اتوار, نومبر 27, 2022
اتوار, نومبر 27, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

پاکستاناسلام آبادارشد شریف کو کینیا میں شہید کر دیا گیا

ارشد شریف کو کینیا میں شہید کر دیا گیا

کراچی : سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹویئٹر پر ارشد شریف کے پروڈیوسر عدیل راجا نے ایک پوسٹ کی ہے ’’ کہ میرے دوست ، میرے بھائی ارشد شریف کو شہید کر دیا گیا ہے ‘‘ ۔

اس پوسٹ کے کمنٹ میں عدیل راجا کے دوست ایم اکبر باوجوہ نے لکھا ہے کہ میں نے عدیل راجا کے موبائل نمبر پر کال کی ہے تاہم ان کا نمبر بند جا رہا ہے ۔ایک اور کمنٹ میں ایک صارف نے لکھا ہے کہ کینیا میں ارشد شریف کو گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا ہے ۔

تاہم ارشد شریف کے خاندانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کینیا کے شہر نیروبی میں ارشد شریف جاں بحق ہو گئے ہیں ۔ تاہم ادھر کینیا میں پولیس نے نیروبی میں پارٹنر ڈیفنس کمیونٹیز کے ذریعے پاکستان اسٹریٹجک فورم کو تصدیق کی ہے کہ پاکستانی شہری ارشد شریف کو "سڑک سے سفر کرتے ہوئے مسلح حملہ آوروں نے سر میں گولی مار دی”۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے ۔

ارشد شریف کون تھے ؟

ارشد شریف نے تحقیقاتی صحافت کی ، ارشد شریف کے والد محمد شریف پاکستان نیوی میں کمانڈر تھے ، انہیں بہادری اور شاندار کارکردگی پر تمغہ امتیاز ملا تھا ، 2011 میں وہ 79 سال کی عمر میں حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے تھے ۔ والد کے انتقال کی خبر سن کر ارشد شریف کے بھائی اشرف شریف ( پاکستان آرمی میں میجر) بنوں کنٹونمنٹ سے بغیر پروٹوکول کے روانہ ہوئے ، گھر پہنچنے پر ان پر حملہ ہوا اور وہ بھی شہید ہو گئے ۔

میجر اشرف شریف کی عمر35 سال تھی ۔ میجر اشرف شریف کو والد کے جنازے کو کندھا دینے سے پہلے ہی شہید کر دیا گیا ۔ ایک گھر میں دو جنازے اٹھے ۔ میجر اشرف شریف کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ملٹری قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سمیت حکومتی شخصیات نے ارشد شریف کے گھر آنے سے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔

ارشد شریف 22 فروری 1973 کو کراچی میں پیدا ہوئے ، جب کہ راولپنڈی کے گولڈن کالج سے بی اے اور قائداعظم یونیورسٹی سے ایم اے کیا ۔ پڑھائی کے دنوں میں ہی فری لانس جرنلسٹ بن گئے اور اس کے بعد عملی طور پر صحافت سے وابستہ ہوئے ، انہوں نے روئٹرز ڈان نیوز اور آج نیوز اور اس کے بعد دنیا نیوز کے ساتھ وابستہ رہ کر بطور صحافی اور اینکر پرسن اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔

دنیا نیوز پر انہوں نے اپنا پروگرام ’’ کیوں ‘‘ شروع کیا ، لیکن اصل شہرت انہیں اے آر وائی پر ان کے پروگرام ’’ پاور پلے ‘‘ کے ذریعے ملی ۔ سال 2019 میں حکومت پاکستان نے ان کو پرائیڈ آف پرفارمنس کا ایوارڈ دیا ۔ اس کے علاوہ وہ انٹرنیشنل سطح پر آگاہی ایوارڈ ، ایشین انویسٹیگیٹو میڈیا ایوارڈ اور وار کور سپونڈنٹ ایوارڈ سمیت متعدد اعزازات حاصل کر چکے ہیں ۔ وہ خوشگوار شادی شدہ زندگی گزار رہے تھے ۔

ارشد شریف پاکستان کے علاوہ لندن ، پیرس ، اسٹراسبورگ اور کیل سے بھی رپورٹنگ کر چکے تھے ۔ انہیں علاقائی حالات اور انٹرنیشنل چیلنجوں کے بارے میں پوری طرح ادراک تھا ۔ اور وہ ہر طرح کے حالات میں بہترین کام کرنے کا تجربہ رکھتے تھے ۔ ویسے تو اس شریف کے کریڈٹ پر بے شمار سنسنی خیز اور چونکا دینے والی اسٹوریاں ہیں لیکن خاص طور پر جب انہوں نے موٹروے کے ایک منصوبے اور سابق سربراہ احتساب بیورو سیف الرحمان کے حوالے سے اسٹوری کی تھی تو ان کو خاصی شہرت حاصل ہوئی تھی ۔ اس کے علاوہ جب انہوں نے مسلم کمرشل بینک اور میاں منشاء کے نشاط گروپ کے حوالے سے اسٹوریز کرنا شروع کیں تو وہ توجہ کا مرکز رہے ۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں ہونے والے مختلف اقدامات پر انہوں نے تحقیقاتی سٹوریاں کیں ، اس کے علاوہ سینٹ جیمز ہوٹل لندن کی خریداری میں نشاط گروپ کے حوالے سے ان کی اسٹوری کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی ۔ ارشد شریف کسی ایک خاص سیاسی گروپ یا سیاسی جماعت کے حامی نہیں تھے ۔ انہوں نے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں حکومتوں اداروں اور شخصیات کے حوالے سے جو شاندار رپورٹنگ اور تحقیقاتی اسٹوریا میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچائیں ، وہ پاکستانی میڈیا کی تاریخ کا ایک حصہ بن چکی ہیں ، پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے اہم مقدمات میں ارشد شریف کے پروگراموں اور تحقیقاتی رپورٹس کا حوالہ بھی دیا ہے ۔ ارشد شریف بنیادی طور پر دھیمے لہجے میں بات کرنے کے عادی ہیں اور دلیل کے ساتھ بات کرتے ہیں ۔

ارشد شریف پر مقدمات کیوں کرائے گئے ؟

ارشد شریف نے جب مسلم لیگ ن کے خلاف پروگرام کئے ، اس کے بعد انہوں نے اسٹبلشمنٹ کے خلاف بھی پروگرام کئے، جس کے بعد ملک بھر میں ارشد شریف کے خلاف مقدمات درج کئے گئے تھے ۔ مقدمات درج کرانے والوں میں اکثر مدعی خود کرمنل ریکارڈ کے حامل تھے جس کے باوجود پولیس نے ان کی مدعیت میں مقدمات درج کئے تھے ۔

ان میں مٹیاری کا مدعی طیب حسین بھٹی جعلی وکیل تھا ، ایرانی ڈیزل چوری اور اسمگلنگ کے مقدمے میں ملوث رہا ، جب کہ دادو کے مدعی عامرعلی لغاری کی مجرمانہ سرگرمیوں پر تھانہ اے سیکشن میں مقدمات قائم ہیں ۔ چمن میں نعمت اللہ مقدمہ درج کرایا تھا ، طیب حسین بھٹی نے حیدرآباد جبکہ ملیر کراچی میں عبدالرؤف نے مقدمہ درج کرایا تھا ، جن میں دفعات131، 153اور 505 شامل کی گئی تھیں ۔

عظمت خان
عظمت خانhttps://alert.com.pk
عظمت خان بحیثیت رپورٹر گزشتہ 15 برس سے ملک کے مختلف پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں اور مذہبی، تعلیمی ، لیبر، فراہمی و نکاسی آب سمیت مختلف امور اور شعبہ جات کے حوالے سے خبروں اور تحقیقاتی رپورٹس کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں ۔ وہ کتابوں کے مصنف اور ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔
متعلقہ خبریں