ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

تازہ ترینایک عام عادت جسمانی وزن میں اضافہ کا سبب، تحقیق

ایک عام عادت جسمانی وزن میں اضافہ کا سبب، تحقیق

موٹاپا اور ذیابیطس کسی وبا کی طرح دنیا بھر میں پھیلنے والے مسائل ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ موجودہ عہد کے لوگوں میں پائی جانے والی ایک عام عادت ہے ۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ۔ نارتھ وسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق میں انکشاف ہوا کہ رات گئے کھانے کی عادت جسمانی وزن میں اضافے اور ذیابیطس کا باعث بنتی ہے ۔

اس تحقیق میں پہلی بار ثابت کیا گیا کہ جسمانی توانائی کے اخراج میں مددگار مالیکیولر میکنزم کا تعلق جسمانی گھڑی سے ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں:لاہور ایئرپورٹ سے جدہ جانے والے مسافر سے 750 گرام سے زائد ہیروئن برآمد

اس تحقیق میں چوہوں کے 2 گروپس پر تجربات کیے گئے، ایک گروپ کو زیادہ چربی والی غذا کا استعمال دن جبکہ دوسرے کو رات کے وقت کرایا گیا۔ یہ دونوں گروپس ایسے چوہوں کے تھے جو جسمانی طور پر رات کے وقت زیادہ متحرک ہوتے ہیں یا آسان الفاظ میں شب بیدار جانور تھے،ایک ہفتے کے اندر ان چوہوں کے جسمانی وزن میں اضافے کو دریافت کیا گیا جن کو دن کے وقت کھانا دیا گیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ جسمانی طور پر متحرک رہنے کے وقت کھانا صحت مند رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے جس کی وجہ مخصوص اوقات میں توانائی کا اخراج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان اوقات میں جسم ایسے خلیات خارج کرتا ہے جو جسمانی وزن میں اضافے کی روک تھام کرکے صحت کو بہتر بناتے ہیں ۔

مزید پڑھیں:کے پی حکومت نے این سی ایس یونیورسٹی کے میوزیکل شو کا سخت نوٹس لے لیا

تحقیق کے مطابق کھانے کے وقت، نیند اور موٹاپے کے درمیان تعلق موجود ہے اور رات گئے کھانے سے جسمانی گھڑی کے افعال متاثر ہوتے ہیں جس سے چربی سے منسلک خلیات میں منفی تبدیلیاں آتی ہیں، اس تحقیق کے نتائج جرنل سائنس میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل اکتوبر 2022 میں ہی امریکا کے Brigham اینڈ ویمنز ہاسپٹل کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ رات گئے کھانا کھانے کی عادت موٹاپے کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ درحقیقت اس عادت کے نتیجے میں جسم کی وزن میں کمی لانے کی صلاحیت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس تحقیق میں موٹاپے کے شکار 16 افراد کو شامل کیا گیا تھا اور ہر ایک کے لیے کھانے کے اوقات طے کیے گئے اور ایک ہی قسم کا کھانا کھانے کا کہا گیا ۔ ان افراد میں کھانے کے اوقات کے جسم پر مرتب اثرات کا جائزہ بھی لیا گیا اور دیکھا گیا کہ جسم کس طرح چربی کا ذخیرہ کرتا ہے ۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ تاخیر سے کھانے کی عادت سے بھوک اور کھانے کی خواہش میں کردار ادا کرنے والے ہارمونز پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور لوگوں میں زیادہ کھانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں:گلگت جانے والی گاڑی دریا میں گر گئی ، 7 مسافروں کی تلاش جاری

تحقیق میں معلوم ہوا کہ تاخیر سے کھانا کھانے والے افراد کا جسم کیلوریز کو سست روی سے جلاتا ہے اور جسم میں چربی زیادہ جمع ہونے لگتی ہے۔ یعنی اگر وہ کم کھانا بھی کھائیں تو بھی چربی بڑھنے سے موٹاپا طاری ہو جاتا ہے ۔

متعلقہ خبریں