ہے
مسلمان ہونے کے ناطے
کلمہ لا الہ الااللہ ہونے کے ناطے
اس حدیث کی بنیاد پر
المسلم کجسد واحد ہونے کے ناطے
ایک محلے میں رہنے کے ناطے
ایک علاقے میں رہنے کے ناطے
للہ محبت کے ناطے
ایک جامعہ سے وابستہ ہونے کے ناطے
ہاں ہاں
یہ میرے ہی گھرہیں
جو مسمار ہو رہے ہیں

مزید پڑھیں : اَن پڑھ سرکاری سکول ٹیچر ارب پتی کیسے بن گئی ؟

کیونکہ میری ساتھی معلمات کے گھر ہیں
میری طالبات کے گھر ہیں
میرے جامعہ کے خادمات کے گھر ہیں
میرے درس نظامی کی ان بچیوں کے گھر ہیں
جو مجھ سے کہتی تھی
کہ ہم اپنی ختم بخاری پر چادر نہیں فلسطین رومال پہنیں گے
آج وہ سب در بدر ہوگئیں
آج بھی میں نہ کہوں
یہ میرے گھر ہیں ؟؟
یہ میرے ہی گھر ہیں
یہ میرے ہی لوگ ہیں
جہاں دل قریب ہوتے ہیں
جہاں لوگوں کی پہچان
ان کی اسٹیٹس اور
ان کے گھروں کو دیکھ کر نہیں کیا جاتا
بلکہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے کیا جاتا ہے

مذید پڑھیں : بلوچستان : محمد حسنی قبیلے کے نوجوانوں کا JUI چھوڑنے کا عندیہ

ایک جامعہ سے وابستہ ہونے کی وجہ سے کیا جاتا ہے
جہاں یہ نہیں دیکھا جاتا
آنے والے کا اسٹیٹس کیا ہے
ہائی فائی اسٹیٹس ہے تو پڑھائیں گے
لیکن اگر غریب ہے تو دھتکار دیں گے
لیکن کیا کبھی کسی نے سوچا ہے؟
ایک ایسی بستی میں رہنے والے لوگ
جن کے ایک طرف پوش ایریا واقع ہے
جہاں ہائی فائی گھر ہیں
اسی کے بیک سائیڈ پر ناظم آباد کراچی مجاھد کالونی کی یہ بستی آباد ہے
جہاں اس دور میں اس کالونی کے لوگوں نے دوسروں کے سامنے ہاتھ
پھیلانے کے بجاۓ
کمانے کو ترجیح دی
اس کالونی کو آباد کرنے والے
ہر قسم کے لوگ یہاں ہیں
اور اب تھے
قیام پاکستان کے فورا بعد 1955 میں بننے والی اس کالونی میں ہر قسم کی زبان بولنے والے لوگ ہیں
جومختلف قسم کے روزگار سے وابستہ ہیں
کسی نے سبزی کا ٹھیلہ لگایا ہے
تو کوئی بریانی کی دکان کھول کے بیٹھا ہے
کوئی دودھ کی دکان پر ہے
تو کوئی بیکری کھول کے بیٹھا ہے
کوئی درزی ہے تو کوئی موچی ہے
کوئی برگر کی دکان چلا رہا ہے
تو کوئی
چھوٹا سا اسٹور چلا رہا ہے
تو کسی کی چھوٹی سی کلینک ہے
تو کسی کا چھوٹا سا مدرسہ ہے
تو کوئی گھر میں بچیوں کو پڑھا رہا ہیں
لیکن اس بستی کے رہنے والوں میں
اگر ایک طرف برادری والے لوگ ہیں
تو اسی کے ایک طرف پٹھان آباد ہیں
اسی بستی میں دوسری طرف اگر بنگال کے رہنے والے لوگ ہیں
تو اسی کے ساتھ سندھی زبان والے لوگ بھی ہیں
ان میں کوئی تعصب نہیں
سب ایک چیز کو لیکر چلتے ہیں
سب ایک مسجد میں آ کر نماز پڑھتے ہیں

مذید پڑھیں : ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر افغانستان کو عالمی کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا : طالبان رہنما

سب ایک جگہ جمع ہو کر اپنے اپنے غموں کو اور سکھوں کو بانٹے ہیں
ایسی تھی یہ بستی💔
جو اب ملبے کا ڈھیر بن چکی ہے
جہاں اب اس ملبے سے لوگ اپنے بچے کچے اشیاء لیکر جا رہے ہیں
فقط اس لئے کہ ڈاکٹر عاصم کا ارادہ وہاں سے ضیاء الدین ہسپتال کے لئے ایک سڑک بنانے کا تھا
اب چاہے اسس کی قیمت اگر چہ ستر سال پرانی بستی کو مسمار کرنے کی صورت میں نکلے
جہاں پندرہ ہزار کے لگ بھگ گھر تھے
تو کوئی مسلہ نہیں
کیونکہ ڈاکٹر عاصم کی خواہش تو پوری ہو رہی ہے
کیونکہ وہ ایک ہائی فائی اسٹیٹس رکھنے والا انسان ہے
کیونکہ وہ عام انسان نہیں
اور یہ دنیا صرف خاص انسانوں کے لئے ہییں
ہم جیسے عام سوچ رکھنے والوں کے لئے
اس میں کوئی جگہ نہیں
جہاں ہم کسی کا درد محسوس کر سکے
تو سامنے والا یہ سوال نہ کرے
کہ آپ کا گھر شامل نہیں تو آپ آواز کیوں اٹھا رہی ہے؟
آپ اس کو فلسطین و کشمیر سے کیوں ملا رہی ہے
ہاں سچ کہا
فلسطین میں تو پھر یہودی ہیں
اگر ظلم کرتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کافر ہے
کشمیر میں ظلم کرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں ہندو ہے
لیکن یہاں تو اپنے ہی کلمہ گو بھائی
اپنے ہی حکمران اپنے ہی لوگوں کے گھر اجاڑ رہے ہیں💔
لیکن آواز اٹھانا جرم ہے
کیونکہ ہمارا گھر نہیں ہے ۔

مذید پڑھیں : ناظم آباد مجاہد کالونی میں گھروں کے ساتھ مساجد بھی گرائی جائیں گی ؟

متعلقہ خبریں