اتوار, نومبر 27, 2022
اتوار, نومبر 27, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

تازہ ترین11 سالہ بچہ : 130 دن میں قرآن اور 11 ہزار احادیث...

11 سالہ بچہ : 130 دن میں قرآن اور 11 ہزار احادیث حفظ

مصری بچے نے 130 دنوں میں قرآن کریم کے ساتھ صحیح بخاری و مسلم کی11 ہزار احادیث اور تفسیر جلالین یاد کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔

محیر العقول قوت حافظہ کے مالک 11 سالہ شریف سید مصطفی نے قرآن کریم کو صرف یاد ہی نہیں کیا، بلکہ قرات عشرہ کا کورس مکمل کر کے دنیا کے نو عمر ترین ”سبع عشرہ قاری“ ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا ہے۔

سید مصطفی نے 11 برس کی عمر میں اتنی کتابیں یاد کی ہیں، جن کو سبقاً پڑھنے کیلئے ایک عمر درکار ہوتی ہے۔ سید مصطفی کو ”طفل معجزة“ (Miracle Child) قرار دیا جا رہا ہے۔

جامعہ ازہر اور مصری وزارت اوقاف کی جانب سے انہیں کئی ایوارڈز سے نوازا گیا ہے اور عرب سفراء کی تنظیم ”اتحاد سفراءالعرب“ نے ننھے سید مصطفی کو ”بچوں کیلئے عرب کا سفیر“ مقرر کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں:جے ایس ایم یو سینڈیکیٹ ، بوائز میڈیکل کالج ، حج اسکیم میں کوڈل کنٹریکچوئل ملازمین کو شامل کرنیکی منظوری

عرب جریدے المصریون کی رپورٹ کے مطابق سید مصطفی کی عمر 11 برس ہے، وہ اتنی کم عمری میں قرآن کریم اور صحیح بخاری و مسلم سمیت کئی مشکل ترین کتابیں زبانی یاد کر چکے ہیں۔

130 روز میں قرآن کریم اور بخاری و مسلم کی 11 ہزار احادیث یاد کرنے کے بعد سید مصطفی نے قرات سبع عشرہ کے کورس میں داخلہ لیا اور صرف 6 ماہ کی قلیل مدت میں اس کورس میں شامل تمام کتابوں کو ازبر کر کے نامور اساتذئہ فن کو حیرت میں ڈال دیا۔ حالانکہ قراءات کا یہ کورس عموماً 8 سال میں پورا ہوتا ہے۔

6 ماہ میں سید مصطفی نے تحفة الاطفال، متن جزریہ، شاطبیہ، درہ، الفیہ ابن مالک، نونیہ ابن القیم اور تفسیر جلالین جیسی کتابوں کو یاد کیا۔ اب وہ شوقیہ طور پر انجیل، تورات اور زبور جیسی کتابوں کے مختلف نسخے بھی یاد کر رہے ہیں، تاکہ وہ تمام آسمانی کتابوں کا حافظ بن سکیں۔

سید مصطفی کا کہنا تھا کہ مجھے قدرت نے بہت تیز اور قوی حافظے سے نوازا ہے، مجھے کسی چیز کو زبانی یاد کرنے میں ذرا بھی دشواری پیش نہیں آتی، دو چار بار پڑھنے کے بعد طویل عبارت بھی یاد ہو جاتی ہے۔

سید مصطفی مصر سمیت مختلف عرب ممالک میں ہونے والے حفظ قرآن کے متعدد مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں اور ہر مقابلے میں وہ پہلی پوزیشن حاصل کرتے رہے۔ انہیں اب تک جامعہ ازہر، مصری وزارت اوقاف اور مختلف عرب ممالک کی جانب سے 75 ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔ جبکہ ”اتحاد سفراءالعرب“ کی جانب سے انہیں عرب بچوں کا سفیر بھی مقرر کیا جا چکا ہے۔

مزید پڑھیں:سید حسین سبطِ اصغر نقوی: 1931 سے 2002 تک اپنی لاش کھینچنے والا بوڑھا

سید مصطفی نے قراءات میں مہارت حاصل کرنے کے بعد اب ایک ٹی وی چینل میں قرات سکھانا شروع کی ہے۔ جبکہ ان کے والد نے ان کیلئے حفظ قرآن کا ایک مدرسہ بھی کھول دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سید مصطفی اب فقہ حنفی اور فقہ شافعی کی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔

معجزہ قرار پانے والا یہ ہونہار بچہ بہترین قاری بھی ہے۔ وہ تلاوت میں قاری عبد الباسطؒ، قاری صدیق منشاویؒ اور شیخ عبد الحکیمؒ کی ہوبہو نقالی کرتا ہے۔ فقہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ علم حدیث میں مہارت حاصل کرنے کا خواہشمند ہے۔ اس علم میں سید مصطفی مصر کے نامور محدث الشیخ ابو اسحاق الحوینی کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں۔

سید مصطفی کے والد کی ایک ہی تمنا ہے، جس کا اظہار وہ ان کے سامنے بار بار ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ ”مصطفی! میری خواہش ہے کہ تم روئے زمین کے سب سے بڑا عالم بن کر دین حنیف کا چراغ روشن کرو اور دنیا بھر کے لوگوں تک اسلام کی روشنی پہنچانے کا ذریعہ بنو۔“ مصطفی کے اساتذہ کو یقین ہے کہ قدرت نے اس بچے کو مہلت دی تو وہ اپنے والد کی تمنا کو پورا کرے گا۔

سید مصطفی ابھی جامعہ ازہر سے وابستہ اسکول میں پانچویں کلاس کا طالب علم ہے۔ شیخ سید ہارون جو کہ قراءات کے بہت بڑے استاذ ہیں اور سید مصطفی نے انہی کے پاس قراءات عشرہ پڑھی ہیں۔

مزید پڑھیں:بچیوں کے اسکول کو آگ لگانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے، ثریا زمان

ان کا کہنا ہے کہ مصری تاریخ میں سید مصطفی سے کم عمر میں کسی نے قرات عشرہ کا کورس مکمل نہیں کیا ہے اور اتنی کم عمری میں انہیں مصر کے نامور اساتذئہ قرا¿ت نے اپنی سند سے اجازت بھی دی ہے، جن میں شیخ ڈاکٹر علی محمد توفیق النحاس، شیخ مصباح ابراہیم، شیخ عبد الفتاح مدکور، شیخ یاسر الزعبی، شیخ رجب عبد الباری جیسے مشائخ شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سید مصطفی قاہرہ کی کچی آبادی (منشاة ناصر الشعبی) کے ایک انتہائی غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ جب اس بچے کی عمر پانچ برس ہوئی تو اس کے والد نے اسے حفظ قرآن کریم کے مدرسے میں داخل کر دیا۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ شروع میں یہ بچہ کافی کند ذہن تھا۔

طویل عرصے بعد اس نے قاعدہ ختم کرکے ناظرہ شروع کیا اور پھر حفظ میں بھی کافی کمزور تھا۔ جب اس کے ڈھائی پارے مکمل ہوئے تو اس دوران مدرسے میں ایک تقریب منعقد ہو رہی تھی۔ جس میں سید مصطفی کے استاذ نے اسے ایک عربی نظم پڑھ کر سنانے کا حکم دیا۔

مزید پڑھیں:چوتھے ایشئن اوپن انٹرنیشنل تائکوانڈو چیمپئن شپ میں گلگت بلتستان نے میدان مارلیا

سید مصطفی کا کہنا ہے کہ جب یہ نظم میں نے دیکھی تو ایسا لگا کہ اسے ایک ہفتے سے پہلے یاد نہیں کر سکوں گا۔ مگر جب اسے یاد کرنا شروع کیا تو صرف آدھا گھنٹے میں مجھے ازبر ہو گیا، جب میں نے اپنے استاذ کو سنایا تو وہ بھی حیران رہ گئے۔ اس کے بعد استاذ مجھے زیادہ سبق دینے لگے۔ شروع میں مجھے آدھا صفحہ بھی سبق نہیں دیا جاتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ میں نصف پارہ یومیہ یاد کرنے لگا۔

یوں تین ماہ میں پورا قرآن کریم یاد کر لیا۔ پھر پانچ دن میں دوبارہ پورا قرآن استاذ کو سنایا۔ حفظ کے بعد میں نے 40 دن میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی11 ہزار احادیث سند اور متن کے ساتھ یاد کر لیں۔

متعلقہ خبریں