منگل, ستمبر 26, 2023
منگل, ستمبر 26, 2023
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

بلاگاماراتی شہری بچوں کی سنچری مکمل کرنے کیلئے پرعزم

اماراتی شہری بچوں کی سنچری مکمل کرنے کیلئے پرعزم

اماراتی شہری بچوں کی سنچری مکمل کرنے کیلئے پرعزم ہے ۔دنیا کے آدھے ممالک کی خواتین سے شادی کا ریکارڈ قائم کر لیا ۔ 93 بچوں کا باپ اب دوبارہ دلہا بننے جا رہا ہے ۔

ورلڈ ریکارڈ قائم کر کے عالمی شہرت حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر کے لوگ عجیب و غریب حربے استعمال کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے بہت سے افراد اپنی جانوں سے بھی گزر جاتے ہیں۔ بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر نے سنچریوں کی سنچری بنا کر ورلڈ ریکارڈ قائم کیا تو اماراتی شہری نے بچوں کی سنچری مکمل کر کے ورلڈ قائم کرنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے متمول شخص ”ابوالفیصل“ نے درجنوں شادیاں کی ہیں اور اب تک انہوں نے 93 بچوں کے باپ بننے کا ”اعزاز“ حاصل کیا ہے ۔تاہم انہوں نے عزم کر رکھا ہے کہ وہ سنچری مکمل کرکے ہی دم لیں گے۔

واضح رہے کہ، ابو الفیصل نے مختلف قومیت سے تعلق رکھنے والی خواتین سے شادیاں کر کے عالمی ریکارڈ قائم کر رکھا ہے اور اب وہ بچوں کی سنچری مکمل کر کے بھی ریکارڈ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ فی الحال ان کے نکاح میں 4 بیویاں موجود ہیں، تاہم دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انہوں نے دنیا کے آدھے ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین سے شادیاں کی ہیں۔ جن میں پاکستانی، سری لنکن، چائنا، مصری، یورپی سمیت دیگر کئی ممالک کی خواتین شامل ہیں اور مزید شادی کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

رواں ماہ کے آخری ہفتے میں وہ 62 سال کی عمر میں ایک بار پھر دلہا بنیں گے۔ ابو الفیصل نے پہلی شادی 1969ء میں کی تھی، جس کے بعد وہ مسلسل شادیاں کرتے رہے اور بچے پیدا کرتے رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابو الفیصل کی کوئی بیوی شادی کے وقت 20 سال سے زائد عمر کی نہیں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی خاتون سے شادی کے کچھ عرصے بعد جب میں سمجھتا ہوں کہ یہ بچہ جننے والی نہیں ہے تو میں اسے اپنی عادت کے مطابق ”ریٹائرڈ“ کر دیتا ہوں۔ (وہ طلاق کو ”ریٹائرمنٹ“ سے تعبیر کرتے ہیں) جس کے بعد وہ کسی دوسرے ملک کی دوشیزہ سے شادی کرتے ہیں۔

شہرت کے دلدادہ ابو الفیصل نے ایک اور ریکارڈ بھی قائم کر رکھا ہے کہ انہوں نے ”فجیرہ“ کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے ہر ”امارت“ میں اپنے لیے الگ گھر بنایا ہے، جس میں انہوں نے اپنی سابقہ بیویوں کو اس کے بچے کے ساتھ بسایا ہے۔ جبکہ ہر بیوی کو طلاق دینے کے بعد وہ اس کے لیے الگ گھر بناتے ہیں اور اس کی مکمل دیکھ بال بھی کرتے ہیں۔

مذید پڑھیں : استور عید گاہ سے ملحق بوائز پرائمری سکول مسائل کی آماجگاہ بن گیا

ابو الفیصل کا کہنا ہے کہ زیادہ شادیاں کرنے کا میرا مقصد بچوں کی سنچری مکمل کرنا ہے۔ اس لیے جیسے ہی کسی بیوی سے میرا ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اور میرا مطلوبہ مقصد پورا ہوتا ہے تو میں اسے ”ریٹائر“ کردیتا ہوں۔ فلسطین سے شائع ہونے والے معروف اخبار ”القدس“ کی ویب سائٹ کے مطابق، ان دنوں عرب ذرائع ابلاغ میں ایک اماراتی شہری کا بڑا چرچا ہے۔ گزشتہ دنوں امارات کے ایک مقامی ٹی وی چینل ”شارجہ نیوز“ نے متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے ایک متمول شخص کے بارے میں تفصیلی رپورٹ نشر کی ہے۔

”ابوالفیصل“ نامی شخص نے اب تک درجنوں شادیاں کی ہیں اور انہےں 93 بچوں کے باپ بننے کا ”اعزاز“ حاصل ہوا ہے، تاہم انہوں نے عزم کر رکھا ہے کہ وہ بچوں کی سنچری مکمل کرکے ہی دم لیں گے۔ رپورٹ کے مطابق، ابو الفیصل نے مختلف قومیتوں اور ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین سے شادیوں کی سنچری بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کر رکھا ہے۔

انہوں نے دنیا کے آدھے ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین سے شادیاں کی ہیں۔ جن میں اماراتی، پاکستانی، سری لنکن، بھارتی، چائنا، مصری، یورپی سمیت کئی ممالک کی خواتین شامل ہیں اور مزید شادی کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ رواں ماہ کے آخری ہفتے میں وہ 62 سال کی عمر میں ایک بار پھر دلہا بنیں گے۔ انہوں نے پہلی شادی 1969ء میں مقامی خاتون سے کی تھی، جس کے بعد وہ مسلسل شادیاں کرتے رہے اور بچے نکالتے رہے۔ تاہم اس حوالے سے ایک انوکھا کام انہوں نے یہ کیا کہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین سے شادیاں کیں۔

مذید پڑھیں : ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی سندھ ڈاکٹر اتحاد کے مسائل اسمبلی میں زیر بحث لانے کی یقین دہانی

دلچسپ بات یہ ہے کہ ابو الفیصل کی کوئی بیوی شادی کے وقت 20 سال سے زائد عمر کی نہیں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی خاتون سے شادی کے کچھ عرصے بعد جب میں سمجھتا ہوں کہ یہ بچہ جننے والی نہیں ہے تو میں اسے اپنی عادت کے مطابق ”ریٹائرڈ“ کردیتا ہوں۔ (وہ طلاق کو ”ریٹائرمنٹ“ سے تعبیر کرتے ہیں) اور کسی دوسرے ملک کی دوشیزہ سے شادی کرتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں چونکہ دنیا کے ہر ملک سے تعلق رکھنے والی خواتین سے شادی بہ آسانی ہوجاتی ہے، خاص کر ایشین اور افریقن خواتین کی وہاں کمی نہیں ہے۔ اس لیے ابو الفیصل کو اس حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی اور وہ شادیاں کرانے والی معروب عرب ویب سائٹ ”الزواج ڈاٹ کام“ کی خدمات بھی حاصل کرتے ہیں۔

شہرت کے دلدادہ ابو الفیصل نے ایک اور ریکارڈ بھی قائم کر رکھا ہے کہ انہوں نے ”فجیرہ“ کے علاوہ متحدہ عرب امارات کی ہر ”امارت“ میں اپنے لےے الگ گھر بنایا ہے، جس میں انہوں نے اپنی ایک ایک بیوی کو اس کے بچے کے ساتھ بساےا ہے۔ ابو الفیصل کا کہنا ہے کہ زیادہ شادیاں کرنے کا میرا مقصد بچوں کی سنچری مکمل کرنا ہے۔ اس لےے جیسے ہی کسی بیوی سے میرا ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اور میرا مطلوبہ مقصد پورا ہوتا ہے تو میں اسے ”ریٹائر“ کر دیتا ہوں اور اس کے لےے ایک الگ مکان بنا کر اسے اس کے بچے کے ساتھ اس میں بساتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے شروع سے ہی بچوں کے ساتھ ساتھ شادیوں کی سنچری مکمل کرنے کا عزم رکھا تھا، اس لےے ایک بیوی سے ایک بچہ ہونے کے بعد میں اسے ”ریٹائر“ کر دیتا ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں ابوالفیصل کا کہنا تھا کہ میری غذا کا زیادہ تر حصہ قدرتی شہد اور سبزیوں پر مشتمل ہے، تاہم مچھلی اور گوشت بھی میرے ہر کھانے میں شامل ہوتا ہے اور میں اپنے بچوں کو یہی غذا کھلاتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے سب بچوں کے نام تو اچھی طرح یاد نہیں ہیں، تاہم انہیں پہچانتا ہوں اور ان کی تمام ضروریات کا خیال رکھتا ہوں۔ میرے پاس مال ودولت کی کمی نہیں ہے، اس لےے مجھے بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

متعلقہ خبریں