اتوار, نومبر 27, 2022
اتوار, نومبر 27, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

پاکستانکراچی : EOBI کے ڈپٹی DG ایوب خان کیخلاف ایک اور...

کراچی : EOBI کے ڈپٹی DG ایوب خان کیخلاف ایک اور انکوائری شروع

کراچی : ای او بی آئی کی چیئر پرسن ناہید شاہ درانی نے 18 اکتوبر کو EOBI پنشن فنڈ میں کروڑوں روپے کے کرپشن کیس میں شامل اور FIA کراچی اور اسلام آباد میں ایف آئی آر میں نامزد اعلیٰ افسر محمد ایوب خان ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایڈجوڈیکینگ اتھارٹی، عوامی مرکز کراچی کے خلاف حکومت پاکستان کے ایک اعلیٰ افسر حماد شمیمی، سینئر جوائنٹ سیکریٹری کیبنٹ ڈویژن اسلام آباد کو انکوائری افسر مقرر کیا ہے ۔ جو اس اہم اسکینڈلز کی تحقیقات کے بعد 14 دن میں اپنی رپورٹ پیش کریں گے ۔

تفصیلات کے مطابق محمد ایوب خان اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان (SLIC) کراچی کے سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر 6 نومبر 2007ء کو ای او بی آئی جیسے قومی فلاحی ادارہ میں ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس بھرتی ہوئے ۔ محمد ایوب خان نے 8 نومبر 2007ء کو اسٹیٹ لائف سے استعفیٰ دیا تھا اس طرح محمد ایوب خان نے ماہ نومبر 2007ء کی تنخواہ بیک وقت اسٹیٹ لائف اور ای او بی آئی سے حاصل کی تھی ۔

محمد ایوب خان نے 2010ء کے دوران ڈائریکٹر انوسٹمنٹ کی حیثیت سے اس وقت کے انتہائی بدعنوان چیئرمین ظفر اقبال گوندل اور بدعنوان افسر واحد خورشید کنور ڈائریکٹر جنرل انوسٹمنٹ کے دور میں میسرز ایم ٹیکس لمیٹڈ کراچی سے 19.51 روپے فی شیئر کے حساب سے 17,350,000 شیئر مبلغ 337,659,924 روپے کی خطیر رقم سے خریدے ۔ جبکہ ان کی اصل مارکیٹ قیمت 2.73 روپے فی شیئر تھی ۔

مذید پڑھیں : قائد ملت کالج کے پرنسپل نے DG کالجز کے اختیارات استعمال کرنا شروع کر دیئے

اس طرح محمد ایوب خان نے میسرز AKD سیکوریٹیز لمیٹڈ کراچی کے سی ای او محمد فرید عالم، محمد اقبال،ڈائریکٹر اور طارق کی ملی بھگت سے میسرز ایمٹیکس پرائیویٹ لمیٹڈ کراچی کے انتہائی کم قیمت مالیت کے لاکھوں شیئرز انتہائی بلند نرخوں پر خریدنے کے اسکینڈل میں EOBI کو 290 ملین روپے کا ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا ۔

جس پر FIA کراچی نے انکوائری نمبر 34/2014 بتاریخ 23 ستمبر 2014ء میں محمد ایوب خان کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال اور سنگین مالی بدعنوانیوں کے الزامات ثابت ہو جانے کے بعد FIA کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے محمد ایوب خان ولد امیر دوست محمد خان، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل فنانس اینڈ اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ اور میسرز AKD سیکیورٹیز لمیٹڈ کراچی کے CEO محمد فرید عالم ولد محمد عالم قریشی، محمد اقبال ولد اسماعیل، ڈائریکٹر اور طارق ولد آدم کیخلاف EOBI کے پنشن فنڈ کو 290 ملین روپے کا ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے الزام میں ریاست بذریعہ علی مراد، انسپکٹر FIA کراچی کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی زیر دفعہ 409/109/34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔ جس پر محمد ایوب خان تاحال عبوری ضمانت پر ہے ۔اس FIR کے درج ہونے کے بعد اس وقت کی EOBI کی انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے محمد ایوب خان، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل فنانس اینڈ اکاؤنٹس کو بذریعہ نوٹیفکیشن نمبر 07/2016 بتاریخ 8 جنوری 2016ء ملازمت سے معطل کر دیا تھا ۔

3 کروڑ روپے ذاتی اکائونٹ میں منتقل کرنے والا افسر کیوں بچایا گیا ؟

2013ء میں EOBI ریجنل آفس ایبٹ آباد کے ملازم علی حسین نے آجروں کی جانب سے EOBI ریجنل آفس ایبٹ آباد میں جمع کرائے جانے والے 3 کروڑ روپے مالیت کے کنٹری بیوشن کو غیر قانونی طور پر اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں جمع کرایا تھا ، اس سنگین الزام کے تحت اس اہم کیس کی انکوائری ایوب خان کو دی گئی تھی ۔جنہوں نے علی حسین سے مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض انکوائری رپورٹ میں سفارش کی کہ ملزم علی حسین نے اعتراف جرم کر لیا ہے اور وہ کنٹری بیوشن کے تین کروڑ روپے واپس کرے گا ، لہذا اسے محض عہدہ میں تنزلی کی سزا دیکر تنبیہہ کرتے ہوئے درگزر سے کام لیا جائے ۔

محمد ایوب خان کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ملزم علی حسین کو پنشن فنڈ کی 3 کروڑ روپے کی رقم میں سنگین خیانت کی سخت سزاء سے بچا کر محض اس کی ایک سالانہ ترقی روک لی گئی تھی ۔ جس کے باعث بد دیانت اور بدعنوان ملازم علی حسین آج بھی EOBI اسلام آباد آفس میں ملازمت سے پوری طرح لطف اندوز ہو رہا ہے ۔

 

لیکن کچھ عرصہ قبل پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اسلام آباد میں اس غبن کی باز گشت سنی گئی اور کمیٹی نے اس بھاری رقم کی عدم بازیابی پر سخت برہمی کا اظہار کیا تو تو EOBI کی انتظامیہ کو بھی غفلت سے ہوش آگیا ۔ لیکن دوران تحقیق یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ محمد ایوب خان کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ملزم علی حسین نے EOBI کو یہ رقم سرے سے واپس ہی نہیں کی تھی اور فنانس اینڈ اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس میں اس بھاری رقم کے جمع کرائے جانے کا کوئی ریکارڈ بھی دستیاب نہیں ہے ۔ لیکن ای او بی آئی کی ڈیپوٹیشن پر تعینات انتظامیہ نے معاملہ ٹھنڈا ہوتے ہی حسب دستور مال مفت دل بے رحم پر عمل کرتے ہوئے اس غبن کیس کو بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے اور کیس کا انکوائری افسر محمد ایوب خان اور مرکزی ملزم علی حسین سمیت دیگر ذمہ داران چین کی بانسری بجا رہے ہیں ۔

مزید پڑھیں :غیر رجسٹرڈ سکولوں کے انرولمنٹ اور امتحانی فارمز سے متعلق ڈائریکٹوریٹ سکول کا اہم اعلان

بتایا جاتا ہے کہ 2016ء سے 2022ء تک 6 سالہ عرصہ معطلی کے دوران محمد ایوب خان کو اثر و رسوخ اور انتظامیہ کی مکمل سرپرستی کی بناء پر نہ صرف EOBI کے اہم سرکاری ریکارڈ تک مکمل رسائی رہی , محمد ایوب خان کو 6 برس کی معطلی کے دوران تنخواہوں، پرکشش مراعات، بھاری میڈیکل الاؤنس، انٹر ٹینمنٹ الاؤنس، سینکڑوں لٹر پٹرول، ڈرائیور الاؤنس ،ہزاروں روپے کے اخراجات سے گاڑی کی مرمت اور مینٹیننس، گھریلو ملازم کی تنخواہوں، گھر پر لینڈ لائن فون، موبائل فون چارجز اور گھر پر دو اخبارات کی سہولت سے دی جاتی رہی ہے ۔ ان کے استعمال میں EOBI کی ایک سرکاری ٹویوٹا کرولا 1800سی سی گاڑی رجسٹریشن نمبر GW-290 بھی ہے ۔

واضح رہے کہ EOBI کے پنشن فنڈز میں غبن کے متعدد کیسز پر پہلے ہی FIA اور NAB کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں تحقیقات جاری ہیں اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں جون 2013ء کے ازخود نوٹس 35/2013 کے تحت 40 ارب روپے کے میگا لینڈ اسکینڈل کی سماعت تاحال جاری ہے ۔اس کے علاوہ 12 نومبر 2021ء کو FIA انٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے EOBI اور EOBI کے ایک ذیلی ادارہ پاکستان ریئل اسٹیٹ انوسٹمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (PRIMACO) کے مشکوک ٹھیکوں، تعمیرات میں اختیارات کے ناجائز استعمال،غبن اور سنگین مالی بدعنوانیوں کے خلاف انکوائری نمبر 19/2014 پر تعزیرات پاکستان کی دفعات 409،420،448 اور 471 کے تحت ایک FIR نمبر 65/2021 بتاریخ 12 نومبر 2021 کو درج کی گئی تھی ، جس میں ایوب خان کا نام بھی ہے ۔

ایوب خان کو کب اور کیوں بحال کیا گیا ؟

اس سلسلہ میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ڈائریکٹر جنرل HR ڈپارٹمنٹ شازیہ رضوی کے احکامات پر ابریز مظفر ملک، ڈپٹی ڈائریکٹر HR ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس کراچی کے دستخطوں سے جاری شدہ نوٹیفکیشن نمبر 147/2022 بتاریخ 14 اپریل 2022 کے مطابق 2016 سے معطل شدہ اور عبوری ضمانت پر رہنے والے افسر محمد ایوب خان کو نہ صرف فوری طور پر ملازمت پر بحال کر دیا گیا تھا ۔ بلکہ اسی تاریخ کو جاری شدہ ایک اور نوٹیفکیشن نمبر 148/2022 کے ذریعہ محمد ایوب خان، کو ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایڈجوڈیکینگ اتھارٹی،I کراچی ( سندھ اور بلوچستان ) کے منفعت بخش اور انتہائی کلیدی عہدہ پر تعینات کر دیا تھا ۔

ای او بی آئی کے ملازمین اور ای او بی آئی کے لاکھوں پنشنرز نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف، وفاقی وزیر ساجد حسین طوری اور بورڈ آف ٹرسٹیز کے صدر ذوالفقار حیدر سے محمد ایوب خان سمیت EOBI کے دیگر اعلیٰ افسران کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال، EOBI پنشن فنڈ میں غبن ، لوٹ کھسوٹ، لاقانونیت اور بڑے پیمانے پر کرپشن کے فوری خاتمہ اور ان کرپشن اسکینڈلز میں ملوث بااثر اور طاقتور افسران کے خلاف فوری طور پر سخت کارروائی کی اپیل کی ہے ۔

عظمت خان
عظمت خانhttps://alert.com.pk
عظمت خان بحیثیت رپورٹر گزشتہ 15 برس سے ملک کے مختلف پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں اور مذہبی، تعلیمی ، لیبر، فراہمی و نکاسی آب سمیت مختلف امور اور شعبہ جات کے حوالے سے خبروں اور تحقیقاتی رپورٹس کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں ۔ وہ کتابوں کے مصنف اور ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔
متعلقہ خبریں