اتوار, نومبر 27, 2022
اتوار, نومبر 27, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

پاکستاناسٹیٹ بینک کا دوران سفر ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بیرونِ...

اسٹیٹ بینک کا دوران سفر ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بیرونِ ملک ادائیگی کیلئے حد کا اعلان

کراچی : اسٹیٹ بینک نے سفر، اور ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بیرونِ ملک ادائیگی کے لیے زرِ مبادلہ کی حد کو معقول بنا دیا ۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سفری مقاصد کے لیے غیر ملکی نقد کرنسی لے جانے کی موجودہ حد پر نظر ثانی کی ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ اسے مزید معقول بنایا جائے ۔

نظر ثانی شدہ حد کے مطابق 18 سال اور اس سے زائد عمر کے (بالغ) افراد اب پاکستان سے 5,000 امریکی ڈالر کے مساوی غیر ملکی کرنسی فی دورہ لے جا سکتے ہیں ۔ جب کہ 18 سال سے کم عمر(نابالغ) افراد کوفی دورہ 2,500 امریکی ڈالر کے مساوی غیر ملکی کرنسی لے جانے کی اجازت ہو گی ۔

مزید پڑھیں : ڈی جی NADRA کراچی نے ریٹائرڈ بریگیڈیئر کو بھی بے بس کر دیا

مزید برآں، بالغ اور نابالغ افراد کے لیے غیرملکی کر نسی لے جانے کی سالانہ حد بالترتیب 30,000 امریکی ڈالر اور 15,000 امریکی ڈالرہو گی۔افغانستان کا سفر کرنے والوں کے لیے غیر ملکی کرنسی کی پہلے بتائی گئی (اسٹیٹ بینک نوٹیفکیشن نمبر FE 2/2021-SB مورخہ 06 اکتوبر2021 ء کے مطابق ) موجودہ حد برقرار رہے گی ۔

https://www.sbp.org.pk/fe_manual/appendix%20files/appendix%203/appendix3.htm#34 غیر ملکی کرنسی کی فی دورہ حدیں فوری طور پر نافذ ہوں گی، جبکہ سالانہ حدیں یکم جنوری 2023 ء سے لاگو ہوں گی۔ غیر ملکی نقدی کی نظر ثانی شدہ حد کا اعلامیہ اس لنک پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے :
https://www.sbp.org.pk/fe_manual/appendix%20files/appendix%203/appendix3-demo.htm
مزید برآں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا مشاہدہ ہے کہ ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈز ایسے لین دین کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں جو متعلقہ فرد کی خصوصیات (پروفائل) کے مطابق نہیں یا یہ کارڈز تجارتی مقصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔چنانچہ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو یہ بات یقینی بنانے کا مشورہ دیا ہے کہ بین الاقوامی ادائیگیوں کے لیے ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈز کا استعمال کارڈ ہولڈرز کی انفرادی خصوصیات کے مطابق اور ان کی صرف ذاتی ضروریات کے لیے ہو۔

یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ ڈیبٹ/ کریڈٹ کارڈز کا مقصد افراد کو ذاتی نوعیت کے لین دین کی ادائیگی میں سہولت دینا ہے۔ ان کارڈز کا استعمال اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے ذریعے ملکی اور بین الاقوامی دونوں طرح کی ادائیگیوں کی حد کارڈ ہولڈر کی انفرادی خصوصیات کے مطابق ہونی چاہئیں۔ یہ یقینی بنانا صارف کی ذمہ داری ہوگی کہ اس کی سالانہ حد کسی بھی موقع پر عبور نہ ہونے پائے۔ تاہم بینکوں کو چاہیے کہ مجموعی بنیاد پر ہر فرد کی ان حدود کی نگرانی کریں ۔

مذید پڑھیں : اَن پڑھ سرکاری سکول ٹیچر ارب پتی کیسے بن گئی ؟

قانونی دائرے میں کاروبار سے متعلق بیرونِ ملک کارڈز کے استعمال پر فارن ایکس چینج مینوئل کے باب 14 ، پیرا 14 اے میں ایک فریم ورک سے دستیاب ہے جس کے تحت ڈجیٹل خدمات کے حصول کے خواہاں افراد مذکورہ فریم ورک میں درج متعلقہ مالی حدود میں رہتے ہوئے سہولت استعمال کرنے کے لیے کسی بینک کا تعین کرسکتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ فرموں اور کمپنیوں کی جانب سے خدمات کے حصول کی غرض سے فارن ایکس چینج مینوئل کے باب 14، پیرا 11 میں ایک عمومی فریم ورک دیا گیا ہے۔

کارڈز کے ذریعے بیرونِ ملک لین دین پر حد کے نفاذ کے حوالے سے سرکلر اس لنک پر دستیاب ہے: https://www.sbp.org.pk/epd/2022/FEC7.htm

اختر شیخ
اختر شیخhttps://alert.com.pk
اختر شیخ (چیف رپورٹر کراچی) جن کی صحافتی جدوجہد 3 دہائیوں پر مشتمل ہے، آپ الرٹ نیوز سے منسلک ہونے سے قبل آغاز نیوز ٹائم، روزنامہ مشرق، روزنامہ بشارت اور نیوز ایجنسی این این آئی کے ساتھ مختلف عہدوں پر کام کیا ہے۔ اختر شیخ کراچی پریس کلب کے ممبر ہیں اور کے یو جے (برنا) کی بی ڈی ایم کے ممبر بھی ہی۔
متعلقہ خبریں