اتوار, نومبر 27, 2022
اتوار, نومبر 27, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

بلاگہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق

ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

قافلہ حق کے عظیم سپہ سالار، علمائے حق کے سرِ خیل، مجاہدین اسلام کے شیخ اور استاد اور ملت اسلامیہ پاکستان کے اہل دین کے عظیم صاحب بصیرت قائد حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ ہماری قومی اور دینی تاریخ کا ایک تابناک باب کا جلی عنوان ہیں۔

ہر سال نومبر کے سرِ آغاز پر حضرت شہید کی یاد اب زندگی کا ایک خاص حصہ بن کر رہ گئی ہے۔ نومبر بعض تہذیبوں میں نئے سال کا پہلا مہینہ بھی رہا ہے، تاہم ہمارے لیے اب یہ حضرت شہید کی یاد کا ایک وسیلہ بن چکا ہے۔ نومبر شروع ہوتے ہی حضرت کی یاد ستاتی ہے اور دل میں عجیب سے والہانہ جذبات امڈ آتے ہیں۔ ایک ضعیف العمر قائد اسلام کا بوڑھا جرنیل اسی مہینے کی دہلیز پر ہی بزدل، خبیث الفطرت اور ناہنجار دشمن کے ہاتھوں نہایت بزدلانہ حملے کا شکار ہوکر ہمارے درمیان سے اٹھ گئے تھے۔

یہ سوچتے ہی دل دہل اٹھتا ہے کہ کیسے ظالموں نے اس عظیم بزرگ پر ہاتھ اٹھانے اور آپ کو جان سے مارنے کی جرات کی ہوگی۔ یقینا حضرت شہید پر تکلیف اور اذیت کا یہ دورانیہ چند لمحاتی رہا ہوگا اور وہ بھی حدیث شریف کے مطابق اس قدر جتنی چیونٹی کے ننھے منے سے ڈنک کے بقدر، بس اس لمحاتی اذیت کے بعد ہمیں رب ذو الجلال کی رحمت سے کامل یقین ہے کہ حضرت شہید کو ابدی راحتیں اور سکون مہیا کیا ہوگا۔

مزید پڑھیں:DIG ٹریفک پولیس احمد نواز کے اقدامات سے ٹریفک مسائل میں کمی

حضرت شہید کی ساری زندگی ایک ہمہ گیر جدوجہد کا مرکزِ دائرہ تھی۔ آپ کی جدوجہد کا کوئی ایک میدان کہاں تھا۔ درس و تدریس سے شروع ہوجائیے، سیاست، تصنیف، تالیف، حدیث، تفسیر، فقہ تک کتنے ہی گوشے ہیں، جن میں ان کا اشہب عمل داخل ہوا اور جہاں بھی داخل ہوا ایسا محسوس ہوا کہ حضرت مولانا سمیع الحق تو بس اسی شعبے کے مرد میدان ہیں۔

حضرت مولانا سمیع الحق شہید اپنے عظیم والد شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق علیہ الرحمہ کے فرزند و جانشین ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی کمال کی بات یہ ہے کہ ان کی علمی، سیاسی و تحریکی جدوجہد کے رفیق کار بھی رہے ہیں۔ ستر کی دہائی سے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی جو ملی اور سیاسی جدوجہد شروع ہوئی، اس کی تاریخ اٹھا کر دیکھئے۔

حضرت مولانا سمیع الحق زندگی کی تب و تاب سے بھرپور ایک جوان رعنا کی صورت میں ہر گام اور ہر مرحلے پر اپنے والد بزرگوار کے ساتھ، کہیں ان کی نیابت اور کہیں ان کی معاونت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے تہتر کے آئین کے بانیوں میں سے ہیں، اس دوران حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے ساتھ مولانا سمیع الحق شہید کی دوڑ دھوپ، تحقیقی اور تحریری خدمات،لابنگ سمیت مختلف خدمات کو کون بھول سکتا ہے۔

یقینا آپ کے ساتھ نے حضرت شیخ الحدیث رحمت اللہ علیہ کیلئے بڑی آسانیاں پیدا کیں۔ دستور پاکستان کی تشکیل کے اگلے ہی سال چوہتر میں ایک بہت بڑی اور تاریخی ترمیم قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی آئی۔ اس سے پہلے ایک لمبی تحریک چلی، اس سب میں حضرت مولانا سمیع الحق اپنے والد گرامی کے شانہ بشانہ علمی، ملی اور تحریکی جدو جہد میں پیش پیش دکھائی دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں:کراچی: PPPSF کے نائب صدر کی مرتضی وہاب سے ملاقات

بالخصوص اسمبلمی میں پیش کی جانے والی وہ متفقہ دستاویز جسے "ملت اسلامیہ کا موقف” کا عنوان دیا گیا اور جس کی بنیاد پر قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا، اس کی تیاری بھی میرے عظیم استاد گرامی حضرت شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کے ساتھ حضرت قائد محترم مولانا سمیع الحق شہید کا بھی برابر کا تحریری اور تحقیقی کردار شامل تھا۔

اس کے علاوہ حضرت شہید کے نمایاں کارناموں میں شریعت بل، نفاذ شریعت کیلئے نصف صدی سے زائد کی تحریکی، سیاسی اور قلمی جدوجہد، جہاد افغانستان اور افغان عوام کی آزادی اور حریت کا آخری سانس تک حمایت و دفاع شامل ہیں۔ اور یہ سب ایک مستقل کتاب کا عنوان ہیں۔

اللہ رب العزت کا بڑا عجیب نظام ہے، وہ اپنے جس بندے کی خدمات، خلوص عمل اور کردار سے خوش اور راضی ہوکر قبولیت عطا فرما دیتا ہے، اس کیلئے حیات جاودانی لکھ دیتا ہے، چنانچہ وہ بندہ اپنی زندگی جی کر گزر بھی جاتا ہے تو اس کے کردار کے نقوش نہیں مٹتے، نہیں مرتے، بلکہ ایک کے بعد ایک نئے روپ میں سفر کرتے ہیں۔ اسی کی طرف فارسی شاعر نے اشارہ کیا ہے کہ

ہرگز نہ میرد آنکہ دلش زندہ شد بہ عشق
ثبت است بر جریدہ عالم دوامِ ما

یہی دیکھئے کہ حضرت شیخ الحدیث مولانا عبد الحق رحمہ اللہ کیسی عظیم اور اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ شخصیت تھے۔ ایک دور افتادہ مقام پر انہوں نے اللہ کا نام لیکر اللہ کا نام بلند کرنے کیلئے ایک مرکز کی بنیاد رکھی۔

مزید پڑھیں:معاشرے کا اخلاقی بگاڑ

آپ اتنے بڑے پائے کے عالم دین تھے کہ چاہتے تو اپنی مادر علمی دار العلوم دیوبند میں ہی رہ جاتے اور بڑی مسند کے حقدار ٹھہرتے، مگر اللہ نے آپ سے بہت بڑا کام لینا تھا، چنانچہ آپ نے اکوڑہ خٹک کے مقام پر جس مرکز علم کی بنیاد رکھی، وہ نہ صرف پاکستان، بلکہ افغانستان سمیت پورے وسطی ایشیا میں نور علم کے پھیلانے کا ذریعہ بنا۔

حضرت شیخ الحدیث کے بعد حضرت مولانا سمیع الحق شہید کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندے مولانا شیخ الحدیث عبد الحق کے علوم و کردار کو زندہ رکھا اور آپ نے طویل عرصے تک اپنے والد گرامی کا تھمایا ہوا عَلَمِ عِلم و عمل تھاما اور تھامے ہی چلے گئے۔

یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ اپنے پسندیدہ بندوں کے علم، کردار اور عمل کو ضائع نہیں ہونے دیتے، چنانچہ جب دشمنان اسلام نے حضرت شیخ الحدیث کے سچے علمی، روحانی، صلبی جانشین مولانا سمیع الحق کو شہید کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت شیخ الحدیث کے کردار کے نقوش حضرت مولانا سمیع الحق شہید کے فرزند ارجمند اور حضرت شیخ الحدیث کے پوتے برادرم حضرت مولانا راشد الحق سمیع کے پیکر میں ظاہر فرمادیے۔ ماشاء اللہ حضرت مولانا راشد الحق سمیع اپنے عظیم والد اور جد بزرگوار کے علوم و کردار کے جامع ہیں اور اس شعر کے حیقیق مصداق ہیں کہ

آن عزم بلند آور، آن سوز جگر آور
شمشیر پدر خواہی بازوئے پدر آور

کہ باپ کی جانشینی چاہئے تو پہلے باپ جیسی صفات پیدا کرنی ہوں گی۔ ماشاء اللہ اور الحمد للہ براردم راشد الحق کردار، علم، تقوی، دیانت، شرافت، اور اخلاق ومروت اور بصیرت و فراست میں اپنے اجداد کے کردار کا خوبصورت نقش ہیں۔

مزید پڑھیں:دنیا کی 500 بااثر شخصیات میں مفتی تقی عثمانی، آرمی چیف اور عمران خان بھی شامل

یقینا مولانا راشد الحق سمیع جیسے صآحب علم و قلم شخصیت کا مولانا سمیع الحق کا علمی جانشین ہونا ہمارے لیے اطمینان کا سبب ہے، ہم اعتماد اور اطمینان کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت شیخ الحدیث اور حضرت شہید اسلام کا کردار ابھی زندہ ہے اور کردار کی یہ زندگی دشمن اسلام کیلئے موت کا پیغام ہے۔

برادرم راشد الحق سمیع کو اپنے اجداد کے گلشن دار العلوم حقانیہ سے کس قدر الفت، انسیت، محبت، عقیدت اور مخلصانہ ارتباط ہے، اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے جہاں علم اور ادب کے میدان میں اپنے آباء کی میراث و مسند بڑی مہارت اور اخلاص سے سنبھالی ہوئی ہے، وہاں ان کی عظمتوں کی نشانی اس گلشن کی آبیاری کو بھی ایک مالی اور معمار کی حیثیت سے اپنی زندگی کا ایک بڑا مقصد بنالیا ہے۔

چنانچہ وہ جذبہ کوہ کن کے ساتھ مسلسل کار فرہادی میں مصروف ہیں اور اپنے اس لا فانی جذبے کی طاقت سے انہوں نے تعمیرات کے میدان میں دار العلوم حقانیہ کو ایک نئے رنگ سے مزین کردیا ہے اور گلشن حقانیہ کی مانگ میں اپنے خون جگر سے وہ سیندور بھرنے میں شب و روز ایک کیے ہوئے ہیں کہ مستقبل کا مورخ انہیں دار العلوم حقانیہ کا معمار ثانی قرار دیے بنا نہیں رہ سکے گا۔ اس وقت دار العلوم حقانیہ کی بڑی پیمانے پر ری نیویشن کا مشکل تر کام جاری ہے اور یہ مشکل محاذ برادرم راشد الحق سمیع تن تنہا نہایت خوش اسلوبی سے بہ طریق کمال سنبھالے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قدم قدم پر ان کا حامی و ناصر ہو۔

مجھے پوری امید ہے کہ برادرم مولانا راشد الحق سمیع ان شاء اللہ ان تمام راہوں میں ملت کی رہنمائی کرتے ہوئے جائیں گے جہاں سے پہلے حضرت شیخ الحدیث رہنمائی کرتے ہوئے گزرے اور آپ کے بعد حضرت مولانا سمیع الحق نے یہ علم اٹھایا۔ اللہ تعالیٰ حضرت شیخ الحدیث کے علوم و معارف اور عمل و کردار کو یوں ہی زندہ و تابندہ رکھے اور ان کے گلشن کو دائم مہکتا رکھے، آمین۔

متعلقہ خبریں