ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

بلاگدنیا کا پُراسرار ترین قبرستان جہاں تدفین کے بعد میت غائب

دنیا کا پُراسرار ترین قبرستان جہاں تدفین کے بعد میت غائب

”بارباڈوس“ بحیرہ کیریبین کے شمال میں واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے، کہتے ہیں کہ یہ پورا جزیرہ پر اسراریت سے بھرا ہوا ہے، لیکن اس جزیرے کے وسط میں Chase Vault نامی ایک قدیم قبرستان ہے، جسے دنیا کا سب سے پُراسرار قبرستان قرار دیا جاتا ہے ۔

آزادی سے پہلے اس خوبصورت جزیرے پر برطانوی استعمار کا تسلط تھا، اسی دوران برطانوی حکام نے کلیسا سے متصل ایک وسیع کمپاﺅنڈ کو قبرستان کے لیے وقف کیا تھا، سب سے پہلے برطانوی شاہی خاندان کی خاتون کو اس قبرستان میں دفن کیا گیا، مگر دفن کے کچھ ہی دن بعد پر اسرار طور پر اس کا تابوت غائب ہو گیا ۔

اس وقت اسے ایک اتفاقی واقعہ قرار دے کر نظر انداز کر دیا گیا، لیکن بعد میں جتنے مردے اس قبرستان میں دفنائے گئے، ان سب کی لاشیں تابوت سمیت غائب ہونا شروع ہوئیں، حکام نے اسے چوروں کی کارستانی قرار دے کر قبرستان کے اردگرد اونچی دیوار کھڑی کر دی اور ایک آہنی دروازہ نصب کر کے اس میں تالا لگا دیا، اس کے باوجود بھی تابوتوں کے غائب ہونے کا سلسلہ ختم نہ ہو سکا۔

مذید پڑھیں : امریکی ارب پتی ایلون مسک کی نئی گرل فرینڈ کون ہیں؟

عجیب بات یہ ہے کہ دروازے پر لگا تالا بھی سلامت رہتا تھا، اس لیے چوری ہونے کا شبہ بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، جس کے بعد تابوت کو قبر میں اتارنے کے بعد ایک مضبوط آہنی زنجیروں سے باندھ کر کنکریٹ کے پلر کے ساتھ باندھ کر تالا لگانے کا سلسلہ شروع کیا گیا، مگر یہ تدبیر بھی کارگر ثابت نہ ہو سکی، راتوں رات کو کوئی پراسرار مخلوق آکر قبروں کو کھول کر تابوت غائب کرتی رہی۔جدید ٹیکنالوجی کے آنے کے بعد قبرستان کے چاروں اطراف خفیہ کیمرے نصب کئے گئے، مگر پراسرار مخلوق کیمرے کی آنکھ سے بھی نہیں دیکھی جاسکی، اب مجبور ہو کر اس قبرستان میں مردے دفنانا ہی بند کر دیا گیا ہے۔

بارباڈوس 24 کلو میٹر مربع احاطے پر پھیلے ہوئے ایک خوبصورت جزیرہ ہے، یہ جزیرہ بحیرہ کیریبین کے شمال میں واقع ہے، سب سے پہلے اسپین کے سیاحوں نے اسے دریافت کیا تھا، تاہم بعد میں برطانوی استعمار نے اس پر قبضہ کر لیا، چونکہ جزیرہ انتہائی خوبصورت اور صحت افزا تھا، اس لیے برطانیہ کے شاہی خاندان کے کچھ افراد نے یہاں مستقل سکونت اختیار کر لی اور انہوں نے جریزے میں قائم مسیحی کلیسا کے احاطے میں واقع ایک اراضی کو اپنے لیے قبرستان کے طور پر مختص کر دیا اور سب سے پہلے برطانیہ کے شاہی خاندان کے ایک امیر شخص ”جیمز ایلیٹ چیس“ کی اہلیہ کو اس قبرستان میں دفن کیا گیا، جس کے بعد جیمز ہی کے خاندان کے دو افراد کو تدفین کے لیے اسی قبرستان میں لایا گیا، مگر انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ جس خاتون کو پہلے اس قبرستان میں دفنایا گیا تھا، اس کی قبر کھلی پڑی ہے اور اندر سے تابوت غائب ہے۔ انہوں نے تابوت کو بہت ڈھونڈا، مگر کہیں اس کا سراغ نہیں ملا۔

مذید پڑھیں : سندھ ڈاکٹر اتحاد کا وزیر و سیکرٹری صحت کی اسپتالوں میں آمد پر پابندی کا اعلان

شاہی خاندان کے ان دونوں افراد کو بھی اسی قبرستان دفن کیا گیا، اس کے کچھ عرصے بعد جیمز کا انتقال ہوا، اس کا تابوت جب قبرستان لایا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ دونوں قبریں بھی کھلی پڑی ہیں اور اندر سے تابوت پھر غائب ہے۔ جیمز کا تابوت اس کی اہلیہ کی خالی قبر میں رکھا گیا اور اوپر سے کنکریٹ ڈال کر بند کر دیا گیا، اس وقت برطانوی حکام نے اسے چوروں کی کارستانی قرار دے دیا اور قبرستان کے اردگرد اونچی دیوار کھڑی کرکے ایک آہنی دروازہ نصب کیا گیا اور دروازے پر بڑا تالا لگایا گیا۔ مگر اس کے باوجود جو بھی میت دفن کر دی جاتی، اگلے روز اس کا تابوت غائب ہو جاتا۔

برطانوی حکام نے بے بس ہو کر اس پر اسرار امر کے حوالے سے مشورہ کیا تو یہ تجویز سامنے آئی کہ تدفین سے پہلے ہی قبر تیار کی جائے اور اسے اندر سے سریا اور کنکریٹ ڈال کر مضبوط کیا جائے اور قبر کے چاروں کونوں پر چار مضبوط پلر کھڑے کر دیئے جائیں اور ان میں مضبوط آہنی زنجیریں ڈال کر تابوت کو ان کے ساتھ باندھ کر تالا لگا دیا جائے۔ چنانچہ اس مشورے پر عمل کیا گیا، جس کے بعد ایک اور میت کو اسی طریقے سے بنی ہوئی قبر میں اتارا گیا، مگر اگلی صبح آکر لوگوں نے دیکھا تو زنجیریں بکھری اور قبر کھلی پڑی ہے، اندر سے تابوت پھر غائب ہے۔ مگر اس پراسرار امر کی حقیقت کا ادراک نہ ہوسکا، جس کے بعد برطانوی حکام نے اس قبرستان میں میت دفنانا ہی چھوڑ دی۔

برطانوی استعمار سے آزادی کے بعد اس پراسرار قبرستان کو ایک بار پھر میت دفنانے کے کام میں لانے کا فیصلہ کیا گیا، کیونکہ یہ جزیرہ بہت چھوٹا ہے اور ایک مستقل ریاست ہونے کے ناتے یہاں زمین کی بہت تنگی ہے، اس لیے حکام اس وسیع قبرستان کی اراضی کو استعمال میں لانے پر مجبور ہوئے، اس بار انہوں نے قبرستان کے چاروں اطراف خفیہ کیمرے نصب کردیئے اور بڑی بڑی لائٹیں لگا دیں تاکہ کیمرہ صحیح طرح کام کرسکے۔ ان کیمروں کی مانیٹرنگ کے لیے باقاعدہ ایک دفتر قائم کیا گیا، اس کے بعد یہاں ایک شخص کی تدفین کی گئی، مگر ہوا وہی جس کا ڈر تھا، صبح قبر سے تابوت غائب تھا، کیمرے کی ویڈیو کو دیکھا گیا، مگر کوئی مخلوق تو نظر نہ آئی، تاہم قبر کو کھلتے اور تابوت کو قبر سے نکلتے دیکھا گیا، جس کے بعد حکام اپنا یہ فیصلہ واپس لینے پر مجبور ہوئے اور اس پراسرار قبرستان کا وسیع احاطہ اب بھی بے کار پڑا ہوا ہے۔

مذید پڑھیں :ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق

جزیرہ بارباڈوس کے اس قبرستان کو دنیا کا سب سے پراسرار قبرستان قرار دیا گیا ہے۔ اس کی کہانی پر ”ہالی ووڈ“ میں ایک ہارر فلم بھی بن رہی ہے۔ سائنس کی حیرت انگیز ترقی کے باوجود یہاں سے تابوتوں کے غائب ہونے کا معمہ حل نہ ہو سکا ہے اور پورے جزیرے میں چھان مارنے کے باوجود نہ تابوت کا کوئی حصہ ملتا ہے اور نہ ہی میت کے اعضاء میں سے کوئی حصہ برآمد ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں