اتوار, نومبر 27, 2022
اتوار, نومبر 27, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

بلاگسیدہ ہندؓہ کا سنہرا اسلامی دور ۔۔۔۔۔!!!

سیدہ ہندؓہ کا سنہرا اسلامی دور ۔۔۔۔۔!!!

تحریر : محمد عادل انصاری

جنگ یرموک کا معرکہ بپا ہے۔۔۔چھ دن شدید ترین لڑائی جاری رہی۔۔۔۔مسلمانوں کے لشکر میں سے میمنہ منتشر ہونے لگا۔۔۔۔لڑائی کا پورا زور میمنہ پہ تھا۔۔۔کبھی یہ لشکر مقابلہ کرتا اور کبھی ہزیمت کھا کے پیچھے کو ہٹتا۔۔۔صحابیات کی اک بڑی تعداد لشکر کے پیچھے موجود تھی۔۔۔جب لشکر پیچھے کو ہٹنے لگا تو سیدہ خولہ بنت ازور سمیت دیگر خواتین اور ہند بنت عتبہ یہ رجزیہ اشعار پڑھ کے مجاہدین کا لہو گرمانے لگیں جو انہوں جنگ احد کے روز پڑھے تھے ۔۔۔۔

ہم طارق کی بیٹیاں ہیں اور نرم نرم فرش پہ چلتی ہیں جیسے سبک رفتار دوست چلتا ہے ، ہمارے سروں میں مشک کی خوشبو ہے اور گلوں میں موتی ہیں
اگر تم رخ کرو تو ہم معانقہ کریں اور نرم فرش بچھا دیں، اور اگر پھرو تو ہم تم جدا ہو جائیں اور یہ جدائی ہمیشہ کی جدائی ہو ،بہت کم عاشق ہیں جو اپنی چاہتوں کی حمایت کرتے ہیں ۔ بس تم اپنے دشمنوں کو مارو اور پہل کرنے والوں کے ساتھ نیکی کرو ۔

سیر کی کتب میں ہے کہ یہ اشعار پڑھتے ہوئے میمنہ کا رخ کیا اور مسلمانوں کو واپس آتے دیکھ کر چیخ چیخ کے جنگ پہ آمادہ کرنے لگیں اور فرمانے لگیں اللہ تبارک تمہاری حالتوں سے واقف ہے نیز اس کی جنت سے کہاں بھاگتے ہو اور شکست کھا کر کدھر جانا چاہتے ہو ؟ ۔

اسی اثناء میں سیدنا ابوسفیانؓ کو پلٹتے دیکھا تو گھوڑے پہ چوب مار کے گویا ہوئیں ابن صخر ، کہاں کو؟ لڑائی کی طرف لوٹو اور اپنی جان دے دو تاکہ تم اس ترغیب سے پاک ہو جاؤ جو تم نے پہلے رسول اللہ کے مقابلے میں دی تھی (یعنی احد کے موقع پر) یہ سن کر ابوسفیانؓ نئے ولولے سے لڑائی کی طرف پلٹے۔۔۔۔اس دن ایسا گھمسان کا رن پڑا کہ ایک ہی وقت میں ایک لاکھ تیر پھینکے گئے۔۔۔۔اولوں کی طرح تیروں کا مینہ برسا اور یوں آن ہی آن میں سات سو مجاہدین یک چشم ہو گئے۔۔۔۔اسی مناسبت سے اس دن کو یوم التعویر یعنی یک چشم ہونے کا دن کہتے ہیں ۔ ان میں مغیرہ بن شعبہؓ ، سعید بن زیدؓ ، ابوسفیانؓ صخر بن حرب ، راشد بن سعیدؓ کی بھی ایک ایک آنکھ شہید ہوئی ۔۔۔ تیروں کی بارش سے لشکر میں کہرام مچا اور مجاہدین کہنے لگے

وا عیناہ، وابصراہ، واحدقناہ
افسوس ہماری آنکھیں جاتی رہیں، افسوس ہماری بینائی جاتی رہی۔۔۔

قصہ مختصر انتشار کی اس کیفیت میں مسلمان خواتین کے ولولے، جوش، حمیت اور سیدہ ہندؓ کی تحریص سے مجاہدین میں اک ولولہ بیدار ہوا، سخت ترین معرکے کے بعد رومی لشکر کو شکست فاش ہوئی۔ صحابہؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے یوم التعویر کے معرکے سے سخت معرکہ کوئی نہ دیکھا ۔

علی زیدی تاریخ کے ان سنہری اوراق سے نابلد ہے ۔۔۔ نبی کریم علیہ السلام کی ساس پہ اس کا طنزیہ جملہ مسلمانوں کے جذبات ، ایمان سے صریح کھلواڑ ہے ۔۔۔ ہم اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس گستاخی کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے ۔

متعلقہ خبریں