اتوار, نومبر 27, 2022
اتوار, نومبر 27, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

بلاگخوراک اور صحت

خوراک اور صحت

پکوانوں کی تاریخ

پکوانوں کی تاریخ کے بارے میں تحقیق کرنے والے مختلف ممالک کے سائنسدان، ذائقوں کے ماہرین اور پکوانوں کے قدیم ترین نسخے پڑھنے کے ماہرین مل کر دنیا کے قدیم ترین پکوانوں کو دوبارہ تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن یہ آسان کام نہیں ہے۔ کیونکہ سائنسدانوں کے ہاتھ لگنے والے ہزاروں برس پرانے نسخے بہت مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر ’دنبے کا سٹو‘ پکانے کے لیے لکھا طریقہ محض اس میں استعمال ہونے والی اشیا کی فہرست جیسا معلوم ہوتا ہے۔ ’گوشت استعمال ہوتا ہے۔ پانی تیار کیجیے۔ باریک دانوں والا نمک ڈالیے۔ سوکھا جُو ڈالیے۔ پیاز اور تھوڑا دودھ۔، پیاز اور لہسن کچل کر ڈالیں۔‘
تاہم اس طریقہ کار کو لکھنے والے سے یہ کیسے پوچھا جائے کہ کون سی چیز کب ڈالنی ہے؟ اسے لکھنے والا تو چار ہزار برس قبل انتقال کر چکا ہے۔چند بین الاقوامی محققین، پکوانوں کی تاریخ کے ماہرین اور کھانا پکانے کے نسخے پڑھنے کے ماہرین مل کر دنیا کے چار قدیم ترین پکوانوں کو دوبارہ اسی طرح تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے گوژکو بارژامووچ کہتے ہیں ’یہ اسی طرح ہے جیسے کسی پرانے گانے کو دوبارہ بنانا۔ کوئی ایک نوٹ پوری دھن بدل سکتا ہے۔‘

یہ ترکیبیں تختیوں پر لکھی ہیں جو ییل یونیورسٹی کے محکمہ آثار قدیمہ میں بابل کی تہذیب کی کلیکشن سے حاصل کی گئی ہیں، تاکہ ذائقے کے ذریعے اس تہذیب کو بہتر سمجھا جا سکے۔

ان میں سے تین تختیاں 1730 قبل مسیح کی ہیں اور چوتھی ایک ہزار برس بعد کی ہے۔

چاروں تختیوں کا تعلق قدیم عراقی تہذیب سے ہے جن میں بابلی اور آشوریی تہذیبیں شامل ہیں۔ یہ علاقے اب عراق، شام اور ترکی میں آتے ہیں۔

پہلی تین تختیوں میں سالن والے تقریباً 25 پکوانوں میں استعمال ہونے والی چیزوں کا ذکر ہے۔ دو اور تختیوں پر مزید دس سالن کا ذکر ہے، جن کے ساتھ انھیں پکانے کے طریقے اور پیش کرنے کے مشورے بھی شامل ہیں لیکن وہ اتنی خراب حالت میں ہیں کہ انھیں پڑھنا ممکن نہیں ہے۔

ماہرین کے سامنے بڑا چیلنج یہ ہے کہ تاریخ کے اوراق میں قید ان ترکیبوں کو جدید دور کے مصالحے استعمال کرتے ہوئے ایسے تیار کیا جائے کہ اصل ذائقہ برقرار رہے۔

ہاورڈ یونیورسٹی کی فوڈ کیمسٹ پیا سورینسن کہتی ہیں ’یہ نسخے زیادہ تفصیلی نہیں ہیں، بمشکل چار لائینوں میں ترکیبیں بتائی گئی ہیں۔ یعنی بہت کچھ تصوراتی ہے۔‘

ايسا معلوم ہوتا ہے کہ تختیوں پر لکھی سبھی ڈشز کسی خاص مقصد کے لیے تیار کی جانے والی ڈشز ہیں، مثال کے طور پر ان میں ایک ڈش ’پشروتم‘ ہے جو کہ ایسا سوپ ہے جو زکام سے متاثرہ افراد کو راحت پہنچا سکتا ہے۔

برژامووچ نے بتایا کہ فہرست میں دو بیرونی ممالک کے پکوان بھی شامل ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسا تو اب بھی ہوتا ہے۔ جیسے لزانیا اور ہومس جیسی کھانے کی چیزیں اب دنیا بھر میں مقبول ہیں اور مختلف انداز میں کھائی جاتی ہیں۔

برژامووچ کہتے ہیں ’ان چار ہزار برس پرانی تختیوں سے ان پکوانوں کے متعلق ایک جھلک ملتی ہے۔ کچھ پکوان ان کے اپنے ہیں اور کچھ پردیسی ہیں۔ جو پردیسی پکوان ہیں وہ برے نہیں، صرف مختلف ہیں۔‘

تختی پر لکھی ایک ڈش ’ایلامائٹ‘ سالن ہے جسے تیار کرنے میں گوشت کے ساتھ خون بھی استعمال ہوتا ہے۔ ایسا اسلامی اور یہودی مذہب میں ممنوع ہے، لیکن اس ڈش کا جنم موجودہ ایران میں ہوا تھا۔ اس میں سووہ بھی استعمال کیا جاتا ہے، جس کا ذکر تختیوں میں کہیں اور نہیں ملتا۔

لیکن یہ فرق آج بھی موجود ہے۔ عراقی پکوانوں میں سووہ کا استعمال شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ تاہم ایرانی پکوانوں میں سووہ کا استعمال بہت عام ہے۔ برژامووچ کہتے ہیں کہ اس سے پتا چلتا ہے کہ پکوانوں کا تہذیبوں کے درمیان تبادلہ قدیم دور سے جاری ہے۔اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اس دور میں بھی مختلف تہذیبوں کے درمیان کاروبار اور دوسروں کے طور طریقوں کی قدر کا جذبہ موجود تھا۔ یہ بھی پتا لگتا ہے کہ اس دور کے خانسامے بھی کسی خاص دعوت میں اپنے ہنر کی نمائش کے بارے میں سنجیدہ تھے۔

عراقی پکوانوں کی ماہر نوال نصراللہ نے بتایا کہ ایک پکوان ’چکن پوٹ پائی‘ جیسا لگتا ہے۔ اس میں بھی روٹی نما بیس پر بابلی سوس میں لپٹے پرندے کے گوشت کے ٹکڑے ہوتے تھے۔

قرون وسطی اور عرب پکوانوں کی محقق نوال نے قدیم تختیوں پر لکھے کھانا پکانے کے طریقہ کار کا جدید طریقوں سے تعلق سمجھنے میں مدد کی ہے۔

نوال کہتی ہیں ’آج عرب ممالک میں، خاص طور پر عراق میں ہمیں اپنی ’سٹفڈ ڈشز‘ پر فخر ہے۔ میں اس بات سے بہت متاثر ہوئی کہ کس طرح قدیم ڈشز موجودہ دور تک پہنچنے میں کامیاب رہیں۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ‘بہت سی باتیں قدیم دور میں جیسی تھیں ویسی ہی آج بھی ہیں، جیسا کہ ہم صرف نمک اور کالی مرچ نہیں استعمال کرتے، بلکہ ہم کئی اور مصالحے ڈالتے ہیں تاکہ خوشبو بھی اچھی ہو۔ ہم انھیں ایک ساتھ بھی نہیں ڈالتے، بلکہ پکانے کے ساتھ آہستہ آہستہ ڈالتے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم شوربے کو ہلکی آنچ پر پکنے دیتے ہیں۔‘

نوال کہتی ہیں کہ اس دور میں دنبے کا سٹو جو کے آٹے کے روٹی جیسے ٹکڑے پکا کر انھیں کسی سالن میں بھگو کر کھایا جاتا تھا۔ لیکن ایسا تو آج بھی کیا جاتا ہے روٹی یا بریڈ کی شکل میں۔

پکانے کے جدید طریقے
گذشتہ ایک صدی کے دوران پکانے کے طریقوں میں تبدیلیاں اور تنوع آیا ہے اور کھانا پکانے کے عمل میں گرمی حاصل کرنے کے قدیم ذرائع کے علاوہ دیگر چیزیں شامل ہو گئی ہیں۔ مائکرو ویوو، بجلی کے چولہے اور ٹوسٹر اب تقریباً ہر گھر میں موجود ہیں جو آگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کا متبادل ہیں۔

سائنسدان مائکرو ویوو میں کھانا پکانے کو زیادہ صحت مند طریقہ کہہ رہے ہیں، یہ اس پر بھی منحصر ہے کہ آپ ان میں کیا پکا رہے ہیں۔

مثال کے طور پر سپین میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ مشروم کو مائکرو ویوو میں پکانا زیادہ بہتر طریقہ ہے کیونکہ اس سے ان کے اندر پائے جانے والے اینٹی آکسیڈنٹس محفوظ رہتے ہیں۔ اینٹی آکسیڈینٹس وہ اجزا ہوتے ہیں جو انسانی خلیوں کو ٹوٹ پھوٹ سے بجاتے ہیں۔ اس کے بجائے مشرومز کو اگر فرائی یا ابالا جائے تو ان میں اینٹی آکسیڈینٹس کم ہو جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ اس بات کے بھی شواہد موجود ہیں کہ سبزیوں کو کم پکانے اور پکانے کے لیے کم پانی استعمال کرنے سے ان کے وٹامن اور مفید غذائی اجزا باقی رہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مائکرو ویوو کا استعمال بہتر ہے کیونکہ اس طریقے سے سبزیوں میں شامل مفید اجزا کم سے کم ضائع ہوتے ہیں۔ جبکہ ابالنے کے دوران مفید اجزا پانی میں چلے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ بھاپ میں پکانا بھی ابالنے سے بہتر ہے۔ کوئی بھی چیز اگر آپ زیادہ دیر تک اور زیادہ درجۂ حرارت میں پکاتے ہیں تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

تیز آنچ میں فرائی کرنے کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض چکنائی زیادہ گرم ہونے کے بعد ایسے کیمیائی عمل سے گزرتی ہے کہ اس میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ اس کے مفید اجزا تبدیل ہو کر نقصان دہ بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر زیتون کا تیل تیز گرم ہونے کی صورت میں اپنا کئی فائدے مند اجزا کھو بیٹھتا ہے جیسے اولیوکینتھال جو جسم میں سوجن ختم کرنا ہے۔ اس کے بجائے ایلڈی ہائڈز جیسے نقصان دہ اجزا پیدا ہو جاتے ہیں۔

زیتون کا تیل اپنے فائدے مند اجزا کی وجہ سے آج بھی ماہرین کا انتخاب ہے بشرطیکہ اسے تیز آنچ میں بہت دیر تک نہ پکایا جائے۔

جینا میچی اوکی کہتی ہیں کہ گوشت اور کاربوہائڈریٹس کو پکا کر کھانے سے ہی ان کے غذائی اجزا ملتے ہیں اوریہ کچا کھانے سے بہتر ہے۔ آخر کار ہمارے آبا و اجداد نے کسی وجہ سے ہی چیزوں کو پکانا شروع کیا تھا۔

کھانا پکانے کے بعض فوائد اور نقصانات
ایک نئی تحقیق کے مطابق کھانا پکانے کے بعض طریقے صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ یہ طریقے زہریلے مادے پیدا کرنے سے لے کر پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرات کو بڑھانے تک کئی مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔

جینا میچی اوکی یقین سے کہتی ہیں ‘ارتقائی عمل سے گزر کر ہمارے انسان بننے کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی خوراک کو پکانا شروع کر دیا تھا۔’

‘جب ہم صرف کچی غذا کھاتے تھے تو ہمیں مسلسل کھانا پڑتا تھا کیونکہ اس کچی خوراک میں سے غذائی اجزا کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے جسم کو بہت محنت کرنی پڑتی تھی۔’

حیاتیات کے ماہرین میچی اوکی سے متفق بھی ہیں جنھوں نے سیسکس یونیورسٹی میں اس موضوع پر مطالعہ کیا کہ کسی شخص کی غذا اور طرزِ زندگی اُس کے مدافعتی نظام پر کیسے اثر ڈالتے ہیں۔ حقیقتاً اس بات کے بہت شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ آگ کے استعمال سے انسانی ارتقا کا براہ راست تعلق ہے۔

جب ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے کھانے کو پکانا اور تبدیل کرنا شروع کیا تو اس سے جسم میں کیلوریز اور چکنائی کی مقدار بڑھنے لگی۔ اس کی وجہ سے کھانا ہضم کرنے میں توانائی کم خرچ ہوتی تھی اور زیادہ غذائی اجزا حاصل ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ کھانے کو کم چبانا بھی پڑتا تھا۔

یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ خوراک کو پکا کر کھانے کی وجہ سے انسان کے جبڑا چھوٹا ہوا اور دماغ کے بڑے ہونے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بڑھنے میں مدد ملی۔ اس کے علاوہ پکانے سے کھانے پر نشوو نما پانے والے نقصان دہ بیکٹریا بھی مر جاتے ہیں جن کی وجہ سے فوڈ پوائزننگ کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

یہ تو ہیں اشیا کو پکا کر کھانے کے فوائد لیکن زیادہ درجۂ حرارت پر پکانے کے کچھ پوشیدہ نقصانات بھی ہیں۔

ایک طرف دنیا میں دوبارہ کچے کھانوں اور پکانے کے نت نئے طریقے مقبول ہو رہے ہیں تو دوسری طرف سائنسدان زیادہ پکے ہوئے کھانوں کو زیرِ بحث لا رہے ہیں۔

اکریلامائڈ: زیادہ پکانے سے کینسر کا خطرہ
کسی ڈش کو تیار کرنے کے لیے پکانے کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں۔ کھانا پکانے کے کچھ مخصوص طریقوں کے لیے یہ بات اہم ہے کہ آپ کیا پکا رہے ہیں؟

خاص طور پر ایسے کھانوں کے لیے جن میں نشاستہ ہوتا ہے برطانیہ میں کھانوں کے معیار کی نگرانی کرنے والا ادارہ فوڈ سٹینڈرڈ ایجنسی یا ایف ایس اے ایک خطرے کی نشاندہی کر چکا ہے اور وہ ہے اکریلامائڈ۔

یہ کیمیکل صنعتوں میں کاغذ اور پلاسٹک بنانے میں استعمال ہوتا ہے لیکن جب کھانے کی کسی چیز کو بہت زیادہ درجۂ حرارت میں اور بہت دیر تک بھونا، تلا یا گرل پر پکایا جائے تو اکریلامائڈ نامی یہ کیمیکل پیدا ہوتا ہے۔

کھانے کی ایسی اشیا جن میں کاربوہائیڈریٹس زیادہ ہوتے ہیں جیسے آلو، ڈبل روٹی، سیریل، کافی، کیک اور بسکٹ وغیرہ میں یہ کیمیکل زیادہ پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ پکائے جانے کے دوران جب ان کا رنگ گہرا ہونے لگے، یہ زیادہ بھورے رنگ یا دیکھنے میں جلی ہوئی دکھائی دیں تو اس کیمیکل کے پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

اکریلامائڈ کے بارے میں تحقیق کی گئی ہے کہ اس کی وجہ سے کینسر ہو سکتا ہے حالانکہ اس کے بارے میں تازہ شواہد جو کینسر اور اس کیمیکل کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتے ہیں وہ جانوروں سے حاصل ہوئے ہیں۔ میچی اوکی، غذا کے ماہرین اور اداروں کا موقف ہے کہ ایسی غذا کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے جس میں اکریلامائڈ کی زیادہ مقدار موجود ہو۔

زیادہ مقدار میں اکریلامائڈ پیدا ہونے سے بچنے کے لیے ایف ایس اے کا مشورہ ہے کہ آلو پکاتے وقت کوشش کریں کہ سنہرے رنگ آتے ہی مزید نہ پکائیں اور اگر آلو کو زیادہ درجۂ حرارت میں پکانا ہے تو انھیں ریفریجیریٹر میں مت رکھیں کیونکہ ٹھنڈے آلو شوگر خارج کرتے ہیں جو امینو ایسڈ کے ساتھ مل کر پکنے کے دوران اکریلامائڈ بناتے ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اکریلامائڈ کو پیدا ہونے سے روکنے کے لیے ان اشیا کو ضرورت سے زیادہ نہ پکائیں۔

تاہم میچی اوکی کا کہنا ہے کہ صرف اکریلامائڈ ہی واحد خطرہ نہیں ہے۔ اگر لوگوں کی غذا متوازن نہیں ہو گی اور وہ نقصان دہ چیزیں کھاتے رہیں گے تو کینسر کے خطرات بھی بڑھیں گے۔

تائیوان میں سنہ 2017 میں ہونے والی ایک تحقیق میں کھانا پکانے کے مختلف طریقوں کا موازنہ کیا گیا ہے۔ اس تحقیق کے مصنفین کے مطابق سن فلاور کوکنگ آئل اور ڈیپ فرائنگ اور پین فرائنگ کی وجہ سے ایسے زہریلے مواد پیدا ہوتے ہیں جن میں سانس لینے سے پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے تیل جن میں انسیچوریٹڈ فیٹ کم ہوتا ہے جیسے پام اور ہلکی فرائنگ سے یہ خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔

باورچی خانے کے کارآمد نسخے:
ایک اچھے باورچی کو معلوم ہوتا ہے کہ سیکھنے کے لیے ہمیشہ بہت کچھ ہے۔ لیکن آپ کو اس کے لیے بہت زیادہ کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔ بعض اوقات اس شعبے سے منسلک بہترین افراد کے ٹھوس مشورے ہی بہت ہیں۔

یہاں کچھ بہترین نسخے پیش کیے جا رہے ہیں۔

1۔ لکڑی کا چاپنگ بورڈ استعمال کریں

زیادہ تر پروفیشنل کچن میں حفظان صحت کے لیے سٹین لیس سٹیل کے چاپنگ بورڈ کا استعمال ہوتا ہے۔

بہت سی جگہ پلاسٹ اور شیشے کے چاپنگ بورڈ بھی استعمال ہوتے ہیں لیکن گھریلو کچن کے لیے لکڑی کا چاپنگ بورڈ بہترین ہے۔

یہ شہری خيال خام ہے کہ لکڑی جراثیم مخالف ہوتی ہے۔ سچائی یہ ہے کہ لکڑی کے چاپنگ بورڈ بیکٹریا کو زیادہ دیر تک زندہ رہنے کے لیے انتہائی خراب حالات فراہم کرتے ہیں۔

لکڑی مسام دار ہوتی ہے اور یہ اپنی سطح کی رطوبت کو جذب کر لیتی ہے جس کے سبب اس کا باہری حصہ تیزی سے خشک ہو جاتا ہے اور اس طرح بیکٹریا کو پھلنے پھولنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔

2۔ ہر طرح کے کھانے کے لیے سرسوں یا رائی کا تیل بہترین ہے

جے رینر نے کچن کابینہ کے ماہر طباخ کے ایک پینل سے پوچھا کہ ہر قسم کے کھانے کے لیے وہ عام طور پر کون سا تیل استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر وہ چربی استعمال نہیں کر رہے ہیں تو پھر وہ سرسوں کا تیل پسند کرتے ہیں۔

یہ عام طور پر اپنا ذائقہ نہیں رکھتا اس لیے وہ دوسرے ذائقوں پر حاوی نہیں ہوتا اور اس کے جلنے کی سطح بھی بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے اس گرم کرنے پر دھوئیں کا بھی خوف نہیں رہتا۔

یہ ہر قسم کی غذا کے لیے مناسب ہے اور یہ بہت مہنگا بھی نہیں اس لیے ہر قسم کے کھانا پکانے میں اس کا استعمال ہو سکتا ہے۔

3۔ گوشت بنانے کے بعد اسے ٹن کے فوائل سے ڈھک دیں یہاں تک کہ وہ کمرے کے درجۂ حرارت پر آ جائے

گوشت میں اس کا پورا رس اس وقت بچ جاتا ہے جب اسے پکانے کے بعد تھوڑی دیر تک ٹھنڈا ہونے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ جب گوشتہ ٹھنڈا ہوتا ہے تو اس میں موجود رس گاڑھا ہوتا جاتا ہے تاکہ باہر نہ نکلے اس لیے جب آپ اسے کھاتے ہیں تو یہ زیادہ رسدار لگتا ہے۔

کتنی دیر رہنے دیں؟ اس کا انحصار گوشت کے ٹکڑے کے سائز اور آپ کے ذائقے پر ہے۔

گوشت کی پتلی قتلی کو کم وقت جبکہ بڑے ٹکڑے یا پورے بھنے چکن کو زیادہ وقت دیا جائے گا۔

گوشت کو ٹھنڈا ہونے کے لیے چھوڑنے کی کوئی سائنس نہیں ہے یہ آپ کے کچن کے درجۂ حرارت پر بھی منحصر کرتا ہے۔

برطانوی شیف اور ٹی وی پر کھانے کی جج اینڈی اولیور اپنے بھنے ہوئے گوشت کو کوکر کے پاس گرم کچن میں چھوڑ دیتی ہیں کیونکہ درجۂ حرارت میں اچانک آنے والی تبدیلی سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘میں گوشت کو ٹھنڈا ہونے کے لیے چھوڑنے کی ابتدا میں فوائل پیپر سے ڈھک دیتی ہوں اور پھر اسے دس منٹ بعد ہٹا لیتی ہوں۔’

لیکن حتمی طور پر آپ ہی وہ شخص ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ کب آپ کا گوشت کھائے جانے کے لیے مناسب درجۂ حرارت پر پہنچ گیا ہے۔

گوشت خوروں کو دو باتوں پر غور کرنا پڑے گا، ایک تو یہ کہ وہ کتنی مرتبہ گوشت کھاتے ہیں اور اسے پکاتے کیسے ہیں۔

مختلف تحقیقوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرخ گوشت کو آگ پر بھوننے، بار بی کیو اور اوون میں تیز درجۂ حرات میں پکانے سے امریکہ میں خواتین میں ذیابیطس کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ حالانکہ یہ ابھی واضح نہیں کہ یہ اثر صرف خواتین تک محدود کیوں ہے اور مردوں میں کیوں نہیں۔

ایک دوسری تحقیق میں بھی تیز آگ اور زیادہ درجۂ حرارت میں سرخ گوشت، مرغی اور مچھلی پکانے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے اور یہ خواتین اور مردوں دونوں کے لیے خطرے کا باعث ہے۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ ان تحقیقوں میں دیگر عناصر کو مد نظر نہیں رکھا گیا ہے جیسے طرز زندگی، ورزش اور شوگر کا استعمال وغیرہ۔ بہرحال تحقیق کاروں نے پکانے کے کچھ متبادل طریقوں کا مشورہ ضرور دیا ہے جن میں ابالنا اور بھاپ میں کھانا پکانا شامل ہے۔

4۔ سبزی کا زیادہ سے زیادہ حصہ استعمال کریں

اگر آپ سبزی کا کچھ حصہ نکال کر پھینک دیتے ہیں تو آپ غلط کرتے ہیں۔

اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ کو دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے کیونکہ بہت سی زبزیوں کا جو حصہ کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے وہ بہت ذائقے دار ہوتا ہے۔

اور یہ نہ بھولیں کہ آپ نے اس مسترد کیے جانے والے حصے کی بھی قیمت ادا کی ہے۔

پھول گوبھی کے پتوں سے لے کر پھول دار سرے، مٹر کی پھلیوں اور پیاز کے چھلکوں کو پھینک کر آپ کچھ ضائع کر رہے ہیں۔

زوے لافلنگ کہتی ہیں کہ ‘آپ پھول گوبھی کے باہر کے پتے اور پھلیاں بالکل کھا سکتے ہیں۔ یہ مزیدار ہوتے ہیں۔’

لافلنگ کہتی ہیں کہ ‘آپ کے پھول گوبھی کے پتوں کو آپ سیخ پر بھی بھون سکتے ہیں۔ بعض اوقات ان کو چھیلنا ہوتا ہے لیکن عام طور پر یہ بہت نرم اور میٹھے ہوتے ہیں۔’

سکاٹس فوڈ رائٹر سو لارینس کہتی ہیں کہ سبزیوں بہت سے نظر انداز کردیے جانے والے خزانے ہوتے ہیں۔ جیسے مٹر کی پھلیا۔ ان میں بہت ذائقہ ہوتا ہے۔ وہ بہت میٹھے ہوتے ہیں اور ان کا اپنے آپ میں اچھا سوپ تیار ہو سکتا ہے۔

لارینس کہتی ہیں: ‘آپ بہت سی چھیلی ہوئی مٹر کی پھلیاں لیں اور بعد میں اس میں کچھ مٹر بھی شامل کر لیں۔ آپ اپنے مٹر کے چھلکوں کو ہرگز نہ پھینیکیں۔’ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اجوائن کے ڈنٹھل کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔ وہ بہت زائقے دار ہوتے ہیں۔

ٹم ہے وارڈ کہتے ہیں کہ سپاؤٹ کا سرا بھی بہت عمدہ ہوتا ہے۔

ان کا مطلب گوبھی کا اوپر والا حصہ ہے جسے آپ خراب سمجھتے ہیں۔

ریچل میک کورمیک کہتی ہیں کہ آپ چھلکے سمیت تمام تر پیاز کا استعمال کر سکتے ہیں یہاں تک کہ وہ جل نہ جائے۔ وہ واقعی بہت اچھی ہوتی ہے۔

5- غذا میں وٹامنز کا استعمال

اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ہم صحیح وٹامنز کا استعمال کرتے ہیں، متوازن غذا کو برقرار رکھنا جسم کے مناسب طریقے سے کام کرنے اور دماغ کے علم حاصل کرنے کی صلاحیت کے زوال کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ امریکہ کی نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی تفصیلات کے مطابق ’خلیے کے عام کام، نشوونما اور ترقی کے لیے 13 وٹامن ضروری ہیں۔‘

ویسے تو وٹامنز قدرتی طور پر کھانے میں پائے جاتے ہیں، اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم یہ جانیں کہ ہمیں کون کون سی خوراک نوش کرنی چاہیے۔

ہارورڈ یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کی غذائی ماہر نفسیات، اوما نائیڈو بی بی سی منڈو کو بتاتی ہیں کہ آپ کے دماغ کی صحت کا راز یہ ہے کہ ’آپ کیا نوش کرتے ہیں اور اس کے انتخاب کرنے کی آپ کے پاس طاقت ہے۔‘

ڈاکٹر نائیڈو ’ This is your brain on Food‘ کے عنوان سے لکھی جانے والی ایک کتاب کی مصنفہ ہیں۔ یہ کتاب ان کھانوں کے بارے میں ایک گائیڈ ہے جو آپ اپنی دماغی صحت کے لیے کھا سکتے ہیں، کون سی غدا آپ کے دماغ کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہے اور جن سے آپ کو پرہیز کرنا چاہیے۔

ماہرین کے نزدیک ہمارے دماغ کو جوان اور صحت مند رکھنے کے لیے ایک اہم چیز وٹامنز ہیں۔

یہاں ہم غذائی ماہرِ نفسیات سے کی گئی گفتگو کا نچوڑ پیش کرتے ہیں۔ہمارے دماغ کی صحت کے لیے وٹامن B کی روزانہ تجویز کردہ مقدار کتنی ہے؟

جب کھانے کی بات آتی ہے تو ہم وٹامنز کی گولیوں میں موجود ان کی صحیح خوراکوں کے بارے میں مکمل طور پر یقین نہیں رکھتے۔

یہ وہ موضوع ہے جس کے بارے میں، میں ایک صحت مند اور مکمل خوراک کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہوں، جو متوازن ہو۔

ہر ایک شخص مکمل طور پر منفرد ہے۔ اپنے کھانے میں صحت مند اور متوازن غذا شامل کرنے کی کوشش کریں۔ صرف پھلیاں نہ کھائیں، صرف سبز پتوں والی سبزیاں نہ کھائیں کیونکہ پھر آپ دیگر سات اقسام کے وٹامنز B کھو دیں گے۔

انٹرنیٹ پر آپ مختلف وٹامنز اور تجویز کردہ روزانہ کی مقدار تلاش کر سکتے ہیں۔کیا وٹامن بی کے استعمال کے کوئی نقصانات بھی ہیں؟

یہ جاننا ضروری ہے کہ تجویز کردہ مقدار میں کتنا اور کیا کھایا جانا چاہیے۔ آپ کا جسم آپ کی کھائی ہوئی غذا کو ضرورت کے مطابق جذب کرتا ہے اور باقی پیشاب کے ذریعے خارج کر دیتا ہے۔

جب وٹامنز کی بات آتی ہے تو یہ ماننا کہ کچھ اضافی کھانے یا پینے سے آپ کو زیادہ مدد ملے گی اکثر ایک افسانہ ہوتا ہے۔ تجویز کردہ مقدار کا استعمال کریں اور صحت بخش اور متوازن غذا نوش کیجیے۔

6- فولک ایسڈ کا استعمال

برطانیہ میں حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آٹے میں فولک ایسڈ شامل کرے تا کہ بچوں کو پیدائشی نقائص سے بچایا جا سکے۔

ایک نئے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ وٹامن بی کی زیادہ خوراک سے پیدائش سے قبل بچوں میں سپائنا بیفائڈا (ایک نُقص جس میں حرام مغز یا سپائنل کورڈ کو محفوظ رکھنے والی جھلی مکمل نہیں ہوتی) سے بچنے میں مدد ملتی ہے اور عام لوگوں کو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

دنیا کے 80 سے زائد ممالک میں آٹے میں فولک ایسڈ شامل کیا جاتا ہے تاہم برطانیہ میں یہ عمل روک دیا گیا تھا۔

فولک ایسڈ کے اچھے ذرائع

پالک، کیل، برسلز سپراؤٹ (بند گوبھی کی شکل کی ایک سبزی)، اور بروکلی

پھلیاں اور دالیں (مٹر، بلیک آئیڈ بینز)

خمیر اور گائے کے گوشت کے عرق

مالٹا اور مالٹے کے رس

آٹے کا بھوسہ اور اناج

مرغ، جگر اور شیل فش

7- کھانے میں مرچ کا استعمال

سرخ مرچ کا سب سے اہم جزو ’کیپسائسِن‘ نامی مرکب ہے۔ جب ہم مرچیں کھاتے ہیں تو کیپسائسِن کے سالمے ہمارے جسم میں موجود درجۂ حرارت محسوس کرنے والے خلیوں سے تعامل کرتے ہیں اور نتیجے میں دماغ کو پیغام ملتا ہے کہ وہ جسم میں گرمی پیدا کرے۔

بعض مطالعوں سے نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ کیپسائسِن عمر بڑھانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

سنہ 2019 میں اٹلی میں کی گئی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ جو لوگ ہفتے میں چار مرتبہ اپنی خوراک میں مرچ استعمال کرتے تھے ان میں شرح اموات ان لوگوں کے مقابلے میں کم تھی جنھوں نے کبھی مرچ نہیں کھائی۔

اسی طرح سنہ 2015 میں چین میں مرچ کھانے والے پانچ لاکھ چینی شہریوں میں مرنے کا خطرہ کم پایا گیا تھا۔ روزانہ مصالحہ دار خوراک کھانے والوں میں ہفتے میں ایک بار مصالحہ دار کھانا کھانے والوں کے مقابلے میں موت کا خطرہ چودہ فیصد تک کم دیکھا گیا۔

ہارورڈ سکول آف پبلک ہلتھ سے وابستہ تغدیہ کے پروفیسر لو چی کا کہنا ہے کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ زیادہ مصالحہ کھانے والوں میں کینسر، امراضِ قلب اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے ہلاکتوں کی شرح کم تھی۔‘

مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اگر آپ زیادہ مقدار میں مرچیں کھانا شروع کر دیں گے تو کچھ عرصے بعد آپ ان بیماروں سے محفوظ ہو جائیں گے۔

چی نے خوراک میں مرچ کی مقدار اور تواتر کو عمر، جنس، خواندگی کی سطح، ازدواجی حیثیت، شراب اور سگریٹ نوشی اور ورزش جیسے عوامل سے علیحدہ رکھ کر یہ مطالعہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان افراد میں اموات کی شرح میں کمی کا سبب جزوی طور پر کیپسائسِن ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مصالحہ دار خوراک کے بعض اجزا، مثلاً کیپسائسِن، غذا کے جسم کا حصہ بننے کے عمل پر اثر انداز ہوتا ہے اور خون میں کُلیسٹرول کی مقدار کو کنٹرول کرتا ہے اور جسم میں سوزش پر قابو پانے میں بھی مددگار ہے۔ شاید مصالحے کی اسی خاصیت کی وجہ سے ہمارے مشاہدے میں اس کے یہ اثرات آئے ہوں۔‘

بعض دوسرے مطالعوں میں یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ کیپسائسِن جسم میں توانائی کو بڑھاتا اور اشتہا کو کم کرتا ہے۔

قطر یونیورسٹی کے پروفیسر زومِن شی کا کہنا ہے کہ مرچ موٹاپے اور زیادہ فشارِ خون یا ہائی بلڈ پریشر سے بچانے میں بھی مددگار ہوتی ہے۔ہم جب انھوں نے چینی باشندوں کی ذہنی صلاحیت پر مرچ کے اثرات کا مشاہدہ کیا تو انھوں نے دیکھا کہ زیادہ مرچیں کھانے والوں میں ذہنی صلاحیت کم تھی۔ یہ اثر ان کی یادداشت پر بہت نمایاں تھا۔ دن میں 50 گرام مرچ کھانے والوں نے بتایا کہ ان کی یادداشت میں کمی کا خطرہ دگنا تھا۔ تاہم ایسی تحقیق میں شرکا کی اپنی رائے کو قابل اعتبار نہیں سمجھا جاتا۔

مرچ کھانے کی وجہ سے پیدا ہونے والا جلن کا احساس لمبے عرصے سے سائنسدانوں کے لیے دلچسپی کا باعث رہا ہے۔ اس سے شاید ہمیں یہ سمجھنے میں بھی مدد ملے کہ مرچوں کا استعمال ہماری ذہنی صلاحیت میں کمی کا باعث کیوں بنتا ہے۔ یہ احساس پودوں کے اس ارتقائی عمل کا حصہ ہے جس کی مدد سے وہ خود کو بیماریوں اور کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔

8- مصالحوں کا استعمال

سب سے زیادہ استعمال ہونے والا مصالحہ مرچ ہے۔ ہماری صحت پر پڑنے والے اس کے اثرات کے بارے میں بہت تحقیق ہوئی ہے جس سے اس کے مثبت اور منفی اثرات کے بارے میں پتا چلا ہے۔

سویا ساس دنیا کے قدیم ترین مصالحوں میں سے ایک ہے، یہ دسترخوان کا 750 سال پرانا ناگزیر جزرہا، یہ چین میں 2200 سال پہلے تخلیق کی گئی اور تیرھویں صدی کے وسط میں اسے بودھ بھکشوؤں نے جاپان میں متعارف کروایا۔ چین کے سویا ساس ’جیانگ‘ جو کہ مٹی کے برتنوں میں خیمر ہوتا ہے اس کے برعکس جاپان کا ’شویو‘ روایتی طور پر لکڑی کے بیرلز میں بنتا ہے جس کی وجہ سے یہ زیادہ ملائم اور ذائقے دار ہوتا ہے۔

سستا اور ہر کھانے میں شامل ہو جانے والا آسان مصالحہ ہونے کی وجہ سے جلد ہی شویو (سویا ساس) جاپان کے باورچی خانوں کا لازمی جز بن گیا۔ جاپان کے پکوانوں کی تشکیل میں اس کا کرادر بہت اہم ہے۔

ایک مشہور شیف اور ریستوان کے مالک ماساہارو موریموتو کا کہنا تھا ’کئی جاپانی پکوان ایسے ہیں جو موجود ہی نہ ہوتے اگر شویو نہ ہوتا۔ مثال کے طور پر سوشی اور ٹیمپورہ۔ یہ ایک لازمی جز ہے۔‘

یاماموتو کے مطابق جہاں شویو کو کھانوں کے قدرتی ذائقے میں اضافے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے وہیں کچھ مقامی پکوانوں کی جڑیں بھی اس امر سے جا ملتی ہیں کہ کس طرح شویو اور اس میں ذائقہ شامل کرنے والا بیکٹیریا جاپان میں پھلے پھولے۔

ٹوکیو کے گہرے تیز شویو سے نمکین یوناگی ایل اور یاکی اونیگری نام کے پکوان تخلیق ہوئے۔ کگاوا کے سنوکی اوڈن نوڈلز بھی شودوشیمسا کے کریمی شویو سے بنتے ہیں۔

کیوٹو اور اوساکا میں شویو قدرے ہلکا اور پتلا ہوتا ہے یہاں زیادہ توجہ سبزیوں اور مچھلی پر دی جاتی ہے۔ اور جنوبی جاپان کے مقامی پکوانوں میں شویو نسبتاً میٹھا ہوتا ہے۔

9- فائبر کا استعمال

اگر ہم آپ کو ایسی معجزاتی خوراک کے بارے میں بتائیں جسے کھانے کے بعد آپ کی عمر دراز ہو جائے گی تو کیا آپ اس میں دلچسپی ظاہر کریں گے؟ یہ قدرتی طور پر دل کے دورے، فالج اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کر دیتی ہے اور یہ آپ کے وزن، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول لیول کو بھی قابو میں رکھتی ہے۔ یہ بھی بتا دیں کہ یہ سستی اور بازار میں عام میں دستیاب ہے۔ یہ ہے فائبر ۔ یہ وہ صحت بخش غذا جو ہماری خوراک کا حصہ نہیں رہی۔

آخر یہ کیا ہے؟ یہ فائبر ہے، ایک تحقیق میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ ہمیں کتنا فائبر کھانا چاہیے اور یہ ہماری صحت کے لیے کیسے مفید ہے۔

محققین میں سے ایک پروفیسر جان کمنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بہت ٹھوس ثبوت ہیں۔ اس سے سب تبدیل ہو جائے گا۔ لوگوں کو اس حوالے سے کچھ کرنا پڑے گا۔’

فائبر یا سیلولوز پر مشتمل خوراک قبض کا جانا مانا علاج ہے لیکن اس کے صحت کے لیے فوائد اور بھی زیادہ ہیں۔

ہمیں کتنا فائبر چاہیے؟ نیوزی لینڈ کی اوٹاگو یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ڈنڈی کے محققین یہ کہتے ہیں کہ لوگوں کی خوراک میں کم از کم روزانہ 25 گرام فائبر شامل ہونا چاہیے۔

ان کے نزدیک صحت بہتر کرنے کے لیے یہ مقدار ’مناسب‘ ہے جبکہ 30 گرام سے تجاوز کرنے کے اپنے فوائد ہیں۔

ہمیں دن میں کتنی بار کھانا کھانا چاہیے؟
کیا ہمیں دن میں تین بار کھانا کھانا چاہیے؟ ممکن ہے کہ آپ دن میں تین بار کھانا کھاتے ہوں۔ جدید دور میں ایسے ہی کھانا کھایا جاتا ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ کھانوں میں سب سے اہم ناشتہ ہے۔ کام پر بھی کھانے کا وقفہ ہوتا ہے اور ہماری سماجی اور گھریلو زندگی بھی کھانوں کے گرد ہی گھومتی ہے۔ لیکن کیا یہ تین کھانوں والا نظام ہمارے لیے صحت مند ہے بھی یا نہیں؟

یہ سوچنے سے پہلے کہ ہمیں دن میں کتنی بار کھانا کھانا چاہیے، سائنسدان ہمیں کہہ رہے ہیں کہ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہمیں کب نہیں کھانا چاہیے۔

اس وقت انٹرمٹنٹ فاسٹنگ، یعنی کسی ایک دن میں آٹھ گھنٹے تک کچھ نہ کھانا، کے بارے میں بہت تحقیق ہو رہی ہے۔

کیلیفورنیا کے سالک انسٹیٹیوٹ فار بایولاجیکل سٹڈیز سے منسلک ایملی منوگن ‘کب کھانا چاہیے’ پر ایک تحقیقی پیپر لکھ چکی ہیں۔وہ کہتی ہیں ‘جسم کو دن میں 12 گھنٹے تک خوراک کا وقفہ دینے سے ہمارے نظام انہضام کو بھی آرام کا موقع ملتا ہے۔‘

یونیورسٹی آف وسکانسن کے سکول آف میڈیسن اینڈ پبلک ہیلتھ سے منسلک ایسوسی ایٹ پروفیسر روزلین اینڈرسن نے انسانی جسم کو یومیہ مطلوب کیلوریز کے بارے تحقیق کی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ روزانہ کھانے میں ایک بڑے وقفے کے فوائد ہیں۔ ‘کھانے میں لمبے وقفے سے جسم کو موقع ملتا ہے کہ وہ ایسے پروٹینز یا لحمیات کو ٹھیک کر سکے جو کسی وجہ سے کھل نہیں سکے ہیں۔ ایسے لحمیات کا کئی قسم کی بیماری سے تعلق جوڑا جاتا ہے۔‘

پروفیسر روزلین اینڈرسن کہتی ہیں کہ ہمارے جسموں کا ارتقا انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کی طرز پر ہوا ہے۔ ‘اس سے جسم کو موقع ملتا ہے کہ وہ جسم میں توانائی کو جمع کرے اور اسے وہاں استعمال کرے جہاں اس کی ضرورت ہے اور وہ ہمارے جسموں میں جمع توانائی کو خارج کرنے کے نظام کو بھی متحرک کرے۔‘

سپورٹس سائنس کے پروفیسر انتونیو پاولی کے مطابق کھانے کے دوران لمبے وقفے جسم میں گلسرین کے استعمال میں بہتری لاتے ہیں۔ کھانا کھانے کے بعد جسم میں گلوکوز لیول میں کم اضافے کی وجہ سے جسم کم توانائی کو جمع کر پاتا ہے۔پروفیسر پاولی کہتے ہیں کہ ہمارے ڈیٹا سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ جلدی ڈنر سے ہماری خوراک میں وقفے کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے جس کے جسم پر مثبت اثرات ہوتے ہیں۔

اگر تمام خلیوں میں شوگر لیول کم ہو تو یہ اچھا ہے، کیونکہ اگر شوگر لیول زیادہ ہو تو ایک عمل شروع ہو جاتا ہے جسے گلائیکیشن کہتے ہیں۔ گلائیکیشن کے دوران گلوکوز اور لحمیات کا ملاپ ہوتا ہے جس سے جسم میں سوجن بڑھ جاتی ہے اور ذیابیطس کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

اگر انٹرمٹنٹ فاسٹنگ صحت کے لیے مفید ہیں تو پھر دن میں کتنی بار کھانا کھانا چاہیے؟

کچھ ماہرین کے خیال میں دن میں صرف ایک بار کھانا ہی بہترین عمل ہے۔

نیویارک کی کورنل یونیورسٹی کالج آف ہیومن ایکالوجی سے منسلک ڈیوڈ لویٹسکی کہتے ہیں کہ ایسا بےتحاشا ڈیٹا موجود ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ اگر آپ کو کھانے کی تصاویر دکھائی جائیں تو آپ کو کھانے کی طلب ہو گی۔

‘جب فریج اور فریزر نہیں ہوتے تھے تو ہم صرف اسی وقت کھانا کھاتے تھے جب کھانا فراہم ہوتا تھا۔ تاریخ میں ہمیشہ انسان ایک وقت کا کھانا کھاتا تھا۔‘

انسانی خوراک کے تاریخ پر نظر رکھنے والے سیرن چیرنگٹن ہولنز کہتے ہیں کہ قدیم روم میں صرف دوپہر کے وقت صرف ایک وقت کا کھانا کھایا جاتا تھا۔

کیا دن میں ایک بار کھانا کھانے سے ہم بھوکے نہیں رہ جائیں گے؟ ڈیوڈ لیوٹسکی کہتے ہیں کہ بھوک اکثر ایک نفسیاتی احساس ہے۔

‘جب 12 بجتے ہیں تو ہمیں کھانے کی طلب ہونے لگتی ہے۔ آپ کو شاید ناشتے کی عادت ہو۔ ڈیٹا سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اگر آپ ناشتہ نہیں کریں گے تو آپ کے جسم میں کل دن میں کم کیلوریز داخل ہوں گیں۔‘

البتہ ڈیوڈ لویٹسکی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہ طریقہ تجویز نہیں کرتے۔لیکن ایملی منوگن دن میں صرف ایک کھانے کا مشورہ نہیں دیتی ہیں۔

وہ سمجھتی ہیں کہ جب ہم کچھ نہیں کھاتے تو ہمارے خون میں فاسٹنگ گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور اگر ایک عرصے تک ایسا ہی ہوتا رہے تو اس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

منوگن کہتی ہیں کہ خون میں فاسٹنگ گلوکوز کی مقدار کو کم سطح پر رکھنے کے لیے ہمیں ایک سے زیادہ بار کھانا کھانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ جسم کو یہ پیغام نہ جائے کہ وہ فاقہ کر رہا ہے جس کے ردعمل میں وہ فاسٹنگ گلوکوز بنانا شروع کر دے۔

منوگن کہتی ہیں کہ دن میں دو سے تین بار کھانا کھانا اچھا عمل ہے۔

‘اگر دن کے ابتدائی حصے میں کیلوریز کی ایک بڑی مقدار کو کھا لیا جائے تو یہ صحت کے مفید ہے۔ رات دیر سے کھانا کھانے کو دل کے عارضے، نظام ہضم اور ذیابیطس کی بیماریوں سے جوڑا جاتا ہے۔‘

اگر آپ اپنا زیادہ کھانا دن کے ابتدائی حصے میں کھاتے ہیں تو جسم تمام توانائی کو استعمال کر سکتا ہے اور اسے چربی کے طور جسم میں جمع نہیں کرے گا۔لہٰذا، سائنس یہ کہتی ہے کہ دن بھر کھانے کا سب سے صحت بخش طریقہ یہ ہے کہ دو یا تین کھانے، رات بھر طویل روزہ رکھنے کے ساتھ، دن میں بہت جلدی یا بہت دیر سے کھانا نہ کھایا جائے، اور زیادہ کیلوریز کو دن کے پہلے حصے میں کھا لیا جائے، یہی صحت کے لیے مفید ہے۔

ایملی منوگن کا کہنا ہے کہ کھانے کے بہترین اوقات کو مقرر نہ کرنا ہی بہتر ہے، کیونکہ یہ ایسے لوگوں کے لیے مشکلات کا باعث بن جاتے جو بے قاعدہ وقت میں کام کرتے ہیں، جیسے کہ رات کی شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔

منوگن کہتی ہیں کہ لوگوں کو یہ بتانا کہ وہ شام سات بجے کے بعد کھانا نہ کھائیں ایسے لوگوں کے لیے مسائل پیدا کرتا ہے جو مختلف اوقات میں کام کرتے ہیں۔

اگر آپ اپنے جسم کو باقاعدگی سے رات کو فاقہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، تو کوشش کریں کہ زیادہ دیر یا جلدی نہ کھائیں اور آخری کھانے میں کم کھانے کی کوشش کریں۔

‘آپ اپنے پہلے کھانے میں تھوڑی تاخیر اور آخری کھانے کو آگے بڑھانے سے ڈرامائی تبدیلی دیکھ سکتے ہیں۔ کسی اور چیز کو تبدیل کیے بغیر اسے باقاعدہ بنانے سے بڑا اثر ہو سکتا ہے۔‘

محققین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ آپ جو بھی تبدیلیاں کرتے ہیں وہ مستقل بنیادوں پر ہونی چاہیں اور تسلسل عمل بہت ضروری ہے۔

خوراک اور صحت پر طرزِ زندگی کے اثرات
برطانیہ میں میڈیکل کے طلبہ نے کہا ہے کہ انھیں خوراک اور صحت پر طرزِ زندگی کے اثرات کے بارے میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا۔

طلبہ کے مطابق جو انھیں پڑھایا جاتا ہے وہ بعد میں ہسپتالوں میں کام کرنے کے دوران عملی طور پر زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوتا۔

ایک ممتاز ڈاکٹر نے کہا ہے کہ ان کے 80 فیصد مریضوں کی بیماریوں کا تعلق طرزِ زندگی اور خوراک سے ہوتا ہے۔ ان بیماریوں میں ذیابیطس، موٹاپا اور ڈیپریشن شامل ہیں۔

اس سال برطانوی محکمۂ صحت این ایچ ایس صرف ذیابیطس پر 11 ارب پاؤنڈ سے زیادہ خرچ کرے گا، جب کہ علاج کے دوران کام سے چھٹی، سماجی دیکھ بھال وغیرہ سے یہ خرچ دگنا ہو جائے گا۔

طویل عمر کا راز کیا ہے، خوراک، عبادت یا اعتدال؟
دنیا میں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں کے رہنے والوں کی عمر کافی طویل ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک ایسا قصبہ ہے جو بارانی جنگلات اور سرفنگ کرنے والوں میں مشہور ساحلوں سے گھرا ہوا ہے۔ دو علاقے بحیرۂ روم کے فیروزی پانیوں کے درمیان جزیرے ہیں۔ ایک اور قصبہ جاپان کے بحر الجزائر کے آخری حصے میں واقع ہے جبکہ اس سلسلے کی پانچویں جگہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کا ایک چھوٹا سا شہر ہے جس کے نام کا مطلب خوبصورت پہاڑی ہے۔

پہلی نظر میں تو آپ کو ایسی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آئے گی کہ آپ ان پانچ علاقوں کے درمیان کسی تعلق یا مماثلت کے بارے میں غور کریں۔ کوسٹا ریکا میں نیکویا، اٹلی میں سارڈینیا، یونان میں اکاریا، جاپان میں اوکیناوا اور کیلیفورنیا میں لوما لنڈا۔ یہ سب علاقے دنیا کے مختلف کناروں پر واقع ہیں اور ان میں کوئی خاص بات دکھائی نہیں دیتی۔

لیکن اگر آپ طویل اور صحت مند زندگی کے خواہش مند ہیں تو شاید پیدا ہونے کے لیے یہ بہترین علاقے ہیں۔ ان علاقوں کو بلو زون کہا جاتا ہے جہاں 100 برس تک زندہ رہنے کا امکان امریکہ میں اوسطاً امکان سے دس گنا زیادہ ہے۔

اٹلی سے تعلق رکھنے والے وباؤں کے ماہر جیانی پس اور بیلجیئم کے ماہر آبادیات مائیکل پولین نے سب سے پہلے بلو زون کی اصطلاح بنائی۔ یہ دونوں حضرات سارڈینیا میں شرحِ اموات پر تحقیق کر رہے تھے۔ سنہ 2000 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں اپنی تحقیق کے دوران یہ ان علاقوں پر نیلے رنگ سے نشان لگاتے تھے جہاں لوگوں کی عمریں طویل ہوتی تھی۔ یہ دونوں محققین ایک امریکی صحافی ڈین بیوٹنر کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ ان لوگوں نے دنیا میں کئی ایسے علاقوں کو شناخت کی جہاں اوسط عمر بہت زیادہ تھی۔ ان لوگوں کی یہی تحقیق سنہ 2008 میں ایک کتاب کی شکل میں بھی سامنے آئی۔

اس کے بعد آنے والے 12 برسوں میں کئی سائنسدانوں نے بلو زونز کے بارے میں اس تحقیق کو آگے بڑھایا اور ان علاقوں میں طویل عمر کی وجوہات کے بارے میں کئی دلچسپ نظریات سامنے آئے۔دنیا میں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں کے رہنے والوں کی عمر کافی طویل ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک ایسا قصبہ ہے جو بارانی جنگلات اور سرفنگ کرنے والوں میں مشہور ساحلوں سے گھرا ہوا ہے۔ دو علاقے بحیرۂ روم کے فیروزی پانیوں کے درمیان جزیرے ہیں۔ ایک اور قصبہ جاپان کے بحر الجزائر کے آخری حصے میں واقع ہے جبکہ اس سلسلے کی پانچویں جگہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کا ایک چھوٹا سا شہر ہے جس کے نام کا مطلب خوبصورت پہاڑی ہے۔

آئیے پہلے عمومی رجحانات کا جائزہ لیتے ہیں۔

1: کھانا کم عمر زیادہ

جیسا کہ بیوٹنر نے اپنی کتاب میں لکھا تھا تمام بلو زونز میں رہنے والوں کے طرزِ زندگی میں کچھ خصوصیات ملتی جلتی ہیں۔

پہلی چیز ہے غذا۔ خاص طور پر ماضی میں بلو زونز میں رہنے والے اکثر لوگ بھوک سے کم کھایا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر اوکیناوا میں رہنے والے بوڑھے لوگ ‘ہارا ہاچی بو’ نامی قدیم اصول کی پابندی کرتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ جب آپ کا معدہ 80 فیصد تک بھر جائے تو کھانے سے ہاتھ اٹھا لیجیے۔

اس طریقے پر عمل کرنے سے بوڑھے ہونے کا عمل سست ہو جاتا ہے۔

وسکونسن یونیورسٹی میں میٹابولزم (جسم میں غذا کا کیمیائی عمل سے گزرنا اور توانائی میں تبدیل ہونا) اور عمر گزرنے کے عمل پر تحقیق کرنے والی روزلین اینڈریسن کی جانوروں پر طویل تحقیق سے معلوم ہوتا ہے بندروں کی ایک نسل میکاکس بھوک سے کم کھاتے ہیں اور اسی وجہ سے ان میں کینسر اور ذیابیطس اور دل کی بیماری جیسی عمر سے منسلک بیماریوں کا خطرہ کافی کم ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ جانور اپنی عمر سے کم دکھائی دیتے ہیں اور ان کے جسم پر موجود گرم بالوں کی تہہ کا رنگ بھی دیر سے تبدیل ہوتا ہے یعنی سرمئی ہوتا ہے۔

ان فوائد کی مکمل وجوہات تو ہم ابھی تک پوری طرح سمجھ نہیں سکے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ کیلوریز کو محدود کرنے سے جسم میں وہ زہریلے مادے کم جمع ہوتے ہیں جو میٹابولزم کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ زہریلے مادے ہمارے خلیوں کو تباہ کرتے ہیں۔ کچھ سائنسدانوں کا یہ خیال ہے کہ کم کھانے اور کم کیلوریز کی وجہ سے جسم پر کم دباو پڑتا ہے اور جسم کو خلیوں کی مرمت کا زیادہ موقع ملتا ہے۔

امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی میں ماہرِ جینیات ڈیڈاہیلی گوونداراجو کے مطابق کیلوریز محدود کرنے سے ڈی این اے میں نقصان دہ تبدیلیوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے کینسر جیسی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔

‘کیلوریز کی مقدار کم کرنے سے ڈی این اے کی ٹوٹ پھوٹ کم ہو جاتی ہے اور اس کی مرمت کا کام بہتر ہو جاتا ہے۔’ اس کے علاوہ بلو زونز میں زیادہ تر خوراک سبزیوں اور پودوں پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے دل کی صحت برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

2: روحانی تعلق

کھانے پینے کی عادات کے علاوہ ان افراد کی سماجی زندگی بھی اہم ہے۔ بلو زون میں رہنے والے ایسی برادریوں کی طرح رہتے ہیں جو مکمل طور پر آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ یہ اب ایک تسلیم شدہ بات ہے کہ اپنے لوگوں کے آس پاس ہونے اور قریبی تعلق کا احساس ذہنی دباو کو کم کرتا ہے۔ برادری میں دوستی اور تعلق کو نبھانے کے لیے مجموعی طور پر زیادہ ذہنی اور جسمانی سرگرمیوں کا حصہ بننا صحت کے لیے بہتر ہوتا ہے۔

امریکہ کی برایگھم ینگ یونیورسٹی میں ماہرِ نفسیات جولیان ہولٹ لنسٹیڈ کی تحقیق کے مطابق ورزش اور اچھی خوراک کی طرح لوگوں کے آپس میں اچھے تعلقات بھی صحت کے لیے ضروری ہیں۔

بلو زونز میں مذہب بھی سماجی تعلقات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لوما لِنڈا کے زیادہ تر رہائشی ایڈونٹسٹ مسیحی ہیں جبکہ نیکویا اور سارڈینیا کے لوگ کیتھولک ہیں، ایکاریا والے گریک آرتھوڈاکس مسیحی ہیں اور اوکیناوا کے مقامی لوگ رایکیون مذہب کی پیروی کرتے ہیں۔

امریکی صحافی ڈین بیوٹنر نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ کُل 263 بلو زونز میں سے پانچ میں انھوں نے جب لوگوں سے انٹرویو کیے تو معلوم ہوا کہ ان علاقوں میں لوگ کیسے ایک قسم کی روحانی برادری کا حصہ ہیں۔

یہ روحانی تعلق نہ صرف ایک سماجی تعلق فراہم کرتا ہے بلکہ مذہبی رسومات کی ادائیگی سے زندگی کو مقصد بھی ملتا ہے، دکھ درد کے لمحات میں دلجوئی ملتی ہے۔ اس کی وجہ سے مجموعی طور پر لوگوں کی عمر میں ایک سے پانچ برس کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

3: گرم مشروبات

بلو زونز کے درمیان ان مماثلتوں کے علاوہ وہاں کے لوگوں کی کچھ دیگر مخصوص عادتوں کی وجہ سے بھی طویل عمر کے رازوں کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔

جب بات خوراک کے کچھ مخصوص عناصر کے بارے ہو رہی ہو تو یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ یونانی جزیرے اکاریا کے رہائشی دن میں کئی مرتبہ چائے اور کافی پیتے ہیں اور یہی عادت خطے میں دل کی بیماریاں کم ہونے کی وجہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ بات اس بارے میں کی جانے والے کئی تحقیقوں میں سامنے آ چکی ہے کہ دن میں کئی مرتبہ یہ گرم مشروبات پینے سے دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ اِس کی شاید ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان میں میگنیشیئم، پوٹاشیئم، نیاسِن اور وٹامن ای جیسے مائکرو نیوٹرینٹس ہوتے ہیں جو کئی بیماریوں کا سبب بننے والے زہریلے مادوں کو صاف کر دیتے ہیں۔

پتلے پیالوں میں بننے والی یونانی کافی کے بارے میں خیال ہے کہ صحت کے لیے اچھی ہوتی ہے کیونکہ یہ ایسے مادے خارج کرتی ہے جو جسم میں سوجن کو کم کرتے ہیں۔ سوجن کی وجہ سے عمر سے منسلک کئی بیماریاں بڑھتی ہیں مثلاً اس کی وجہ سے شریانوں میں ایسے مادے پیدا ہوتے ہیں جو دل کے دورے اور فالج کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے یونانی کافی جیسے مشروبات کا باقاعدگی سے استعمال ان خطرات کو کم کرتا ہے۔

یہ مشروبات ذیابیطس کے خطرے کو بھی کم کرتے ہیں۔ ان میں موجود کلوروجینک ایسڈز خلیوں میں توانائی کے حصول کو درست رکھتے ہیں اور اس طرح خون میں شوگر کی سطح توازن میں رہتی ہے۔ یونان میں یونیورسٹی آف ایتھنز سے منسلک کرسٹینا کرایسوہو کہتی ہیں کہ اس سے جسم میں گلوکوز کے ہضم ہونے کا عمل بہتر ہوتا ہے۔

یہ مشروبات طویل عمر کی ضمانت تو نہیں ہیں لیکن اگر ساتھ میں غذا بھی متوازن اور بھوک سے کم ہو تو یہ عمر میں اضافے اور صحت مند زندگی میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ اوکیناوا اور سارڈینیا کی طرح اکاریا میں بھی لوگوں کی خوراک میں گوشت کم اور تازہ پھل اور سبزیوں کا استعمال زیادہ ہے۔

4: غیر معمولی سبزی اور پھل

اوکیناوا کے رہائشیوں کی خوراک میں شکرقند اور کریلے باقاعدگی سے شامل ہیں۔ یہ دونوں چیزیں بھی عمر بڑھانے کا ایک نسخہ ہیں۔ جاپان میں تو چاول بنیادی عذا ہے لیکن اوکیناوا کے لوگوں کے لیے یہی کام شکرقند کرتی ہے۔ شکرقند کی ایک خصوصیت تو یہ ہے کہ خون میں آہستہ آہستہ توانائی خارج کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں وٹامن اے، سی اور ای ہوتے ہیں جو ایسے اینٹی آکسیڈنٹس ہیں جو جسم میں زہریلے مادوں کی صفائی اور مدافعتی نظا
م کی مدد کرتے ہیں۔ شکرقند میں موجود پوٹاشیئم بلڈ پریشر کو بھی کم کرتی ہے۔

دوسری جانب اوکیناوا کے لوگ سلاد، ٹیمپورا اور جوس کے علاوہ مختلف کھانوں میں کریلے استعمال کرتے ہیں۔ اکاریا میں یونانی کافی کی طرح کریلوں میں بھی ایسی خصوصیات ہوتی ہیں جن کی وجہ سے جسم میں گلوکوز کی سطح متوازن اور کھانے کے ہضم ہونے کا نظام درست رہتا ہے۔ اس کی وجہ سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بہت کم ہو جاتا ہے۔

5: علاقے کی مخصوص ساخت

ابھی اس پر کم تحقیق ہوئی ہے لیکن یہ امکان موجود ہے کہ کسی علاقے کی ساخت اور محلِ وقوع عمر کے طویل ہونے پر اثرانداز ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر بلو زونز میں شامل سارڈینیا پہاڑوں اور خوبصورت وادیوں والے علاقے میں ہے۔ وہاں رہنے والے زیادہ تر لوگ فارموں پر کام کرتے ہیں۔ پہاڑی راستوں پر چلنا ایک محنت طلب کام ہے جس کی وجہ سے صحت اچھی رہتی ہے۔ اس علاقے کی قدرتی ساخت اور روایتی طرزِ زندگی کی وجہ سے یہ لوگ ایتھلیٹس کی طرح ہوتے ہیں۔

6: اعتدال پسندی کا اصول

یہ بات واضح ہے کہ بلو زون میں رہنے والوں کی طویل عمر کا راز کسی ایک عنصر میں پوشیدہ نہیں ہے بلکہ اس کا انحصار کئی عناصر پر ہے۔ ان میں سے کچھ باتیں مختلف بلو زونز کے درمیان مشترک ہیں جبکہ بعض کسی مخصوص علاقے تک محدود ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان علاقوں میں رہنے والوں کی بہت سی باتوں سے ہم بھی طویل عمر کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں۔

اعتدال سے کھانا، غذا میں پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال، باقاعدگی سے ورزش کرنا، کافی اور چائے پینا اور روحانی اطمینان حاصل کرنا چاہے وہ کسی عبادت گاہ میں جانے سے ملے یا پہاڑی راستوں پر چہل قدمی سے، یہ وہ کام ہیں جنھیں ہم اپنی روز مرہ زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں۔

نوٹ: يہ تمام معلومات بى بى اردو کى مختلف رپوٹس اور جائزوں سے ماخوذ ہے-

متعلقہ خبریں