ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

بلاگگورنر سندھ کامران ٹیسوری کراچی کو بدلنے میں کامیاب ہو جائیں گے...

گورنر سندھ کامران ٹیسوری کراچی کو بدلنے میں کامیاب ہو جائیں گے ؟

کراچی (تحریر : آغاخالد) کامران ٹیسوری کی بطور گورنر تقرری کا مذاق اڑانے والے شہری سندھ یا کراچی دوست ہونے کا دعوی نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ایک رواج بن چکا ہے کہ شہری سندھ سے جب بھی کسی شخص کو کوئی بھی پر وقار عہدہ تفویض کیا جاتا ہے تو اسے فورا تنقید و تنقیص کے نشانہ پر رکھ لیا جاتا ہے اور ایسا کوئی غیر نہیں اپنے ہی بے شرمی کی نئی تاریخ مرتب و مدون کرتے ہوے انجام دیتے ہیں ۔

سابقہ گورنرز ہی کو لے لیں، ڈاکٹر عشرت العباد کی پرویز مشرف نے تقرری کی تو ہاہاکار مچادی گئی کہ ان پر 13/14 مقدمات ہیں ایسے شخص کو سندھ کا گورنر لگادیا گیاپروپگنڈہ کا شور ایسا کہ پرویز مشرف جیسے طاقت ور ڈکٹیٹر کو بھی متفکر ہونا پڑا کہ مبادا کہیں واقعی کسی جرائم پیشہ کو تو نہیں گورنر لگا دیا ۔

انہوں نے افواہ سازی کے اس کارخانہ کی مرمت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مینے الزامات کی بھر مار سے پریشاں ہو کر اس وقت کےکور کمانڈر جنرل عثمانی سے رپورٹ طلب کی اور ان سے کہا کہ وہ باریک بینی سے ان الزامات کی جانچ کریں ان کی مثبت رپورٹ کے بعد بھی پروپگنڈہ نہ رکا بلکہ یہاں تک الزامات میں اضافہ کردیا گیا کہ میجر کلیم کیس میں بھی عشرت بھائی کاہاتھ ہے (جبکہ ان دنوں سوشل میڈیاتھا نہ چینلز کی بھرمار) تب بھی انہوں نے اس پروپگنڈہ سے گھبراکر متبادل تحقیق کی خاطر آئی ایس آئی سے ایک سینیر آفیسر کو کراچی بھیجا مگر اس کی رپورٹ سے بھی وہی نتائج برآمد ہوئے، نہ صرف نامزد گورنر پر لگائے گئے تمام الزامات سو فیصد غلط تھے بلکہ ثابت ہوا کہ میجر کلیم کیس کے وقت تو وہ ملک میں بھی نہ تھے ۔

اسی طرح عظیم انسان دوست شخصیت سراپا ولی حکیم سعید کی تقرری محترمہ بے نظیر بھٹو نے کی تو ان پر بھی تنقید کے تیر برسا دیئے گئے کہ ایک نباض کو صوبہ کے مسائل کی کیا خبر مطب چلانے والا حکیم صوبہ کیسے چلائے گا وغیرہ وغیرہ فخرالدین جی ابراہیم کے لئے کہا گیا کہ اسے گورنری بھیک میں ملی ہے کیونکہ اس نے جج کی حیثیت سے نواز شریف کے حق میں فیصلے دیئے تھے سراپا پیکر شرافت اور وضع دار ممنون حسین کو دہی بڑے بیچنے والے کے حوالے سے طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا گیا ۔

گورنر کا تاج اپنے سرپر سجانے والی آخری شخصیت عمران اسماعیل کو میٹرک پاس کے طعنی دیے گئے ۔ یہ سب اردو بولنے والوں میں جہلا کے ایک مضبوط طبقے کا طریقہ واردات ہے انہیں سچ جہوٹ کی تمیز سے سروکار نہیں بس جہالت کا سور پھونک نے کی (جسے وہ بزعم خود ذہانت سمجھتے ہیں) ترنگ میں تمام حدیں پھلانگ جاتے ہیں ۔

جبکہ صوبہ کے نئے نامزد گورنر کامران ٹیسوری سے پچھلے دنوں گورنر ہائوس میں ملنا ہوا تو ان سے غیر رسمی بات چیت میں یہ اطمنان ہوا کہ مخالفین کی بدترین بہتان طرازی کے باوجود وہ سندھ کے عموماً اور کراچی کے خصوصاً الجھے ہوے مسائل کے حل کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں وہ اپنے خلاف کیے گئے پروپگنڈہ اورتوہین آمیز القابات پر رنجیدہ تو تھے ہی مگر وہ اختیارات کی نمائشی تقسیم وبار تقسیم کےباجود پر عزم نظر آئے کہ کراچی کو ایک بار پھر وہ روشنیوں، رونقوں، رعنائیوں اور تابانیوں کا پر امن شہر بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکہیں گے ان سے بات چیت کی تفصیلی خبر پھر سہی فی الحال اتنا ہی کہ گورنر ہائوس سے اس اطمنان کے ساتھ نکلے کہ کراچی محفوظ ہاتھوں میں ہے اب آتے ہیں ۔

اصل موضوع کی طرف اور سلسلہ وہیں سے جوڑتے ہیں جہاں ٹوٹا تھا، جب کہ دوسری طرف وڈیرہ شاہی کے آئڈیل، کتے لڑانے اور پالنے کے حوالے سے شہرت کے حامل ممتاز بھٹو گورنر بنے تو سب کو سانپ سونگھ گیا اور کوئی آواز نہ اٹھی جبکہ قبل ازیں ان کے وزیر اعلی کی حیثیت سے اٹھائے گئے اقدامات کے نتیجہ میں صوبہ میں پہلی بار بدترین لسانی فسادات پھوٹ پڑے تھے اور صوبہ کی دو اکائیوں کے درمیان خونریزی ہوئی تھی اسی طرح بظاہر ایک شریف سیاستداں کی حیثیت سے شہرت پانے والے میر رسول بخش تالپور کے شب ہجر کےشوق بھی نرالے تھے ۔ پرویز مشرف کے ہی پسندیدہ وزیر اعلی علی محمد مہر وزیر اعلی ہائوس میں ساڑھی پہن کر سمیع کھدڑے کے ساتھ رات بھر ناچ گانا اور جانے کیا کیا افعالِ بد انجام دیا کرتے تھے ۔

پس ثابت ہوا کہ افعال کے نیک و بد سے سروکار نہیں اصل مسلہ اپنی قوم کی معزز شخصیات کے منہ پر کالک ملنا ہے اور اس عمل میں ہمارے یہ بھائی لوگ کمال رکھتے ہیں ہم ایسا کرتے وقت کاتبِ تقدیر کے ان آفاقی اصولوں کوفراموش کربیٹھتے ہیں کہ قدرت بھی زندہ قوموں کی قسمت میں یاوری لکھتی ہے جنہیں اپنے اچھے برے کی تمیز نہ رہے وہ پھر فوڈ پانڈا کی ڈلیوری تک محدود ہو جاتے ہیں اے سجنو اے کراچی کے نوجوانو عقل کےناخن لو اور حالات کی سنگینی کو سمجھو؟۔

متعلقہ خبریں