واٹربورڈ‌ سے MQM کا خاتمہ کرنے کیلئے اتھارٹی بنانے کا فیصلہ

کراچی : ایم کیو ایم متعدد حصوں میں‌ منقسم ہو گئی تاہم اس کے باوجود بلدیاتی اداروں جن میں کے ایم سی ، ڈی ایم سی ، واٹر بورڈ‌ سمیت دیگرادارے شامل ہیں ان میں کسی نہ کسی طرح بھر پور پاور رکھتی ہے. ایم کیو ایم کے یہ دھڑے کبھی بھی ایک ہونے کی صورت میں پاکستان پیپلز پارٹی یا نئی ابھرتی ہوئی سیاسی قوت تحریک انصاف کو ان اداروں‌ میں‌ ٹف ٹائم دے سکتی ہے، ان ہی خدشات کے پیش نظر جس سے نمٹنے کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی نے KBCA کو SBCA کرنے کے بعد اب کے ڈبلیو اینڈ ایس بی کو بھی SWSRA بنانے کا فیصلہ کرلیا.

حکومت سندھ نے کراچی سمیت پورے صوبے میں فراہمی و نکاسی آب کا نظام اپنے کنٹرول میں کرنے کے نام پر واٹر ایکٹ 2020ء متعارف کرانے کی پلاننگ بنائی ہے ، جس کا مجوزہ نام سندھ واٹرسروسز ریگولیٹری اتھارٹی ( SWSRA) اور سندھ واٹر ریسورسز کمیشن ( SWRC) رکھنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

مذید پڑھیں : اردو بولنے والے اقلیت میں‌ ہونے والے ہیں

اس فیصلے کی منظوری 3 مارچ بروز منگل کو سندھ کابینہ کے ہونے والے اجلاس میں لی جانی تھی جو نہیں لی جاسکی ہے .خیال رہے کہ فراہمی ونکاسی آب کے حوالے سے سندھ میں سب سے بڑا وسائل سے بھرپور ادارہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ہے ، جس کی سالانہ آمدنی کم وبیش 9 ارب روپے ہے۔ مگر مجوزہ قانون اور اس کے تحت قائم کیے جانے والے واٹر کمیشن اور واٹر اتھارٹی کا مسودہ کے ڈبلیو اینڈ ایس بی کے ذکر سے پاک ہے۔

خدشہ ہے کہ صوبائی حکومت کراچی کے دیگر اداروں کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اب کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ذریعے وصول کیے جانے والے اربوں روپے اور ادارے کی کھربوں روپے مالیت کی جائداد کو اپنے کنٹرول میں کرنا چاہتی ہے۔خیال رہے کہ 18 فروری کو صوبائی حکومت نے کراچی کے وسائل کو کنٹرول کرنے کے لیے کراچی ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ ختم کر کے سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی ( ایس ایم اے ) قائم کر چکی ہے۔

مذید پڑھیں‌ : کراچی کیخلاف سندھ حکومت کی ایک اور سازش پکڑی گئی

مجوزہ واٹر ایکٹ 2020 کے حوالے سے الرٹ نیوز کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق مذکورہ ایکٹ کے تحت سندھ واٹر سروسز ریگولیٹری اتھارٹی ( ایس ڈبلیو ایس آر اے ) اور سندھ واٹر ریسورسز کمیشن (ایس ڈبلیو آر سی) بنایا جا رہا ہے ، مذکورہ دونوں اداروں کی تشکیل کے لیے حکومت اس قدر تیزی دکھا رہی ہے کہ جس قانون کے تحت مذکورہ واٹر اتھارٹی اور واٹر کمیشن قائم کیا جا رہا ہے وہ قانون تاحال سندھ اسمبلی میں پیش کیا گیا اور نہ ہی اسمبلی سے اس کی منظوری لی گئی ہے۔

تاہم سندھ کابینہ سے اس قانون کے ڈرافٹ کو اسمبلی میں بل کی شکل میں پیش کرنے کی منظوری لی جائے گی۔ نمائندہ الرٹ کو ملنے والی موجود بل کی تفصیلات کے مطابق ( ایس ڈبلیو ایس آر اے ) کے چیئرمین چیف سیکرٹری سندھ ہوں گے ، جبکہ سیکرٹری فنانس، سیکرٹری ایری گیشن، سیکرٹری انوائرمنٹ، سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، سیکرٹری ایگریکلچر، سیکرٹری انڈسٹریز، سیکرٹری بلدیات، سیکرٹری فاریسٹ اینڈ وائلڈ لائف اور سیکرٹری ہیلتھ رکن ہونگے۔ ان اراکین کے ساتھ 2 ماہر آب، ایک ماہر ماحولیات، اور ایک ماہر پبلک ہیلتھ بحیثیت ڈائریکٹر جنرل برائے اتھارٹی ہوگا۔

مذید پڑھیں : صحافی جناح اسپتال کی خبریں کیوں شائع و نشر نہیں‌ کرتے ؟

جب کہ ایس ڈبلیو آر سی کے چیئرمین وزیر اعلیٰ سندھ ہونگے جبکہ اس کمیشن کے وائس چیئرمین چیف سیکرٹری اور اراکین میں وزیر خزانہ ، وزیر زراعت، وزیر ماحولیات، وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، وزیرآبپاشی، وزیر صنعت، وزیر بلدیات، وزیر جنگلات، وزیر صحت اور چیئرمین پلاننگ وڈیولپمنٹ بورڈ کے علاوہ ایک ماہر نکاسی آب اور ایک بحیثیت کمیشن کے ڈی جی وسیکرٹری رکن ہونگے۔

واضح رہے کہ واٹر ایکٹ کے تحت مجوزہ کمیشن اور اتھارٹی کی دستاویز میں کہیں پر بھی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا ذکر نہیں ہے۔ اس بات کا خدشہ ہے کہ حکومت خود مختار اور1957ء میں قائم ہونے والے اس اہم ترین ادارے کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے اور اس کے تقریباً 13 ہزار ملازمین کو سندھ واٹر سروسز ریگولیٹری اتھارٹی (ایس ڈبلیو ایس آر اے ) میں شامل کر دے گی یا اس کی خود مختاری ختم کرکے مذکورہ اتھارٹی کے ماتحت کردے گی۔

مزید پڑھیں : میئر کراچی نے KMDC کو یونیورسٹی بنانے کے بہانے تباہی کے دہانے پہنچا دیا

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مجوزہ اتھارٹی کے دائرہ کار میں پانی فراہم کرنے اور نکاسی آب سے متعلق تجربہ کار اداروں کی خدمات حاصل کرنے کا بھی ذکر ہے‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ واٹر اینڈ سیوریج سسٹم کو مختلف نجی اداروں کے حوالے کر دیا جائے گا۔ واٹر ایکٹ 2020ء کی صوبائی کابینہ سے منظوری کے لیے منگل کو ہونے والے اجلاس میں ایجنڈا نمبر 4 پر رکھا گیا ہے۔

ادھر ایم کیو ایم کے ہاتھ سے عملی طور پر کراچی لینے کے لئے KBCA کا نام بھی بدل کر SBCA اسی وجہ سے کیا گیا تھا جس کے بعد اب KW&SB کو بھی اسی لئے تبدیل کرکے SWSRA رکھا جائے گا .جس کے لئے ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں میں تشویش کی لہڑ دوڑ گئی ہے تاہم کوئی بھی موثر احتجاج نہیں کر سکتے کیوں کہ وہ خود تقسیم ہو چکے ہیں .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *