اتوار, نومبر 27, 2022
اتوار, نومبر 27, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

تازہ ترینڈاؤ قلیل مدت میں 500 کامیاب ٹرانسپلانٹ کرنے والا صوبے کا دوسرا...

ڈاؤ قلیل مدت میں 500 کامیاب ٹرانسپلانٹ کرنے والا صوبے کا دوسرا بڑا مرکز ہے : سعید قریشی

کراچی :‌فرانس سے آئے کڈنی ٹرانسپلانٹ فزیشن پروفیسر لائیونل راسٹینگ نے کہا ہے کہ گردے کی ناممکن یا مشکل سمجھی جانے والی پیوندکاری دور جدید میں نہ صرف ممکن ہوگئی ہے بلکہ کامیابی سے یہ ٹرانسپلانٹ پایہ تکمیل کو پہنچ رہے ہیں ۔ خواہش ہے کہ پاکستان میں بھی فرانس کی طرح تیزی سے ٹرانسپلانٹ انجام دیے جائیں ۔ دونوں کی رفتار ساتھ ساتھ ہو جائے کیونکہ یہاں بہت سے ایسے بہت سے مریض ٹرانسپلانٹ کے منتظر ہیں جنہیں ٹرانسپلانٹ سے نئی زندگی مل سکتی ہے ۔

یہ باتیں انہوں نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے رینل ٹرانسپلانٹ یونٹ کے زیراہتمام گردے کے پانچ سو ٹرانسپلانٹ مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں پہلے بین الاقوامی کڈنی ٹرانسپلانٹ سمپوزیم سے بہ طور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے اس موقع پر مہمان اعزازی ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی کے علاوہ رینل ٹرانسپلانٹ یونٹ کے سربراہ پروفیسر راشد بن حامد نے بھی خطاب کیا ۔

پروفیسر لائیونل راسٹینگ نے کہا کہ امیونو سپریسو دواؤں سے ٹرانسپلانٹ کے بعد پیوندکاری گردے کوجسم کے لیے قابل قبول بنایا جا سکتا ہے یا اسے مسترد ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دواؤں کے استعمال سے ناموزوں پیوند کو موزوں بھی بنایا جا سکتا ہے اور ایسی پیوندکاری جو بلڈگروپ کے میچ نہ ہونے کی وجہ سے ممکن ہو پا رہی ہو اسے بھی ممکن بنا کر ٹرانسپلانٹ کی تعداد بڑھائی جا سکتی ہے ۔

مزید پڑھیں : چینل فائیو کی رپورٹر حقیقی آزادی مارچ میں حادثہ کا شکار ہو گئیں

پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی میں گردے کی پیوندکاری کےلیے آنے والوں میں ایسے افراد کی تعداد زیادہ ہے جو مختلف جگہوں سے مسترد کیے جاتے ہیں اتنے کم عرصے میں پانچ سو ٹرانسپلانٹ کا ہدف اس لیے بھی جلدی حاصل کیا ہے ، صرف دواؤں اور ہونے والے اخراجات کے پیسے لیے جاتے ہیں ، منافع کے نام پر ایک پیسہ نہیں لیا جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ پانچ سال کے قلیل عرصے میں گردے کی پیوند کاری کا صوبے کا دوسرا مرکز ڈاؤ کا رینل ٹرانسپلانٹ یونٹ بن چکا ہے ۔ پروفیسر سعید قریشی نے کہا کہ بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کو کنٹرول رکھاجائے توہم گردے کے پیچیدہ امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔

رینل ٹرانسپلانٹ یونٹ کے سربراہ راشد بن حامد نے سمپوزیم سے خطاب اور میڈیا سے بات کر تے ہوئے کہا کہ اس سمپوزیم کا بنیادی مقصد ہے کہ عام ڈاکٹرز اور گردے کے مرض میں مبتلا افراد کو بتایا جائے گردے کےامراض کا بہترین علاج کیا ہے اور کہاں کہاں کیا کیا سہولتیں دستیاب ہیں ، گردے کے پیچیدہ امراض کا بہترین علاج پیوندکا ری ہی ہے جو ڈاؤ یونیورسٹی میں کم سے کم اخراجات میں دستیاب ہے ۔ اس سمپوزیم میں پاکستان کے تقریبا تمام ہی نیفرولاجسٹ یورولاجسٹ اور ٹرانسپلانٹ سرجن کو مدعو کرنے کا مقصد یہی ہے کہ سب اپنے اپنےتجربات سے آگاہ کریں ۔

مزید پڑھیں : ہیلتھ رسک الاؤنس کو سندھ کابینہ کے ایجنڈے میں شامل کر لیا گیا

ڈاؤ یونیورسٹی کے رینل ٹرانسپلانٹ کے پروفیسر تصدق خان نے کہاکہ صوبہ سندھ میں گردے کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے چونکہ چھوٹے شہروں میں ڈایا لائسس سنیٹر موجو د نہیں ہیں ، اس لیے بہتر طریقہ یہی ہے کہ گردے کی پیوند کاری کی استعداد بڑھائی جائے اور ہر چھوٹے بڑے شہر میں ڈایالائسس سینٹر قائم کیے جائیں ۔

سمپوزیم کے مختلف سیشنز سے دیگر مقررین پروفیسر فضل اختر (ایس آئی یو ٹی) ،پروفیسر عاصم احمد (کڈنی سینٹر)، ڈاکٹر عامر قاضی (انڈس اسپتال)، پروفیسر کنور نوید، پروفیسر سنبل ناصر ،ڈاکٹر صباحت سرفراز(ڈاؤ یونیورسٹی) ، پروفیسر سلمان امتیاز ( انڈس اسپتال)، ڈاکٹر سنیل (ایس آئی یو ٹی)، ڈاکٹر عائشہ حسن میمن( آغا خان اسپتال)، پروفیسر عبدالمنان جونیجو، پروفیسر عبدالکریم زرغون، ڈاکٹر سونیا یعقوب، پروفیسر روبینہ نقوی ( ایس آئی یو ٹی) ، ڈاکٹر محمد تصدق خان (ڈاؤ یونیورسٹی)،پروفیسر وقار الدین کاشف (ساؤتھ سٹی اسپتال) ، ڈاکٹر فیصل محمود (آغا خان اسپتال)، ڈاکٹر ماہ نور اعظم(ڈاؤ یونیورسٹی)، پروفیسر سلمان امتیاز، پروفیسر پورن کمار کوہستانی، ڈاکٹر بلال جمیل ، ڈاکٹر منصور شاہ (آغا خان اسپتال)، ڈاکٹر رقیہ (کڈنی سینٹر)، ڈاکٹر شہنیلا(پٹیل اسپتال) خطاب کیا جبکہ دوسرے سیشن کی مہمان خصوصی ڈاو یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر پروفیسر نصرت شاہ تھیں ۔

اختر شیخ
اختر شیخhttps://alert.com.pk
اختر شیخ (چیف رپورٹر کراچی) جن کی صحافتی جدوجہد 3 دہائیوں پر مشتمل ہے، آپ الرٹ نیوز سے منسلک ہونے سے قبل آغاز نیوز ٹائم، روزنامہ مشرق، روزنامہ بشارت اور نیوز ایجنسی این این آئی کے ساتھ مختلف عہدوں پر کام کیا ہے۔ اختر شیخ کراچی پریس کلب کے ممبر ہیں اور کے یو جے (برنا) کی بی ڈی ایم کے ممبر بھی ہی۔
متعلقہ خبریں